پاکیزہ عشق . طہ علی تابشٓ بلتستانی
پتہ نہیں کیوں، جب بھی وہ سامنے آتے ہیں تو دل ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ وقت وہیں ٹھہر جائے اور میں دیر تک بس انہیں دیکھتا رہوں، جیسے نظر کے ذریعے اپنے دل کی ساری باتیں ان تک پہنچا دوں۔ مگر عین اسی لمحے ایک نرمی سے بھرا ہوا خوف مجھے روک لیتا ہے ۔
کہیں میری نظر کی شدت ان کی پاکیزگی کو چھو نہ لے، کہیں یہ چاہت اپنی حد سے آگے نہ بڑھ جائے۔
دل بار بار سمجھاتا ہے کہ محبت میں دیکھ لینا کوئی گناہ تو نہیں، مگر ضمیر نہایت دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہتا ہے کہ ہر سچی محبت کو حدود کا پاس بھی لازم ہے۔ یہ رشتہ عام نہیں، یہ ایک ایسا احساس ہے جس کی خوبصورتی اسی کی حیا اور خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ اسی لیے میں اپنی ہی خواہشوں کو آہستگی سے تھام لیتی ہوں، جیسے کوئی قیمتی چیز سنبھال کر رکھی جاتی ہے۔
کبھی دل یہ بھی چاہتا ہے کہ ان کے قریب جا کر، ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر، ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب کچھ کہہ دوں ۔
بغیر لفظوں کے، بغیر کسی بناوٹ کے۔ یہ کہ ان آنکھوں میں جھانک کر وہ خود دیکھ لیں کہ میری محبت میں کوئی غرض، کوئی لالچ، کوئی طلب نہیں… بس ایک خالص سا اخلاص ہے، ایک سچی سی وابستگی۔ مگر پھر وہی دل، وہی ضمیر، مجھے تھام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہیں ۔
ہر سچ کو ظاہر کرنا ضروری نہیں ہوتا، کچھ احساسات اپنی خاموشی میں ہی زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔
نہ جانے کیوں، لاکھ چاہنے کے باوجود بھی میری آنکھیں ان کی طرف نہیں اٹھتیں۔ یہ دوری بے رخی نہیں، بلکہ احترام کی ایک بلند شکل ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ میں ان سے محبت نہیں کرتی، بلکہ اس لیے کہ میری نگاہ اس محبت کو عام نہیں بنانا چاہتی۔
چاہتی ہے کہ اگر ایک بار کسی کے لیے اٹھے، تو پھر ہمیشہ کے لیے اسی کی ہو جائے، اور کسی اور کی طرف اٹھنے کی جرات بھی نہ کرے۔
اسی کشمکش میں ایک عجیب سا سکون بھی ہے ۔
جیسے دل جانتا ہو کہ یہ انتظار، یہ ضبط، یہ خاموشی سب رائیگاں نہیں جائے گی۔ دل کے کسی گہرے کونے میں ایک یقین جاگتا ہے کہ اللہ بھی ایسی ہی محبت کو پسند کرتا ہے جو اس کے بنائے ہوئے اصولوں کے دائرے میں رہے، جو پاکیزگی کے ساتھ پروان چڑھے اور جو اپنی تکمیل بھی اسی کے مقرر کردہ راستے پر پائے۔
شاید اسی لیے یہ دعا خودبخود لبوں پر آتی ہے کہ اگر یہ عشق سچا ہے، تو اسے ایک ایسے بندھن میں ڈھال دیا جائے جو پاک بھی ہو، مضبوط بھی ہو، اور ہمیشہ قائم رہنے والا بھی—ایک ایسی نسبت، جو وقت کے ساتھ کمزور نہ پڑے بلکہ اور نکھرتی جائے ، اور جو زندگی بھر کا ساتھ ہو سکون کے ساتھ ، اطمینان کے ساتھ،
تاحیات کے لئے۔
پاکیزہ عشق
طہ علی تابشٓ بلتستانی
column in urdu Pure Love
مضبوط جوان، مضبوط پاکستان منظورنظرؔ (اسکردو بلتستان)
نکاح متعہ اور یونیورسٹیز میں ہونے والی نئی فیشن ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی




