column in urdu, Rising Star of Baltistan 0

بلتستان کا ابھرتا ہوا ستارہ آمینہ یونس. طہٰ علی تابش بلتستانی
کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص اُڑنا چاہے تو اسے اُڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
آج ہم ایک ایسی شخصیت پر بات کرنے جا رہے ہیں جو ہزاروں مشکلات کے باوجود بھی اپنے جذبے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ہمارے معاشرے میں لفظ “عورت” کا مفہوم اکثر صرف چار دیواری تک محدود سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس سے بالکل الگ ہے۔ عورت کا دائرہ ہرگز چار دیواری نہیں، بلکہ خود عورت ہی پورا معاشرہ ہوتا ہے۔
آج ہماری زیرِ بحث شخصیت کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا، انہیں کہیں نہ کہیں آپ نے ضرور پڑھا بھی ہوگا، لیکن شاید ان کے بارے میں تفصیل سے جاننے کا موقع نہ ملا ہو۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

آج ہم بات کر رہے ہیں آمینہ یونس کی۔
جی ہاں، آپ نے صحیح سنا۔ آمینہ یونس بلتستان وہ نامور ادیبہ ہیں جو کئی برسوں سے اپنے قلم اور کشادہ سوچ کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لا رہی ہیں۔
ان کا تعلق ضلع گانچھے کے ایک چھوٹے سے گاؤں، حسن آباد چھوربٹ سے ہے۔ انہیں بچپن سے ہی لکھنے کا شوق تھا، لیکن انہوں نے سال 2020 سے باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر لکھنا شروع کیا۔
وہ بیک وقت ناول، افسانے، شارٹ اسٹوریز کے علاوہ حالاتِ حاضرہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے بہترین کالم بھی لکھتی ہیں۔

ان کی کتاب “خواب سے تعبیر تک” کی اشاعت کے بعد وہ پورے بلتستان ریجن میں وہ اس قدر مقبول ہوئیں کہ اب ہر تعلیمی و ادبی محفل میں انہیں مدعو کیا جاتا ہے۔
بلتستان لیول کے بہت سے تقریری مقابلے میں وہ جج کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں۔

انہوں نے نہ صرف انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن کی رکنیت حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، بلکہ وہ پاکستان لیٹریری سوسائٹی، سخن آباد، خواتین رائٹرز گروپ، وجود مسلم انٹرنیشنل میگزین گروپ، بزمِ فہم پاکستان، راہرو گروپ، ادب دنیا، رائٹرز کلب، خراجِ تحسین اقبال، دارالاکادمی پاکستان، رشد و ہدایت میگزین گروپ، ادبی سنگت، طالبِ نظر، رائٹر فورم پاکستان، پہچان پاکستان، نیوز سمیت دیگر ادبی پلیٹ فارمز کا بھی حصہ ہیں۔

وہ بلتستان بھر کی خواتین کے لیے ایک روشن چراغ ہیں، جنہیں دیکھ کر ہزاروں لڑکیاں اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کے دو گروہ ہیں: ایک وہ جو اپنی زندگی کی تمام مشکلات کو روند کر اپنا مقصد حاصل کر لیتی ہیں، جبکہ دوسرا گروہ زندگی کے چھوٹے موٹے مشکل لمحات کو بھی برداشت نہیں کر پاتا اور گھٹنوں میں سر دبائے بس روتی رہتی ہے ۔

یقیناً قسمت اُن لوگوں کی بدل جاتی ہے جو قسمت بدلنا چاہتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ کچھ بڑا کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلا جائے ؛ آپ گھر پر بیٹھ کر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہیں۔
ہمیں آمینہ یونس پر فخر ہے، جو ہزاروں خواتین کے لیے مشعلِ راہ بنی ہیں۔

column in urdu, Rising Star of Baltistan

عہدِ حاضر اور لوگوں کی مصروفیت، آمینہ یونس بلتستانی

مکافات عمل: کائنات کا اٹل انصاف , پارس کیانی ساہیوال، پاکستان

100% LikesVS
0% Dislikes

بلتستان کا ابھرتا ہوا ستارہ آمینہ یونس. طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں