column in urdu Rising Incidents Suicide 0

خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور وجوہات . یاسر دانیال صابری
خودکشی کا کوئی ایک سبب نہیں ہوتا، بلکہ یہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ایک انسان کو اس نہج پر لے آتے ہیں جہاں اسے زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ سب سے پہلے اگر ہم دینی و روحانی پہلو کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ جب انسان کا اپنے خالق سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو وہ مشکلات کے سامنے بے سہارا ہو جاتا ہے۔ دین انسان کو صبر، امید اور حوصلہ دیتا ہے، مگر جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو انسان وقتی تکلیف کو مستقل حل سمجھ کر انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔
اسی تسلسل میں آٹھویں بڑی وجہ دین سے دوری ہے۔ یہ محض عبادات چھوڑ دینے کا نام نہیں بلکہ زندگی کے مقصد سے دور ہو جانے کا نام ہے۔ جب نوجوان نسل دین کی اصل روح یعنی برداشت، شکر، صبر اور توکل سے ناواقف ہو جائے تو وہ معمولی مشکلات کو بھی ناقابلِ برداشت سمجھنے لگتی ہے۔ دین انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے، مگر جب یہ یقین دل سے نکل جائے تو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔
دوسری طرف اگر معاشرتی رویوں کا جائزہ لیا جائے تو اخلاقی اقدار کا زوال ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں سچائی، وفاداری اور خلوص کم ہوتے جا رہے ہیں۔ رشتے کمزور ہو رہے ہیں، اعتماد ختم ہو رہا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کے جذبات سے کھیلنے لگے ہیں۔ یہی رویہ کسی حساس دل رکھنے والے فرد کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر کوئی نوجوان پریشان ہو، خاموش ہو، یا الگ تھلگ رہنے لگے تو اسے “ڈرامہ” یا “کمزوری” سمجھا جاتا ہے۔ یہی لاپرواہی اس کے درد کو مزید بڑھا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ خود کو اکیلا اور بے سہارا محسوس کرنے لگتا ہے۔
بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی ایک خطرناک پہلو ہے۔ آج کل نوجوان جذبات میں آ کر ایسے تعلقات قائم کر لیتے ہیں جو بعد میں ان کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔ جب کوئی ان کی کمزوری کو ہتھیار بنا کر انہیں بلیک میل کرتا ہے تو وہ خوف اور شرمندگی میں گھِر جاتے ہیں۔ جب بات عزت اور بدنامی تک پہنچتی ہے تو انہیں اپنی زندگی ختم کرنا ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔
اسی طرح احساسِ کمتری بھی ایک خاموش قاتل ہے۔ جب ایک نوجوان خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے، اپنی ناکامیوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھتا ہے، اور اپنی خوبیوں کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ مایوسی کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس احساس کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں ہر کوئی اپنی خوشیاں دکھاتا ہے اور دوسروں کو اپنی زندگی کمتر محسوس ہوتی ہے۔
محبت اور تعلقات کا غلط استعمال بھی کئی المیوں کو جنم دے رہا ہے۔ بعض لوگ جذباتی طور پر اس حد تک کسی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔ جب وہ رشتہ ٹوٹتا ہے تو وہ خود کو سنبھال نہیں پاتے اور شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
خاندانی مسائل بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ گھریلو جھگڑے، والدین کی عدم توجہی، یا بچوں پر حد سے زیادہ دباؤ انہیں ذہنی طور پر کمزور کر دیتا ہے۔ جب انہیں گھر میں سکون نہ ملے تو وہ باہر سہارا ڈھونڈتے ہیں، اور اگر وہاں بھی دھوکہ ملے تو وہ مکمل طور پر ٹوٹ جاتے ہیں۔
اب اگر نویں وجہ کی بات کی جائے تو وہ نہایت عملی اور فوری توجہ کی متقاضی ہے، اور وہ ہے گلگت بلتستان کے پلوں پر حفاظتی اقدامات کا فقدان۔ یہاں کے بیشتر پل دریا کے اوپر بنے ہوئے ہیں، اور بدقسمتی سے یہ مقامات خودکشی کے لیے آسان راستہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ تجویز نہایت اہم ہے کہ تمام پلوں کے نیچے مضبوط جال (سیفٹی نیٹ) نصب کیے جائیں تاکہ اگر کوئی شخص جذباتی لمحے میں چھلانگ بھی لگائے تو وہ سیدھا دریا میں گرنے کے بجائے اس جال پر آ کر رک جائے۔
یہ اقدام بظاہر سادہ لگتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی مثبت ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں جہاں پلوں پر خودکشی کے واقعات کو روکنے کے لیے جال اور حفاظتی رکاوٹیں نصب کی گئی ہیں، اور ان سے قیمتی جانیں بچائی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی اس ماڈل کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پلوں پر نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے، سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں، اور ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی جان کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔
اگر ہم مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو سننا چھوڑ دیا ہے، ہم نے ان کے مسائل کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے، اور ہم نے انہیں اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ یہی تنہائی انہیں اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔ ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مشکلات۔ ہم اپنے گھروں میں محبت اور اعتماد کا ماحول قائم کریں۔ ہم اپنے بچوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں، اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
یہ وقت جاگنے کا ہے، سوچنے کا ہے، اور عمل کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل کو مزید ایسے سانحات ہمارا مقدر بن جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے آج سے اپنی اصلاح شروع کر دی، تو شاید ہم کئی قیمتی جانیں بچا سکیں، اور ایک بہتر، محفوظ اور باوقار معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
کچھ اہم اقدامات کی فوری ضرورت ہیں حکومت عمل کریں
گلگت بلتستان کے تمام پلوں پر مضبوط جال (سیفٹی نیٹ)، اونچی ریلنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ خودکشی کے امکانات کم ہوں۔اسطرح ہر ضلع میں ذہنی صحت کے مراکز اور ہیلپ لائن قائم کی جائے تاکہ پریشان افراد کو فوری مدد اور رہنمائی مل سکے۔
بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے۔۔
والدین اور اساتذہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں، ان کی بات سنیں اور ان پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔۔
معاشرے میں دینی، اخلاقی اور مثبت تربیت کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں میں امید، صبر اور زندگی کی قدر پیدا ہو۔وسلام تحریر یاسر دانیال صابری

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Rising Incidents Suicide

گلگت بلتستان کی حالیہ واقعات کے پیش نظر سکردو ایئرپورٹ سے قومی اور بین الاقوامی سیاحوں کو زبردستی اسلام آباد واپس بھیجنے کی خبریں،ایسا کرنا علاقے کے ساتھ ناانصانی ہے

دو عیدیں ایک ساتھ , 21 مارچ عید نوروز اور عید الفطر . طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

خواب سے تعبیر تک.آمینہ یونس کا ارتقائی ادبی سفر. سلیم خان

50% LikesVS
50% Dislikes

خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور وجوہات . یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں