column in urdu Ramadan 0

رمضان – اللہ کا ایک نام؟ . سید مظاہر حسین کاظمی
رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنی رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنی
لفظ رمضان مادہ’’ رَمَضَ‘‘ سے ہے۔ رمض کے معنی سورج کا شدت کے ساتھ ریت پر چمکنا کے ہیں۔(۱) ’’ ارض رمضا‘‘ اس زمین کو کہا جاتا ہے جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: «افرأیتم جزع احرکم من الشوکة تعبه و الرمضاء تحرقه…؛ کیا تم لوگوں نے اس وقت اپنی کمزوری اور بے تابی کا احساس کیا ہے جب تم ایسی زمین پر چل رہے ہو کہ جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو؟ پس کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب آگ کے دو شعلوں کے درمیان ہو گے؟(۲) کہا جاتا ہے کہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے(۳)
رمضان اصطلاح میں قمری مہینوں میں کا نواں مہینہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
«شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن».(۴) اس مہینہ کو رمضان کا نام کیوں دیا گیا اس کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے: چونکہ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا اس وقت یہ مہینہ شدید گرمی کے عالم میں واقع ہوا تھا(۵)۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا: رمضان، گناہوں کو جلا دینے والا مہینہ ہے خداوند عالم اس مہینے میں اپنے بندوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے اس وجہ سے اس مہینہ کا نام رمضان رکھا گیا‘‘۔(۶)
رمضان تنہا وہ مہینہ ہے جس کا نام قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے۔
اسلام کے تمام احکام اور دستورات بتدریج اور دھیرے دھیرے نازل ہوئے ہیں۔ اس بنا پر ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال دو شعبان کو نازل ہوا۔(۷)
روزوں کے واجب ہونے کی دلیل خود قرآن کریم کی آیت ہے: «یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام؛ اے صاحبان ایمان تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں پس تم میں سے جو حضر(وطن) میں ہے وہ روزے رکھے(۸)۔
روزے گزشتہ امتوں پر بھی واجب تھے۔ قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کو بیان کیا ہے: کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم؛ تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسا کہ تم میں سے پہلی امتوں پر فرض کئے تھے‘‘۔(۹)
موجودہ توریت اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصارا کے درمیان بھی روزے پائے جاتے تھے۔
بعض قومیں اس وقت روزہ رکھا کرتی تھی جن ان پر کوئی مصیبت یا بلا نازل ہوتی تھی۔ جیسا کہ کتاب قاموس میں آیا ہے:
روزہ گزشتہ تمام قوموں اور ملتوں میں پایا جاتا تھا وہ قومیں غیر متوقع غم و اندوہ کے نازل ہوتے وقت روزہ رکھتی تھیں۔
توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسی نے چالیس دن روزے رکھے۔ جیساکہ توریت میں ہے: جب میں طور سینا پر پہنچا کہ خدا سے صحیفے حاصل کروں تو میں چالیس دن اس پہاڑ پر رہا نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا۔(۱۰)
مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: روزے کا عبادت ہونا ایک ایسا امر ہے جو انسانی فطرت کے ساتھ سازگار ہے اور وہ قومیں جو ادیان آسمانی کے تابع نہیں تھیں جیسے مصر، یونان اور روم کی قدیم امتیں یا ہندوستان کے بت پرست وہ لوگ بھی اپنے اپنے عقائد کے مطابق روزہ رکھتے تھے اور ابھی بھی رکھتے ہیں۔ (۱۱)
روزے کی نیت کے احکام

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

(شریعت اسلام میں) روزہ سے مراد ہے خداوند عالم کی رضا کے لئے انسان اذان صبح سے مغرب تک نوچیزوں سے جو بعد میں بیان کی جائیں گی ، سے پرہیز کرے۔

نیت

۱۵۵۹۔ انسان کے لئے روزے کی نیت دل سے گزارنا یا مثلاً یہ کہنا کہ “میں کل روزہ رکھوں گا” ضروری نہیں بلکہ اس کا ارادہ کرنا کافی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا کے لئے اذان صبح سے مغرب تک کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے روزہ باطل ہوتا ہو اور یقین حاصل کرنے کے لئے اس تمام وقت میں وہ روزے سے رہا ہے ضروری ہے کہ کچھ دیر اذان صبح سے پہلے اور کچھ دیر مغرب کے بعد بھی ایسے کام کرنے سے پرہیز کرے جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔

۱۵۶۰۔ انسان ماہ رمضان المبارک کی ہر رات کو اس سے اگلے دن کے روزے کی نیت کر سکتا ہے۔اور بہتر یہ ہے کہ اس مہینے کی پہلی رات کو ہی سارے مہینے کے روزوں کی نیت کرے۔

۱۵۶۱۔ وہ شخص جس کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو اس کے لئے ماہ رمضان میں روزے کی نیت کا آخری وقت اذان صبح سے پہلے ہے۔ یعنی اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت ضروری ہے اگرچہ نیند یا ایسی ہی کسی وجہ سے اپنے ارادے کی طرف متوجہ نہ ہو۔

۱۵۶۲۔ جس شخص نے ایسا کوئی کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرے تو وہ جس وقت بھی دن میں مستحب روزے کی نیت کرلے اگرچہ مغرب ہونے میں کم وقت ہی رہ گیا ہو، اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۶۳۔ جو شخص ماہ رمضان المبارک کے روزوں اور اسی طرح واجب روزوں میں جن کے دن معین ہیں روزے کی نیت کئے بغیر اذان صبح سے پہلے سوجائے اگر وہ ظہر سے پہلے بیدار ہو جائے اور روزے کی نیت کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر وہ ظہر کے بعد بیدار ہو تو احتیاط کی بناپر ضروری ہے کہ قربت مطلقہ کی نیت نہ کرے اور اس دن کے روزے کی قضا بھی بجالائے۔

۱۵۶۴۔اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا روزہ رکھنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس روزے کو معین کرے مثلاً نیت کرے کہ میں قضاکا یا کفار کا روزہ رکھ رہا ہوں لیکن ماہ رمضان المبارک میں یہ نیت کرنا ضروری نہیں کہ میں ماہ رمضان کا روزہ کھ رہا ہوں بلکہ اگر کسی کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے اور کسی دوسرے روزے کی نیت کرے تب بھی وہ روزہ ماہ رمضان کا روزہ شمار ہوگا۔

۱۵۶۵۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے اور جان بوجھ کر ماہ رمضان کے روزے کے علاوہ کسی دوسرے روزے کی نیت کرے تو وہ روزہ جس کی اس نے نیت کی ہے وہ روزہ شمار نہیں ہوگا اور اسی طرح ماہ رمضان کا روزہ بھی شمار نہیں ہوگا اگر وہ نیت قصد قربت کے منافی ہو بلکہ اگر منافی نہ ہو تب بھی احتیاط کی بنا پر وہ روزہ ماہ رمضان کا روزہ شمار نہیں ہوگا۔

۱۵۶۶۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے پہلے روزے کی نیت کرے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ یہ دوسرا یا تیسرا روزہ تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۶۷۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرنے کے بعد بے ہوش ہوجائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آجائے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اگر تمام نہ کرسکے تو اس کی قضا بجالائے۔

۱۵۶۸۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرے اور پھر بے حواس ہو جائے اور پھر اسے دن میں کسی وقت ہوش آجائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس دن کا روزہ تمام کرے اور اس کی قضا بھی بجالائے۔

۱۵۶۹۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے پہلے روزے کی نیت کرے اور سوجائے اور مغرب کے بعد بیدار ہو تو اس کا روزہ صبح ہے۔

۱۵۷۰۔ اگر کسی شخص کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ ماہ رمضان ہے اور ظہر سے پہلے اس امر کی جانب متوجہ ہو اور اس دوران کوئی ایسا کام کر چکا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہے تو اس کا روزہ باطل ہوگا لیکن ضروری ہے کہ مغرب تک کوئی ایسا کام نہ کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو اور ماہ رمضان کے بعد روزے کی قضا بھی کرے۔ اور اگر ظہر کے بعد متوجہ ہو کہ رمضان کا مہینہ ہے تو احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے اور اگر ظہر سے پہلے متوجہ ہو اور کوئی ایسا کام بھی نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۷۱۔اگر ماہ رمضان میں بچہ اذان صبح سے پہلے بالغ ہو جائے تو ضروری ہے کہ روزہ رکھے اور اگر اذان صبح کے بعد بالغ ہو تو اس کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر مستحب روزہ رکھنے کا ارادہ کر لیا ہو تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر اس دن کے روزے کو پورا کرنا ضروری ہے۔

۱۵۷۲۔ جو شخص میت کے روزے رکھنے کے لئے اجیر بنا ہو یا اس کے ذمے کفارے کا روزے ہوں اگر وہ مستحب روزے رکھے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قضا روزے کسی کے ذمے ہوں تو وہ مستحب روزہ نہیں رکھ سکتا اور اگر بھول کر مستحب روزہ رکھ لے تو اس صورت میں اگر اسے ظہر سے پہلے یاد آ جائے تو اس کا مستحب روزہ کالعدم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی نیت واجب روزے کی جانب موڑ سکتا ہے۔ اور اگر وہ ظہر کے بعد متوجہ ہو تو احتیاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے مغرب کے بعد یاد آئے تو اس کے روزے کا صحیح ہونا اشکال سے خالی نہیں۔

۱۵۷۳۔اگر ماہ رمضان کے روزے کے علاوہ کوئی دوسرا مخصوص روزہ انسان پر واجب ہو مثلاً اس نے منت مانی ہو کہ ایک مقررہ دن کو روزہ رکھے گا اور جان بوجھ کر اذان صبح تک نیت نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اسے معلوم نہ ہو کہ اس دن کا روزہ اس پر واجب ہے یا بھول جائے اور ظہر سے پہلے اسے یاد آئے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اگر ظہر کے بعد اسے یاد آئے تو ماہ رمضان کے روزے میں جس احیتاط کا ذکر کیا گیا ہے اس کا خیال رکھے۔

۱۵۷۴۔ اگر کوئی شخص کسی غیر مُعَیَّن واجب روزے کے لئے مثلاً روزہ کفارہ کے لئے طہر کے نزدیک تک عمداً نیت نہ کرے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اگر نیت سے پہلے مصمم ارادہ رکھتا ہو کہ روزہ نہیں رکھے گا یا مذبذب ہو کہ روزہ رکھے یا نہ رکھے تو اگر اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو اور ظہر سے پہلے روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

۱۵۷۵۔اگر کوئی کافر ماہ رمضان میں ظہر سے پہلے مسلمان ہو جائے اور اذان صبح سے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ روزے کی نیت کرے اور روزے کو تمام کرے اور اگر اس دن کا روزہ نہ رکھے تو اس کی قضا بجالائے۔

۱۵۷۶۔ اگر کوئی بیمار شخص ماہ رمضان کے کسی دن میں ظہر سے پہلے تندرست ہو جائے اور اس نے اس وقت تک کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہو تو نیت کرکے اس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے اور اگر ظہر کے بعد تندرست ہو تو اس دن کا روزہ اس پر واجب نہیں ہے۔

۱۵۷۷۔ جس دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہلی تاریخ، اس دن کا روزہ رکھنا اس پر واجب نہیں ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو رمضان المبارک کے روزے کی نیت نہیں کر سکتا لیکن نیت کرے کہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روزہ ہے اور اگر رمضان نہیں ہے تو قضا روزہ یا اسی جیسا کوئی اور روزہ ہے تو بعید نہیں کہ اس کا روزہ صحیح ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ قضا روزے وغیرہ کی نیت کرے اور اگر بعد میں پتہ چلے کہ ماہ رمضان تھا تو رمضان کا روزہ شمار ہوگا لیکن اگر نیت صرف روزے کی کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ رمضان تھا تب بھی کافی ہے۔

۱۵۷۸۔ اگر کسی دن کے بارے میں انسان کو شک ہو کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے یا رمضان المبارک کی پہلی تاریخ تو وہ قضا یا مستحب یا ایسے ہی کسی اور روزہ کی نیت کرکے روزے رکھ لے اور دن میں کسی وقت اسے پتہ چلے کہ ماہ رمضان ہے تو ضروری ہے کہ ماہ رمضان کے روزے کی نیت کرلے۔

۱۵۷۹۔ اگر کسی مُعَیَّن واجب روزے کے بارے میں مثلاً رمضان المبارک کے روزے کے بارے میں انسان مُذبذِب ہو کہ اپنے روزے کو باطل کرے یا نہ کرے یا روزے کو باطل کرنے کا قصد کرے تو خواہ اس نے جو قصد کیا ہو اسے ترک کردے اور کوئی ایسا کام بھی نہ کرے جس سے روزہ باطل ہوتا ہو اس کا روزہ احتیاط کی بنا پر باطل ہوجاتا ہے۔۱۵۸۰۔اگر کوئی شخص جو مستحب روزہ یا ایسا واجب روزہ مثلاً کفارے کا روزہ رکھے ہوئے ہو جس کا وقت مُعَیَّن نہ ہو کسی ایسے کام کا قصد کرے جو روزے کو باطل کرتا ہو مُذَبذِب ہو کہ کوئی ایسا کام کرے یا نہ کرے تو اگر وہ کوئی ایسا کام نہ کرے اور واجب روزے میں ظہر سے پہلے اور مستحب روزے میں غروب سے پہلے دوبارہ روزے کی نیت کرلے تو اس کا روزہ صحیح ہے۔وہ چیزیں جو روزے کو باطل کرتی ہیں۔۱۵۸۱۔چند چیزیں روزے کو باطل کر دیتی ہیں:۱۔ کھانا اور پینا۔۲۔ جماع کرنا۔۳۔ اِستِمَنَاء۔ یعنی انسان اپنے ساتھ یا کسی دوسرے کے ساتھ جماع کے علاوہ کوئی ایسا فعل کرے جس کے نتیجے میں منی خارج ہو۔۴۔ خدا تعالی پیغمبر اکرام (صلی اللہ علیہ وآلہ) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرنا۔۵۔ غبار حلق تک پہنچانا۔۶۔ مشہور قول کی بنا پر پورا سر پانی میں ڈبونا۔۷۔ اذان صبح تک جنابت، حیض اور نفاس کی حالت میں رہنا۔۸۔ کسی سَیَّال چیز سے حُقنہ (انیما) کرنا ۔۹۔ قے کرنا۔بعض احادیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ “رمضان” نہیں بلکہ “ماہ رمضان” کہنا چاہیئے کیونکہ رمضان اللہ کا نام ہے۔ یہ احادیث ہیں:1ـ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَثْعَمِيِّ عَنْ غِيَاثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الله عَنْ أَبِيهِ (عَلَيْهِما السَّلاَم) قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ الله عَلَيْهِ لا تَقُولُوا رَمَضَانَ وَلَكِنْ قُولُوا شَهْرُ رَمَضَانَ فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ مَا رَمَضَانُ.

امیر المؤمنین ع نے فرمایا: رمضان نہ کہو مگر کہو ماہ رمضان، کیونکہ تم نہیں جانتے رمضان کیا ہے۔ (1) اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اگلی روایت ہے:2ـ عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (عَلَيْهِ السَّلاَم) قَالَ كُنَّا عِنْدَهُ ثَمَانِيَةَ رِجَالٍ فَذَكَرْنَا رَمَضَانَ فَقَالَ لا تَقُولُوا هَذَا رَمَضَانُ وَلا ذَهَبَ رَمَضَانُ وَلا جَاءَ رَمَضَانُ فَإِنَّ رَمَضَانَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ الله عَزَّ وَجَلَّ لا يَجِي‏ءُ وَلا يَذْهَبُ وَإِنَّمَا يَجِي‏ءُ وَيَذْهَبُ الزَّائِلُ وَلَكِنْ قُولُوا شَهْرُ رَمَضَانَ فَإِنَّ الشَّهْرَ مُضَافٌ إِلَى الاسْمِ وَالاسْمُ اسْمُ الله عَزَّ ذِكْرُهُ وَهُوَ الشَّهْرُ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ جَعَلَهُ مَثَلاً وَعِيداً.

سعد نے کہا: ہم امام باقر ع کے پاس آٹھ لوگ تھے، تو ہم نے رمضان کا ذکر کیا۔ امام ع نے فرمایا: یہ نہ کہو کہ یہ رمضان ہے اور رمضان چلا گیا اور رمضان آگیا کیونکہ رمضان اللہ عز و جل کے ناموں میں سے ایک ہے، اور وہ نہ آتا ہے نہ جاتا ہے، اور جو زائل ہوتا ہے وہ آتا جاتا ہے، مگر تم کہو ماہ رمضان۔ کیونکہ ماہ نام میں اضافہ کردہ ہے اور نام، اللہ عز ذکرہ کا نام ہے، اور یہ وہ ماہ ہے جس میں اللہ نے قرآن نازل کیا اور اس کو وعید قرار دیا۔ (2) یہ روایت ضعیف السند ہے کیونکہ اس کا راوی سعد بن طریف ہے جیسا کہ مختصر بصائر الدرجات میں مکمل نام آیا ہے (3)۔ شیخ صدوق نے روایت کی ہے:
حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اَللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اَللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي اَلْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى اَلْخَزَّازِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ اَلصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ قَالَ: لاَ تَقُولُوا رَمَضَانَ وَلاَ جَاءَ رَمَضَانُ قُولُوا شَهْرَ رَمَضَانَ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا رَمَضَانُ.

امام صادق ع نے اپنے والد سے جنہوں نے اپنے اجداد ع سے روایت کی، فرمایا: رمضان نہ کہو، اور یہ نہ کہو کہ رمضان آگیا، کہو: ماہ رمضان۔ کیونکہ تم نہیں جانتے رمضان کیا ہے۔ (4) اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن اس کتاب کی نسبت شیخ صدوق سے ثابت نہیں ہے تو یہ والی روایت معتبر نہیں۔ ایک اور روایت ہے:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ اَلْكُوفِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا اَلْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ اَلْخَزَّازُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي اَلْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى اَلرِّضَا عَلَيْهِ السَّلاَمُ…فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَا اِبْنَ إِسْمَاعِيلَ إِنَّ رَمَضَانَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اَللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلاَ يُقَالُ لَهُ جَاءَ وَذَهَبَ وَاِسْتَقْبَلَ وَاَلشَّهْرُ شَهْرُ اَللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ مُضَافٌ إِلَيْهِ…

امام رضا ع نے فرمایا: اے ابن اسماعیل، رمضان اللہ عز و جل کے ناموں میں سے ایک نام ہے، تو یہ نہ کہا جائے کہ رمضان آگیا اور رمضان چلا گیا اور اس نے استقبال کیا اور یہ ماہ اللہ عز و جل کا مہینہ ہے، اور یہ اس کی طرف اضافہ کردہ ہے۔ (5) یہ روایت بھی شیخ صدوق سے منسوب کتاب فضائل الاشہر الثلاثہ سے ہی ماخوذ ہے، اس کی اندرونی سند بھی ضعیف ہے۔ الجعفریات میں ہے:أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي مُوسَى حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ ع أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا تَقُولُونَ رَمَضَانُ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا رَمَضَانُ فَمَنْ قَالَ فَلْيَتَصَدَّقْ وَلْيَصُمْ كَفَّارَةً لِقَوْلِهِ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى شَهْرُ رَمَضٰانَ‌

امام علی ع نے فرمایا: رمضان نہ کہو کیونکہ تم نہیں اجنتے کہ رمضان کیا ہے۔ تو جو یہ کہے وہ صدقہ دے اور روزہ رکھے اپنی بات کے کفارے کے لیئے، مگر ویسے کہو جیسے اللہ تعالی نے کہا ہے ماہ رمضان۔ (6) مگر اس کتاب کی نسبت مؤلف سے ثابت نہیں ہے تو یہ روایت قابل احتجاج نہیں ہے۔ اہل سنت کے یہاں بھی اس قسم کی روایات مروی ہیں جیسے ابو ہریرہ (7)، عبد اللہ بن عمر (8)، حضرت عائشہ (9)، امام علی ع (10)، تابعی مجاہد سے (11)، حسن بصری سے (12)، لیکن یہ سب روایات اہل سنت کے نزدیک سندا ضعیف ہیں (13)۔ بخاری نے اپنی کتاب میں حدیث 1898 سے قبل باب باندھا ہے باب هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا یعنی باب: کیا رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان، اور اس کا بیان جو دونوں کو جائز سمجھتا ہے۔ پھر اس کے جواز پر احادیث نقل کی ہیں۔ سنن نسائی میں بھی ایسا ہی باب ہے۔ لہذا اہل سنت کے یہاں اس پر ضعیف احادیث ہیں جس کے سبب وہ اس ممانعت یا کراہیت کو قبول نہیں اگرچہ ہمارے یہاں علماء نے بغیر ماہ کا اضافہ کیئے رمضان کہنے کو مکروہ جانا ہے۔

کیا واقعاً رمضان اللہ کا نام ہے؟

جہان تک اس کا اللہ کے نام ہونے کا ذکر ہے، تو اس پر کوئی نص نہیں ملتا، فقط یہی ایک روایت ہے شیعی کتب میں جو کہ سندا ضعیف ہے۔ دعائے جوشن کبیر، جس میں اللہ کے کئی نام ہیں، میں بھی رمضان کا ذکر نہیں ملتا اور خود لفظ رمضان کا اشتقاق (etymology) بھی اس کی تائید نہیں کرتا۔ علامہ مجلسی نے مرآة العقول میں مختلف آراء نقل کی ہیں: قال سيد المحققين (ره) في المدارك: اختلف في رمضان فقيل: إنه اسم من أسماء الله تعالى، وعلى هذا: فمعنى شهر رمضان شهر الله وقد ورد ذلك في عدة أخبار. وقيل: إنه علم للشهر، كرجب وشعبان، ومنع الصرف للعلمية والألف والنون واختلف في اشتقاقه. فعن الخليل أنه من الرمض بتسكين الميم وهو مطر يأتي في وقت الخريف يطهر وجه الأرض من الغبار، سمي الشهر بذلك لأنه يطهر الأبدان عن الأوضار والأوزار. وقيل: من الرمض بمعنى شدة الحر من وقع الشمس. وقال الزمخشري في الكشاف: رمضان مصدر رمض إذا احترق من الرمضاء، سمي بذلك، إما لارتماضهم فيه من حر الجوع كما سموه نابقا لأنه كان ينبقهم أي يزعجهم بشدته عليهم، أو لأن الذنوب ترمض فيه أي تحترق. وقيل: إنما سمي بذلك لأن أهل الجاهلية كانوا يرمضون أسلحتهم فيه ليقضوا منها أوطارهم في شوال قبل دخول الأشهر الحرم. وقيل: إنهم لما نقلوا أسماء الشهور عن اللغة القديمة سموها بالأزمنة التي وقعت فيها فوافق هذا الشهر أيام رمض الحر فسميت بذلك.

سید المحققین نے مدارک میں کہا: رمضان پر اختلاف ہوا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک ہے، اور اس بناء پر ماہ رمضان کا معنی ہے اللہ کا مہینہ، اور اس پر چند روایات وارد ہوئی ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ ماہ کا علم ہے جیسے رجب اور شعبان، اور اس کی گردان منع ہے علمیت کے سبب اور الف اور عنون سے، اور اس کے اشتقاق پر اختلاف ہے۔ خلیل کے مطابق یہ رمض سے آیا ہے میم پر سکون کے ساتھ، یہ ایک بارش ہے جو خزاں کے موسم میں آکر روئے زمین کو غبار سے صاف کرتی ہے، اس ماہ کا نام اس لیئے رکھا گیا کیونکہ اس میں ابدان میل کچیل سے پاک ہوجاتے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ رمض سے ہے جس کا معنی سخت گرمی ہے سورج کی۔ زمخشری نے کشاف میں کہا: رمضان کا مصدر رمض ہے، جب سخت گرمی سے کوئی چیز جل جائے تو اس کا نام یہ رکھا گیا ہے، یا اس لیئے کہ اس میں لوگ جل جاتے ہیں بھوک کی گرمی سے جیسے اس کا نام نابق ہے کیونکہ وہ ان کو شدت کے ساتھ تنگ کرتا ہے، یا اس لیئے کہ اس میں گناہ جل جاتے ہیں (جھڑ جاتے ہیں)۔ اور کہا گیا ہے کہ جب انہوں نے مہینوں کے نام نقل کیئے قدیم زبان سے تو ان ناموں پر رکھا جن زمانوں میں یہ ماہ واقع ہوتے، تو یہ ماہ گرمی کی شدت سے موافق ہے تو اس لیئے اس کا نام یہ رکھا گیا۔ (14)

علامہ مجلسی نے بحار میں بھی مختلف مہیوں کی وجہ تسمیہ نبی ص سے مرسلا نقل کی ہے (15)۔ علوم اشتقاق کے ماہرین نے مختلف مہینوں کے ناموں کا اشتقاق بیان کیا ہے جیسے رمضان کا تعلق رمض (گرمی) سے ہے کیونکہ یہ گرمی میں آتا ہے، محرم کا نام محرم ہے کیونکہ اس میں لڑائی حرام ہے۔ صفر کا نام صفر (خالی) ہے کیونکہ اس میں عرب جنگیں اور حملے کرکے دشمنان کے گھر خالی کرتے تھے، ربیع الاول اور ربیع الآخر (یا ربیع الثانی) کا تعلق ربیع یعنی موسم بہار سے ہے کیونکہ یہ بہار میں آتے ہیں۔ جمادی الاولیٰ اور جمادی الآخرہ (یا جمادی الاول اور جمادی الثانیہ) کا نام جمد سے آیا ہے جس کا مطلب ہے جب زمین سوکھ جاتی ہے۔ رجب کا معنی عزت اور احترام کا ہے کیونکہ اس میں لڑائی حرام ہے۔ شعبان میں عرب پانی وغیرہ لینے نکلتے تھے، یہ شعب سے آیا ہے جس کا مطلب بٹ جانا ہے۔ شوال کا تعلق بچھڑوں کے کم دودھ دینے سے ہے کیونکہ اس ماہ میں ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ذو القعدہ کا مطلب ہے بیٹھنے والا ماہ کیونکہ اس میں لڑائی حرام ہے، ذو الحجہ کا معنی ہے حج والا مہینہ کیونکہ اس میں حج کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں کے اور بھی اشتقاق بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں فقط مثال دینا مقصود ہے۔ درست ہے کہ قرآن میں لفظ رمضان ایک ہی بار آیا ہے اور وہ ماہ کے ساتھ آیا ہے (16)، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا استعمال ہمیشہ ماہ کے ساتھ ہی کیا جائے گا۔ ایک روایت جو نبی ص سے مروی ہے، اس کے مطابق بھی رمضان کا نام رمضان اس لیئے ہے کیونکہ اس میں گناہ جل جاتے ہیں (إنما سمي رمضان رمضان لأنه ترمض فيه الذنوب)۔ (17) یاد رہے کہ جو فقہاء ان احادیث سے استدلال بھی کرتے ہیں وہ بھی فقط رمضان کہنے کو حرام نہیں مانتے، بلکہ اس کو کراہت کے ضمن میں لیتے ہیں، کیونکہ احادیث میں کسی چیز سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں وہ حرام کے زمرے میں آتی ہے، بلکہ بسا اوقات وہ مکروہ کے ضمن میں بھی آ سکتی ہے۔

لہذا اگر رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے تو اس کا کوئی معنی بھی ہونا چاہیئے، جیسا کہ اس کے ناموں میں قہار، جبار، واجد، واحد، ماجد، وغیرہ ہیں اور ان سب کے معنی ہیں، اگر رمضان رمض یعنی گرمی کی شدت سے آیا ہے تو اس کا تعلق اللہ سے کیسے بنے گا؟ اس معنی پر دال روایات اخبار آحاد میں سے ہیں اور ضعیف السند ہیں تو ان کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ خبر واحد کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا اعتقادات میں، اگر کوئی پہلی روایت سے استدلال کرے بھی جس میں ماہ رمضان کہنے کا حکم ہے اور اس کی سند معتبر ہے، تو اس میں بھی کہیں صراحت نہیں کہ اس کی وجہ اس کا اللہ کا نام ہونا ہے۔ اور اگر اس روایت کو مان بھی لیا جائے تو بھی وہ ظنی الصدور ہے اور ظنی الدلالت ہے۔رسول خدا ص فرماتے ہیں کہ :

” یہ وہ مہینہ ہے کہ جسکی ابتداء، رحمت، اسکا وسط، مغفرت اور اسکی انتہاء ، دعا کا قبول ہونا اور جہنم کی آگ سے رہائی ہے اور تم اس مہینے میں چار چیزوں سے بے نیاز نہیں ہو ، دو صفات کہ جن سے خدا کو راضی کرتے ہو اور دو صفات کہ جن سے خود تم بے نیاز نہیں ہو
وہ دو صفات کہ جن سے خدا کو راضی کرتے ہو، وہ گواہی دینا ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے اور میں خدا کا رسول ہوں
اور وہ دو صفات کہ جن سے تم بے نیاز نہیں ہو، وہ یہ ہیں کہ اس مہینے میں اپنی حاجات ، جنت اور سلامتی کو خداوند سے طلب کرو اور جہنم کی آگ سے اسی کی پناہ طلب کرو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماۂِ شعبان کے آخری جمعہ کے خطبہ میں یہ اعلان فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ عظمت ماۂِ رمضان کی ہے۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔

“اے لوگو! اللہ کا مہینہ اپنی برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کو لے کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔

یہ مہینہ اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے برتر ہے۔ اس کے ایام دوسرے ایام سے برتر ہیں، اس کی راتیں دوسری راتوں سے برتر، اس کے لمحات دوسرے لمحات سے برتر ہیں۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں آپ لوگوں کو اللہ کے ہاں دعوت دی گئی ہے اور آپ لوگ ان میں سے قرار پائے ہیں جو بارگاہ رب العزت میں مشمول اکرام واقع ہوتے ہیں۔

اس مہینہ میں آپ کی سانسیں اللہ کی تسبیح، آپ کی نیند عبادت ہے، اعمال قبول اور دعائیں مستجاب ہیں۔

بنابریں خالص نیتوں اور پاک دلوں سے اللہ سے چاہو کہ آپ کو روزہ رکھنے کی توفیق عنایت کرے۔ اور اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ اسلیے کہ بدبخت وہ شخص ہے جو اس مہینہ میں اللہ کی مغفرت سے محروم رہ جائے۔

اور اس مہینہ کی بھوک اور پیاس سے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔

فقیروں اور بے سہارا لوگوں پر بخشش کرو، بوڑھوں کا اکرام کرو۔

چھوٹوں پر رحم کرو۔ اور صلہ رحم کو مضبوط کرو۔

اپنی زبانوں کو گناہ سے محفوظ رکھو، اپنی آنکھوں کو حرام دیکھنے سے بچائے رکھو۔

اور اپنے کانوں کو حرام سننے سے محفوظ رکھو۔

یتیموں کے ساتھ شفقت اور مہربانی سے کام لو تاکہ آپ کے یتیموں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جائے۔۔۔۔ اپنے گناہوں سے بارگاہ خداوندی میں توبہ کرو۔

نماز کے وقت اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے خدا کی طرف بلند کرو یقینا نماز کا وقت بہترین وقت ہے جس میں خدا اپنے بندوں کی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جب اس کو پکارتے ہیں وہ اجابت کرتا ہے۔۔

اے لوگو! تمہاری جانیں تمہارے اعمال کے گروی ہیں استغفار کر کے انہیں آزاد کرواؤ۔ اور تمہاری گردنیں گناہوں کے بوجھ سے لدی ہوئی ہیں پس طولانی سجدے کر کے انہیں ہلکا کرو۔

جان لو کہ خداوندعالم نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ نماز پڑھنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہیں کرے گا۔ روز قیامت جب لوگ پروردگار عالم کی بارگاہ میں قیام کریں گے ہرگز انہیں جہنم کی آگ نہیں دکھلائے گا۔۔

جو شخص برائی سے اپنے آپ کو بچائے گا، قیامت کے دن عذاب الٰہی سے محفوظ رہیگا اور خداوندعالم قیامت کے دن اس کا احترام کرے گا۔

اور جو شخص دوسروں پر رحم کریگا خداوند قیامت کے دن اس پر اپنی رحمت نازل کرے گا۔ اور جو شخص اس مہینہ میں کسی پر رحم نہیں کھائے گا خدا قیامت کے دن اس پر رحم نہیں کھائے گا۔

اور جو شخص ایک آیت قرآن کی تلاوت کریگا اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ پورا قرآن ختم کیا ہو۔

اے لوگو! اس مہینہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہیں، پس اپنے پروردگار سے چاہو کہ انہیں تمہارے اوپر بند نہ کرے۔اور اس مہینہ میں دوزخ کے دروازے بند ہیں خدا سے کہو کہ انہیں تمہارے اوپر نہ کھولے۔ شیاطین اس مہینہ میں زنجیروں میں بند ہیں اپنے پروردگار سے چاہو کہ انہیں تمہارے اوپر مسلط نہ کرے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا۔۔
اے رسول اللہ! اس مہینہ میں بہترین عمل کون سا ہے؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اے ابوالحسن! اس مہینے میں بہترین عمل محرمات سے پرہیز ہے۔”

مآخذ:

(1) الكافي، ج 4، ص 69، بصائر الدرجات، ص 331، من لا يحضره الفقيه، الرقم: 2051
(2) الكافي، ج 4، ص 69 – 70، معاني الأخبار، ص 315، من لا يحضره الفقيه، الرقم: 2050
(3) مختصر بصائر الدرجات، ص 56
(4) فضائل الأشهر الثلاثة، ص 93
(5) فضائل الأشهر الثلاثة، ص 98
(6) الجعفريات، ص 59 و 241
(7) الكامل في الضعفاء، ج 7، ص 53، السنن الكبرى للبيهقي، ج 4، ص 201، الرقم: 7693، الموضوعات، ج 2، ص 187، تفسير ابن أبي حاتم، الرقم: 1673
(8) الفوائد لتمام، الرقم: 229
(9) المشيخة للأنباري، الرقم: 52، ذيل تاريخ بغداد، ج 5، ص 75
(10) الأمالي للزيدي، ص 242
(11) تفسير الطبري، ج 2، ص 50، تاريخ مدينة دمشق، ج 26، ص 240
(12) السنن الكبرى للبيهقي، ج 4، ص 202
(13) الأذكار، ص 889، تفسير القرطبي، ج 2، ص 292
(14) مرآة العقول، ج 16، ص 213
(15) بحار الأنوار، ج 55، ص 341
(16) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿البقرة: ١٨٥﴾
(17) منتهى المطلب، ج 2، ص 556، مستدرك الوسائل، ج 7، ص 484 و 546، المصباح للكفعمي، ص 513، جامع أحاديث الشيعة، ج 9، ص 11، مستدرك سفينة البحار، ج 4، ص 194، الجامع الصغير، الرقم: 2595، تفسير الدر المنثور، ج 1، ص 183، فتح القدير، ج 1، ص 182 – 183، تاريخ مدينة دمشق، ج 47، ص 335

column in urdu Ramadan

گلگت بلتستان میں آئینی فقدا. ، محسن علی شگری

گلاب پور اور وزیر پور میں بدترین لوڈشیڈنگ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف

نعیمہ حسین انتقال کر گئی، فرسٹ ایئر کے رزلٹ میں کم نمبرز نے ایک طالبہ کی خوابون کو ہی نہیں اس کے سانسوں کو بھی خاموش کر دیا. ابوذر شگری

50% LikesVS
50% Dislikes

رمضان – اللہ کا ایک نام؟ . سید مظاہر حسین کاظمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں