column in urdu, Secularism and Islam 0

سیکولرزم اور اسلام: دو مختلف زاویۂ ہائے فکر, ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
سیکولرزم جدید دنیا کا ایک معروف فکری اور عملی نظام ہے جس کی بنیاد مذہب اور ریاست کی علیحدگی پر رکھی گئی ہے۔ مغرب میں اس تصور نے ایک تاریخی پس منظر میں جنم لیا۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں کلیسا نے نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی، سائنسی اور سماجی زندگی پر بھی اجارہ داری قائم کر لی تھی۔ اس غیر فطری غلبے کے نتیجے میں فکری جمود، سائنسی زوال اور انسانی آزادیوں کی پامالی نے جنم لیا۔ چنانچہ ردِ عمل کے طور پر نشاۃِ ثانیہ اور بعد ازاں روشن خیالی کی تحریکیں اٹھیں، جن کے نتیجے میں سیکولرزم ایک عملی نظام کی صورت میں سامنے آیا۔
سیکولرزم کی اہم خصوصیات
سیکولرزم کی چند بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. مذہب اور ریاست کی علیحدگی
سیکولرزم کے مطابق مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے، جبکہ ریاستی، سیاسی اور قانونی امور انسانی عقل اور اجتماعی تجربے کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے۔
2. انسانی عقل کی بالادستی
اجتماعی معاملات میں وحی یا الہامی ہدایت کے بجائے انسانی عقل، سائنسی تحقیق اور اکثریتی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دی جاتی ہے۔
3. مذہبی غیر جانبداری
سیکولر ریاست بظاہر تمام مذاہب کے ساتھ یکساں رویہ رکھتی ہے، تاہم مذہب کو قانون سازی اور اقتدار کے دائرے سے باہر رکھتی ہے۔
4. انفرادی مذہبی آزادی
فرد کو عبادت، مذہبی رسومات اور ذاتی عقائد کی آزادی دی جاتی ہے، جب تک وہ ریاستی نظام میں مداخلت نہ کرے۔
5. اجتماعی اخلاقیات کا غیر مذہبی تصور
اخلاقیات کی بنیاد مذہب کے بجائے انسانیت، سماجی معاہدے اور وقتی ضرورتوں پر رکھی جاتی ہے۔
یہ نظام مغربی معاشروں میں اس لیے کامیاب ہوا کہ وہاں کے مذاہب بنیادی طور پر انفرادی اور اخلاقی نوعیت کے تھے اور ان کے پاس ریاستی نظم و نسق کے لیے مکمل ضابطہ موجود نہ تھا۔
اسلام کا نقطۂ نظر
اسلام کا تصورِ حیات سیکولرزم سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اسلام محض چند عبادات یا اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ قرآن و سنت انسانی زندگی کے ہر شعبے—عقیدہ، عبادت، اخلاق، معیشت، معاشرت اور سیاست—کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اسلام کے نزدیک:
1. دین اور سیاست میں جدائی ممکن نہیں
اسلام میں سیاست اخلاقیات سے الگ کوئی خودمختار شعبہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اسی حقیقت کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
2. حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کی ہے
اسلام میں قانون سازی کا بنیادی حق اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ ریاست اور حکمران شریعت کے پابند ہوتے ہیں، نہ کہ شریعت ریاست کی تابع۔
3. اجتماعی عدل و فلاح کا نظام
اسلام کا مقصد صرف مذہبی آزادی نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جو عدل، امانت، مساوات اور انسانی وقار پر مبنی ہو۔
4. علم اور تحقیق کی حوصلہ افزائی
یہ تاثر درست نہیں کہ مذہب علم کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اسلام نے غور و فکر، تحقیق اور کائنات میں تدبر کو عبادت کا درجہ دیا۔ مسلم تاریخ میں سائنس، طب، فلکیات اور فلسفہ کی ترقی اس کی روشن مثال ہے۔
5. عالمی انسانیت کا تصور
اسلام کا پیغام کسی ایک نسل یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا نظام بھی عالمگیر اصولوں پر قائم ہے۔
نتیجہ
سیکولرزم اور اسلام کے درمیان اختلاف محض عملی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی ہے۔ سیکولرزم مذہب کو نجی زندگی تک محدود کر دیتا ہے، جبکہ اسلام زندگی کو دین کے تابع سمجھتا ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان کے لیے بیک وقت سیکولر فکر اور اسلامی ضابطۂ حیات کو مکمل طور پر اختیار کرنا فکری طور پر ممکن نہیں۔
اسلام کسی جبر یا فکری جمود کا نام نہیں بلکہ ایک متوازن، ہمہ گیر اور انسان دوست نظام ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا داعی ہے۔ آج کی دنیا میں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو اس کے اصل علمی، اخلاقی اور عدل پر مبنی تصور کے ساتھ سمجھا اور پیش کیا جائے، نہ کہ اسے محض تاریخی یا جذباتی تناظر میں محدود کر دیا جائے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu, Secularism and Islam

>کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے ایک اور بچے کی جان لے لی

پاکستان میں رمضان کا چاند کب نظر آئیگا اور عید الفطر کب ہوگی؟ پیشگوئی سامنے آگئی

ایران میں مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ’بہت زوردار‘ حملہ کر سکتا ہے، ٹرمپ کی دوبارہ دھمکی

100% LikesVS
0% Dislikes

سیکولرزم اور اسلام، دو مختلف زاویۂ ہائے فکر, ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں