امریکہ میں اردو ادب کی معاصر صورت حال اور سلیم خان (ادبی تنظیم کاری، ڈیجیٹل ثقافت اور مہاجرتی تناظر میں ایک مطالعہ)
تحریر. یاسمین اختر طوبیٰ، ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
ہجرت کو اگر محض جغرافیائی تبدیلی تک محدود رکھا جائے تو اس کے تہذیبی اور لسانی اثرات اوجھل رہ جاتے ہیں، حالانکہ مہاجرت دراصل زبان، شناخت اور فکری تسلسل کے لیے ایک گہرا امتحان ہوتی ہے۔ امریکہ جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں اردو ادب کی موجودگی محض یادِ وطن کا اظہار نہیں، بلکہ لسانی بقا، تہذیبی تسلسل اور فکری تشکیل کا سوال بھی ہے۔ اس تناظر میں وہ شخصیات خصوصی توجہ کی مستحق ہیں جو انفرادی سطح پر ادارہ جاتی کردار ادا کرتی ہیں۔ سلیم خان ایسی ہی ایک نمایاں مثال ہیں۔
سلیم خان، جو اوائل فروری 2024 میں پاکستان سے امریکہ منتقل ہو کر ہیوسٹن، ٹیکساس میں مقیم ہوئے، اردو ادب کے اُن فعال کارکنوں میں شامل ہیں جن کی خدمات تخلیق سے آگے بڑھ کر تنظیم، ربط اور فکری رہنمائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایم اے اردو اور ایم اے انگریزی جیسی علمی بنیاد کے ساتھ، انہوں نے اردو زبان و ادب کو محض ایک جذباتی وابستگی کے بجائے ایک منظم فکری و تعلیمی عمل کے طور پر برتا ہے۔
امریکہ میں اردو زبان کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے، ان میں نئی نسل کی لسانی بیگانگی، رسمی تعلیمی اداروں میں اردو کی عدم موجودگی، اور مطالعے کے منظم ذرائع کی کمی نمایاں ہیں۔ تاہم ڈیجیٹل عہد نے ان مسائل کے حل کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ سلیم خان نے انہی امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے اردو کو ایک ڈیجیٹل، سرحدوں سے ماورا اور عالمی زبان کے طور پر پیش کیا۔
عالمی بزمِ اردو، بزمِ اردو انٹرنیشنل کینیڈا، انداز بیاں اور، دریچہ ادب پاکستان، ماورا ورلڈ لٹریری فورم امریکہ، حصارِ ادب عالمی، تحریکِ توازن اردو ادب اور دیگر بے شمار فورمز اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ اردو ادب اب محض مقامی سرگرمی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی فکری نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سلیم خان کی ادبی خدمات کا ایک اہم علمی پہلو یہ ہے کہ وہ ادب کو صرف تخلیقی اظہار تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے فکری تفہیم، تحقیقی مزاج اور تعلیمی تشکیل کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ تفہیمِ فکرِ اقبال، اساسِ تحقیق، تعلیم سب کے لیے اور امتحانات کی تیاری جیسے پلیٹ فارمز اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کے نزدیک ادب ایک سماجی و تعلیمی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ رویہ بالخصوص امریکہ میں بسنے والی اردو داں نئی نسل کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں زبان کی منتقلی (language transmission) ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔
ہیوسٹن جیسے کثیرالثقافتی شہر میں اردو ادب کو محض ثقافتی یادداشت کے طور پر زندہ رکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے ایک فعال فکری مکالمے میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ سلیم خان کی ادبی سرگرمیاں اسی مکالمے کی تشکیل میں معاون نظر آتی ہیں۔ وہ اردو ادب کو پاکستان، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ کے ادبی حلقوں کے درمیان ایک مشترک فکری ربط فراہم کرتے ہیں، جس سے اردو ادب کی عالمی شناخت مضبوط ہوتی ہے۔
یہ امر بھی تحقیقی اہمیت رکھتا ہے کہ سلیم خان کا طویل پیشہ ورانہ تجربہ،جو انہوں نے ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل اداروں اور موبائل ٹیلی کام سیکٹر میں بطور پراجیکٹ اور کنٹریکٹ مینیجر حاصل کیا، ان کی ادبی تنظیم کاری میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔ ان کی سرگرمیوں میں منصوبہ بندی، تسلسل، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی شعور نمایاں ہے، جو اردو ادب کے روایتی، غیر منظم حلقوں کے مقابلے میں ایک جدید اور مؤثر ماڈل پیش کرتا ہے۔
عصرِ حاضر میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اردو ادب امریکہ میں کس طرح بقا اور ارتقا کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب کسی ایک تخلیقی کارنامے یا محدود ادبی سرگرمی میں نہیں، بلکہ مسلسل، منظم اور شعوری کوشش میں مضمر ہے۔ سلیم خان کی ادبی زندگی اسی تسلسل کی نمائندہ ہے۔ وہ محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک ایسا فعال ادبی ادارہ ہیں جو خاموشی سے کام کرتا ہے، مگر جس کے اثرات دیرپا اور ہمہ گیر ہیں۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں اردو ادب کا مستقبل ان افراد سے وابستہ ہے جو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ فکری نظم، تحقیقی شعور اور ادارہ جاتی وژن رکھتے ہیں۔ سلیم خان اسی قافلے کے سالار ہیں، جو اردو کو محض ماضی کی تہذیبی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ایک زندہ، فعال اور عالمی زبان کے طور پر دیکھنے کا خواب رکھتے ہیں، اور اس خواب کو عملی صورت دینے میں مصروف ہیں۔
column in urdu Saleem Khan and Urdu Literature in the United States
نشانہ ہر دفعہ ایک ہی برادری کیوں؟
فرقہ وارانہ قتلِ عام اور حکومتی نااہلی: شبیر حسین کمال




