column in urdu Role of Women in Nation Building 0

تعمیرِ وطن میں خواتین کا کردار ۔ آمینہ یونس بلتستانی
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔کہ کسی بھی وطن کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور نمایاں رہا ہے۔ ایک معاشرہ صرف مردوں کی محنت سے نہیں بلکہ مرد و زن دونوں کی مشترکہ کوششوں سے مضبوط بنتا ہے۔ جس طرح گاڑی کو چلانے کے لیے چار پہیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مرد اور عورت اس گاڑی کے دو پہیے ہیں، اسی طرح جب تک دونوں ایک ساتھ نہ چلیں نہ گھر کا نظام درست چل سکتا ہے اور نہ ہی کسی ملک کی تعمیر مکمل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین کی شرکت ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں دورِ نبویؐ میں بھی خواتین کا روشن کردار نظر آتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے اسلام کی ابتدا میں بے مثال حمایت دی، اپنا وقت اور وسائل دین کے لیے وقف کیے اور پیغمبرؐ کی جدوجہد میں سہارا بنی۔ ان کی قربانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ کسی بھی عظیم مقصد کی تکمیل میں خواتین کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اس وقت بھی بے شمار خواتین نے ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے اپنے گھربار چھوڑے، اپنے پیاروں کو کھویا اور صبر و حوصلے کے ساتھ ایک نئے وطن کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا۔ ہجرت کے مشکل حالات میں بہت سی خواتین نے زخمیوں کی تیمارداری کی، طبی امداد فراہم کی اور اپنے حوصلے اور ہمت سے دوسروں کے لیے مثال قائم کی۔ وطن کی خدمت میں ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت قابلِ تعریف ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ خواتین صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ قومی ترقی میں بھی ان کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا مردوں کا۔ پاکستان کی تعمیر میں بہت سی خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح ان شخصیات میں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر تحریکِ پاکستان کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور آخری دم تک اس ملک کی خدمت کرتی رہیں۔ اسی طرح بیگم رعنا لیاقت علی خان اور دیگر کئی خواتین نے بھی سماجی اور فلاحی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں اور قوم کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مائیں بھی قابلِ فخر ہیں جنہوں نے ایسے بیٹوں کو جنم دیا اور ایسی تربیت کی کہ وقت آنے پر انھوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ وہ بہنیں بھی قابلِ احترام ہیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا اور صبر و حوصلے کی مثال قائم کی۔ اسی طرح وہ بیویاں بھی عظمت کی مثال ہیں جنہوں نے اپنے شوہروں کو وطن کی حفاظت اور تعمیر کے لیے قربان ہوتے دیکھا اور ان کی قربانیوں پر فخر کیا۔ ان قربانیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وطن کی تعمیر صرف حکومت یا مردوں کے کام سے نہیں ہوتی بلکہ ہر فرد کی حصہ داری ضروری ہے۔ آج کے دور میں خواتین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج ملک کی تعمیر میں مرد اور عورت دونوں برابر کا کردار ادا کر رہے ہیں تو یہ بات بے جا نہ ہوگی۔ پہلے سرحدوں کی حفاظت صرف مردوں کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی اور دشمن کا مقابلہ بھی مرد ہی کرتے تھے مگر آج خواتین بھی مختلف شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں اور ملک کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ فوج کا شعبہ ہو یا میڈیکل کا شعبہ ہو یا پولیس، تعلیم کا میدان ہو یا کھیل، سیاست ہو یا معاشیات، فلاحی خدمات ہوں یا ریاست کی فلاح و بہبود کے کام، ہر جگہ خواتین اپنی صلاحیتوں اور محنت کے ذریعے اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتی ہیں بلکہ ایک ماں کی حیثیت سے نئی نسل کی تربیت بھی کرتی ہیں۔ ایک ماں دراصل پورے معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو اخلاق، شعور اور ذمہ داری کا درس دیتی ہے۔ انہی کے لگائے ہوئے پودے آگے چل کر ایک مضبوط قوم کی بنیاد بنتے ہیں اور وطن کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے مرد و زن مل کر محنت نہ کریں۔ آج اس وطن کی رگوں میں خواتین کا پسینہ بھی اتنا ہی شامل ہے جتنا مردوں کا۔ اس لیے ضروری ہے اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ مرد اور عورت دونوں خلوص اور ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں تاکہ اس ملک کی جڑیں کمزور نہ ہوں اور دیمک کی طرح انہیں کھوکھلا نہ کر سکے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ علامہ اقبال کے شاہین بنیں، اس ملک کو کرائے کا گھر نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا خون اور پسینہ شامل کریں تاکہ یہ وطن سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے جسے کوئی طاقت گرا نہ سکے۔ یہ وطن نہ صرف مردوں کا ہے، نہ صرف عورتوں کا، نہ صرف سیاست دانوں کا اور نہ ہی صرف صاحبِ اقتدار لوگوں کا بلکہ یہ ہم سب کا ہے۔ یہ ہماری وہ پناہ گاہ ہے جہاں ہم سکون کی نیند سوتے ہیں اور دن کو آزادی کے ساتھ رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اسے گرانے کی نہیں بلکہ اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی خوشحالی اور مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہم سب اس میں سکون اور عزت کی زندگی گزار سکیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر چھوٹا قدم، ہر قربانی اور ہر اچھی سوچ اس وطن کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ وطن چھوڑتی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Role of Women in Nation Building

سکردو میں 7 مارچ کو سکیورٹی پلان نافذ، رات کا کرفیو برقرار

شگر جامع مسجد امامیہ شگر میں شہید رہبرِ معظم سید علی خامنہ ایؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور ان کے بلندیٔ درجات کے لیے فاتحہ خوانی، قرآن خوانی اور مجلسِ ترحیم کا انعقاد کیا گیا

سانحۂ گلگت بلتستان انسانی جانوں کا ضیاع، ریاستی طاقت کا استعمال اور شفاف تحقیقات کی ضرورت . جی ایم ایڈوکیٹ

50% LikesVS
50% Dislikes

تعمیرِ وطن میں خواتین کا کردار ۔ آمینہ یونس بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں