پراگریس (progress) اور گروتھ (growth): ترقی کے دو مختلف مگر مربوط زاویے. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
انسانی زندگی، معاشرت اور تہذیب کی تاریخ دراصل مسلسل تبدیلی اور ارتقا کی کہانی ہے۔ اس ارتقائی سفر کو بیان کرنے کے لیے مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں جن میں “پراگریس” (Progress) اور “گروتھ” (Growth) نمایاں ہیں۔ بظاہر یہ دونوں الفاظ ایک ہی مفہوم یعنی ترقی یا بڑھوتری کو ظاہر کرتے ہیں، مگر گہرے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مفہوم، نوعیت اور اطلاق میں واضح فرق موجود ہے۔ یہی فرق انسانی ترقی، سماجی تبدیلی اور فکری ارتقا کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سب سے پہلے اگر “پراگریس” کا مفہوم دیکھا جائے تو اس سے مراد آگے بڑھنے کا ایسا عمل ہے جس میں واضح سمت، مقصد اور شعوری کوشش شامل ہوتی ہے۔ پراگریس محض تبدیلی کا نام نہیں بلکہ ایسی تبدیلی کو کہتے ہیں جو بہتری کی طرف لے جائے۔ یعنی اس میں انسانی ارادہ، منصوبہ بندی اور محنت بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم مسلسل محنت کر کے اپنی تعلیمی کارکردگی بہتر بناتا ہے تو یہ اس کی پراگریس کہلائے گی۔ اسی طرح کسی معاشرے میں تعلیم، صحت، انصاف اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہتری آنا بھی اجتماعی پراگریس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
پراگریس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ مقصدیت (Purposefulness) پر مبنی ہوتی ہے۔ انسان اپنے لیے اہداف مقرر کرتا ہے اور پھر ان اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پراگریس کو اکثر انسانی شعور، عقل اور منصوبہ بندی سے جوڑا جاتا ہے۔ اس میں صرف حرکت یا تبدیلی نہیں بلکہ بہتری، اصلاح اور اعلیٰ معیار کی طرف سفر شامل ہوتا ہے۔
اس کے برعکس “گروتھ” کا تصور زیادہ تر فطری اور حیاتیاتی عمل سے متعلق ہے۔ گروتھ بنیادی طور پر کسی چیز کے بڑھنے، پھیلنے یا نشوونما پانے کو کہتے ہیں۔ یہ عمل قدرتی طور پر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور اس میں ضروری نہیں کہ کوئی شعوری مقصد یا منصوبہ بندی شامل ہو۔ مثال کے طور پر ایک بچے کا جسمانی طور پر بڑا ہونا، ایک پودے کا بڑھنا یا کسی آبادی کا تعداد میں اضافہ ہونا گروتھ کہلاتا ہے۔
گروتھ کی نوعیت یہ ہے کہ یہ لازمی طور پر مثبت یا منفی نہیں ہوتی بلکہ محض اضافہ یا پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ گروتھ تو ہے، مگر اگر اس کے ساتھ وسائل میں اضافہ نہ ہو تو یہ معاشرتی مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح کسی کاروبار کی آمدنی میں اضافہ گروتھ ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ معیار یا اخلاقی اقدار میں کمی آ جائے تو اسے حقیقی پراگریس نہیں کہا جا سکتا۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ ہر گروتھ لازمی طور پر پراگریس نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی چیز میں اضافہ تو ہوتا ہے مگر وہ بہتری کی طرف نہیں لے جاتا۔ مثال کے طور پر ٹیکنالوجی کا تیزی سے پھیلنا گروتھ کی مثال ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں انسانی تعلقات کمزور ہو جائیں یا اخلاقی مسائل پیدا ہوں تو اسے مکمل پراگریس نہیں کہا جا سکتا۔ اسی طرح معاشی سرگرمیوں میں اضافہ گروتھ تو ہو سکتا ہے، مگر اگر اس سے معاشرتی عدم مساوات بڑھ جائے تو اسے حقیقی ترقی نہیں کہا جائے گا۔
دوسری طرف حقیقی پراگرس اکثر گروتھ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ کسی بھی معاشرے میں تعلیم، علم، ٹیکنالوجی اور معاشی وسائل کی گروتھ ہی آگے چل کر پراگریس کی بنیاد بنتی ہے۔ جب گروتھ کو درست سمت، بہتر حکمت عملی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو وہ پراگریس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی تناظر میں اگر انسانی شخصیت کی ترقی کو دیکھا جائے تو گروتھ اور پراگریس دونوں کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ انسان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما گروتھ کا حصہ ہے، جبکہ علم حاصل کرنا، اخلاقی کردار کو بہتر بنانا اور معاشرے کے لیے مفید بننا پراگریس کی مثالیں ہیں۔ ایک شخص عمر میں تو بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر اس کے علم، کردار اور شعور میں اضافہ نہ ہو تو اسے مکمل ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
معاشرتی سطح پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ کسی قوم کی آبادی، صنعت یا وسائل میں اضافہ گروتھ ہو سکتا ہے، مگر اصل پراگریس تب ہوتی ہے جب اس کے ساتھ انصاف، تعلیم، تحقیق اور انسانی فلاح میں بہتری آئے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں ترقی کا معیار صرف معاشی گروتھ نہیں بلکہ انسانی ترقی، سماجی انصاف اور علمی ارتقا کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ گروتھ اور پراگریس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مگر مختلف تصورات ہیں۔ گروتھ اضافہ اور نشوونما کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ پراگریس اس اضافے کو ایک مثبت سمت میں آگے بڑھنے کے عمل میں تبدیل کرتی ہے۔ اگر گروتھ کو شعوری مقصد، اخلاقی رہنمائی اور درست حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے تو یہی گروتھ حقیقی پراگریس کی بنیاد بن جاتی ہے۔
لہٰذا افراد اور معاشروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف گروتھ پر اکتفا نہ کریں بلکہ اسے پراگریس میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ حقیقی ترقی صرف بڑھنے میں نہیں بلکہ بہتر ہونے میں پوشیدہ ہے۔
column in urdu Progress and Growth
بغیر تصدیق کے سنی سنائی باتوں پر عمل مت کریں، سردار احمد تبسم گڈانی
ضلع شگر میں بین المسالک ہم آہنگی اور یکجہتی کا خوبصورت مثال




