فرقہ وارانہ قتلِ عام اور حکومتی نااہلی: شبیر حسین کمال
ریاست آخر کب جاگے گی؟
پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں ہر شہری کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے، مگر افسوس کہ عملی طور پر یہ ضمانت بارہا بے معنی ثابت ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ ریاست شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
اسلام آباد، جو ملک کا سب سے محفوظ سمجھا جانے والا شہر ہے، وہاں مذہبی عبادت کے دوران بے گناہ شہریوں کا قتل اس بات پر سوالیہ نشان ہے کہ اگر دارالحکومت محفوظ نہیں تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟ یہ واقعہ کسی ایک دن کی ناکامی نہیں بلکہ برسوں پر محیط حکومتی غفلت، ناقص پالیسیوں اور کمزور عملدرآمد کا نتیجہ ہے۔
حکومتِ پاکستان ہر سانحے کے بعد رسمی مذمتی بیانات، تحقیقات کے اعلانات اور وقتی سیکیورٹی اقدامات تک محدود رہتی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ نفرت پھیلانے والے عناصر آج بھی کھلے عام کیوں سرگرم ہیں؟ کالعدم تنظیمیں نئے ناموں سے کیسے کام کر رہی ہیں؟ نفرت انگیز تقاریر، تکفیری لٹریچر اور فرقہ وارانہ مواد پر مؤثر پابندی کیوں نافذ نہیں ہو سکی؟
شیعہ شہریوں کے خلاف منظم تشدد کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ کوئٹہ، پاراچنار، کراچی، گلگت بلتستان اور اب دارالحکومت تک پھیلتا ہوا یہ خونریز سلسلہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاست نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مسلسل نظرانداز کیا۔ ہر حملے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو صرف تسلی دی جاتی ہے، مگر مجرم اکثر قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ مسئلہ کسی ایک مسلک کا نہیں بلکہ ریاستی رٹ، آئین اور انسانی جان کے احترام کا مسئلہ ہے۔ جب شہری اپنی عبادت گاہ میں بھی محفوظ نہ ہوں تو حکومت کی کارکردگی پر سخت سوال اٹھنا فطری ہے۔ کسی بھی حکومت کی کامیابی کا پہلا پیمانہ شہریوں کا تحفظ ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے پاکستان کی موجودہ اور سابقہ حکومتیں اس امتحان میں بار بار ناکام رہی ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت نمائشی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ نفرت کے بیج بونے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ، اور متاثرین کو فوری اور شفاف انصاف دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بصورتِ دیگر ہر نیا سانحہ حکومتی نااہلی پر ایک نئی فردِ جرم بن کر سامنے آتا رہے گا۔
اگر ریاست نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ آگ کسی ایک مسلک تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ خاموشی، غفلت اور مصلحت اب جرم کے مترادف ہیں۔
فرقہ وارانہ قتلِ عام اور حکومتی نااہلی: شبیر حسین کمال
column in urdu Sectarian Killing




