column in urdu Public Fundraising Campaign 0

امدادی کیمپوں کا قیام، عوامی سطح پر چندہ مہم. یاسر دانیال صابری
یہ وقت تاریخ کے اُن کڑے امتحانوں میں سے ایک ہے جہاں انسانیت خود اپنے وجود پر سوال اٹھانے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آگ بھڑک رہی ہے، کہیں بارود کی بو فضا میں پھیلی ہوئی ہے تو کہیں معصوم بچوں کی سسکیاں آسمان کو چیر رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر خون سے رنگین ہے اور طاقت کے نشے میں مست قوتیں اپنے مفادات کی جنگ کو انسانیت کی تقدیر بنا چکی ہیں۔ ایسے میں ایک عام انسان کے دل سے ایک ہی سوال اٹھتا ہے: کیا واقعی ہم ایک مہذب دنیا میں جی رہے ہیں یا ہم نے ترقی کے نام پر اپنی روح کھو دی ہے؟
آج عالمی سطح پر کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ نے حالات کو نہایت نازک بنا دیا ہے۔ مگر اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس جنگ کی قیمت ہمیشہ وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا نہ اس جنگ سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی کسی ایوانِ اقتدار سے۔ وہ صرف جینا چاہتے ہیں، اپنے بچوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، مگر انہیں موت اور خوف کے سائے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
ایسے اندھیرے میں اگر کہیں روشنی کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو وہ عام انسان کے دل میں موجود وہ درد ہے جو مظلوم کے لیے دھڑکتا ہے۔ یہی درد جب عمل میں ڈھلتا ہے تو ایک تحریک جنم لیتی ہے۔ گلگت بلتستان کی سرزمین پر اٹھنے والی وہی چھوٹی سی آواز آج ایک اجتماعی شعور میں بدل چکی ہے۔ امدادی کیمپوں کا قیام، عوامی سطح پر چندہ مہم، اور مظلوموں کے لیے دلوں میں پیدا ہونے والی بے لوث ہمدردی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے، ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئی۔
مجھے وہ لمحہ آج بھی یاد ہے جب پہلی بار یہ خیال دل میں آیا کہ صرف سوشل میڈیا پر افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ میں نے اپنے علما، اپنے دوستوں اور اپنے لوگوں کو آواز دی کہ گلگت بلتستان میں امدادی کیمپ قائم کیے جائیں۔ ابتدا میں کچھ خاموشی تھی، کچھ بے یقینی بھی تھی، مگر یہ خاموشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ خیال جو ایک دل میں پیدا ہوا تھا، کئی دلوں کی دھڑکن بن گیا۔
گلگت میں کیمپ کا قیام، پھر دنیور میں اس کا آغاز، اور اس کے بعد نگر، سلطان آباد، جوتل، ہنزہ اور دیگر علاقوں تک اس کا پھیلاؤ یہ سب کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری کی روشن علامت ہے۔ وہ منظر جو دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا، وہ معصوم بچوں کا تھا جو اپنی جمع پونجی لے کر آئے۔ وہ سکے اور نوٹ جو انہوں نے شاید اپنے کسی خواب کے لیے بچا رکھے تھے، آج انہوں نے مظلوموں کے نام کر دیے۔ یہ صرف امداد نہیں تھی، یہ ایک اعلان تھا—کہ ہمارے دل ابھی زندہ ہیں، ہماری غیرت ابھی باقی ہے۔
یہی نہیں، تاجروں کی جانب سے بعض عالمی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی ایک اہم قدم ہے۔ یہ ایک خاموش مگر مؤثر احتجاج ہے، جو ہر عام انسان کو اس جدوجہد کا حصہ بناتا ہے۔ جب ایک عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں شعوری فیصلے کرتا ہے تو وہ ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جو بغیر کسی شور کے بھی اثر رکھتی ہے۔
لیکن یہاں ہمیں خود سے ایک سوال کرنا ہوگا: کیا ہمارا یہ جذبہ وقتی ہے؟ کیا یہ صرف چند دنوں کی جذباتی لہر ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ یہ جذبہ ایک مستقل شعور میں تبدیل ہو جائے—ایسا شعور جو ہر مظلوم کے لیے کھڑا ہو، چاہے وہ کسی بھی خطے یا کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔
اسلام ہمیں صرف جذبات نہیں سکھاتا بلکہ حکمت، صبر اور اتحاد کا درس دیتا ہے۔ آج سب سے بڑی ضرورت اسی اتحاد کی ہے۔ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی یہ سب شناختیں اپنی جگہ، مگر ہماری اصل پہچان ایک امت ہونا ہے۔ اگر ہم اسی بنیاد پر متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت ہمیں تقسیم نہیں کر سکتی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دشمن ہمیشہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر ہمیں کمزور کرنا ہے تو ہمارے درمیان نفرت کے بیج بو دو، ہمیں آپس میں الجھا دو، اور پھر ہمیں آسانی سے زیر کر لو۔ مگر آج گلگت بلتستان کے عوام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند ہو تو ہر تقسیم کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
اہلِ اسلام کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صرف جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی زندگی کے عملی پہلوؤں میں بھی تبدیلی لائیں۔ ہمیں اپنی معیشت، اپنی ثقافت اور اپنی روزمرہ عادات میں شعور پیدا کرنا ہوگا۔ وہ چیزیں جو ہمیں ہماری اقدار سے دور لے جا رہی ہیں، ان سے دوری اختیار کرنا بھی ایک طرح کی جدوجہد ہے۔ بے مقصد فیشن، بے حیائی، اور وہ رجحانات جو ہماری اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں، ان کا شعوری بائیکاٹ وقت کی ضرورت ہے۔
یہ امدادی کیمپ صرف چندہ جمع کرنے کے مراکز نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد ہیں۔ اگر اس عمل کو منظم کر لیا جائے تو یہ ایک مضبوط فلاحی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ علما کرام کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جائے جو اس پورے عمل کی رہنمائی کرے۔ نوجوانوں کو اس میں شامل کیا جائے، رضاکار تنظیموں کو فعال کردار دیا جائے، اور مخلص و باکردار افراد کو آگے لایا جائے۔
اگر مختلف علاقوں سے جمع ہونے والی امداد کو کسی مرکزی مقام مثلاً مرکزی جامع مسجد میں جمع کر کے باقاعدہ نظم و ضبط کے ساتھ مستحقین تک یا متعلقہ ذرائع تک پہنچایا جائے تو یہ نہ صرف ایک مؤثر قدم ہوگا بلکہ اس سے اعتماد اور شفافیت بھی پیدا ہوگی۔ اس طرح یہ عمل ایک مضبوط اجتماعی آواز میں تبدیل ہو سکتا ہے جو دنیا تک اپنا پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ہماری سوچ، ہماری معیشت اور ہماری تہذیب کے اندر بھی لڑی جا رہی ہے۔ اگر ہم نے اپنے کردار کو مضبوط کر لیا، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لیا، اور اپنے فیصلوں میں شعور پیدا کر لیا تو یہی ہماری سب سے بڑی فتح ہوگی۔
وسلام
column in urdu Public Fundraising Campaign

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شگر انجمن امامیہ شگر کے ضلعی صدر کے انتخاب کیلئے اہم اجلاس، سید عباس الموسوی متفقہ طور پر صدر منتخب،

خونِ رہبر اور وحدتِ امت مسلمہ . محمد بشیر حیدری

سیاسی جیرہ دستی۔جب سوال جرم ٹھہرا. یاسمین اختر طوبیٰ. ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

امدادی کیمپوں کا قیام، عوامی سطح پر چندہ مہم. یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں