نمازی بچہ نمازی حالت میں شہید. سید مظاہر حسین کاظمی
نماز، جو ایک مسلمان کی سب سے بڑی عبادت ہے، نہ صرف روح کی پاکیزگی اور دل کی سکونت کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان کو اللہ کے قریب لے آنے والا سب سے اہم عمل بھی ہے۔ کسی مسلمان کا نماز میں مشغول ہونا اور اس کے دوران دشمن کی گولی کا نشانہ بننا، اس بات کا غماز ہے کہ ایمان کی قوت کسی بھی حالت میں کم نہیں ہوتی۔ “نمازی بچہ نمازی حالت میں شہید” ایک ایسی دل دہلا دینے والی تصویر ہے جو ایمان، قربانی، اور اللہ کے راستے میں بے مثال سرحدوں کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایمان کے راستے پر قدم رکھنے والا ہر شخص، چاہے وہ بچہ ہو یا بزرگ، کسی بھی قربانی سے نہیں ہچکچاتا نماز ایک مسلمان کی روحانی بنیاد ہے، جو نہ صرف دل و دماغ کو سکون بخشتی ہے بلکہ انسان کو اللہ کی رضا کی طرف راہنمائی بھی دیتی ہے۔ جب ایک بچہ اپنی معصومیت کے ساتھ نماز میں مشغول ہوتا ہے، تو اس کے چہرے پر ایک خاص سکون اور معصومیت نظر آتی ہے جو اللہ کے ساتھ تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ بچے میں نماز کی محبت پیدا کرنا، ایک ایسی کامیابی ہے جو ہر مسلمان کی زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔نمازی بچہ، جس نے نماز کے دوران شہادت پائی، یہ ایک سنگین پیغام دیتا ہے کہ ایمان کا راستہ کسی بھی حالت میں کمزوری اختیار نہیں کرتا۔ وہ بچہ جس کی عمر ابھی صرف چند برسوں پر مشتمل تھی، اللہ کی عبادت میں اتنی شدت سے محو تھا کہ اس نے اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ایسی قربانی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب انسان اپنے ایمان میں پختہ ہو، تو وہ دنیا کی ہر مشکل اور تکلیف کو اللہ کی رضا کی خاطر قبول کر لیتا ہے۔ وہ بچہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے فخر کا باعث بن گیا شہادت کی حقیقت اسلام میں شہادت کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ اسے “زندگی” کا دوسرا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ شہید کی موت کو مادی دنیا کی موت نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک بلند مقام اور اللہ کی رضا کے لئے عظیم ترین قربانی سمجھی جاتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوئے، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پا رہےہیں۔” (سورة آل عمران: 169) اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کرتے ہیں، وہ اللہ کی خاص رحمت میں ہوتے ہیں اور ان کا مقام ہمیشہ بلند رہتا ہے۔ وہ زندگی کے تمام جتنے خوبصورت پہلو ہیں، انہیں اللہ اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے نمازی بچہ نمازی حالت میں شہید ہو جانا محض ایک سانحہ نہیں، بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں کو ایمان، عبادت اور قربانی کے رنگ میں رنگنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس واقعے کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ دکھایا کہ ایمان کی پختگی اور عبادت میں قوت کسی عمر یا جسم کی حدود سے ماورا ہوتی ہے۔ایمان کی پختگی: یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایمان اور عبادت کا کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اس بچہ نے ثابت کر دیا کہ ایمان کی راہ میں قدم رکھنے والا کبھی بھی خوف یا پریشانی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہتا ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بزرگ۔قربانی کی حقیقت: اس بچے کی شہادت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی قربانی وہی ہوتی ہے جو انسان اللہ کی رضا کے لئے دیتا ہے۔ اس بچہ نے نماز کے دوران اپنی جان دی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان اپنی عبادات اور اللہ کے ساتھ تعلق کو کسی بھی صورت میں کم نہیں ہونے دیتا۔ اللہ کی راہ میں قربانی دینے سے بڑی کوئی شرافت نہیں۔ایک بلند مقام: اس بچے کی شہادت امت مسلمہ کے لئے ایک روشن مثال بن گئی۔ وہ اس مقام پر فائز ہے جہاں دنیا کا کوئی مرتبہ اس کی قربانی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ایسے بچے کی شہادت مسلمانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے راستے پر چلنا اور اس کی رضا کے لیے اپنی زندگی پیش کرنا، سب سے بڑی کامیابی ہے۔نمازی بچہ نمازی حالت میں شہید ہو جانا نہ صرف ایک سانحہ ہے بلکہ ایک عظیم مثال بھی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایمان، عبادت، اور قربانی کا راستہ ہمیشہ انسان کے دل میں رچ بس کر رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے راستے میں قدم رکھتا ہے، اس کے لیے کوئی بھی قربانی چھوٹی نہیں ہوتی۔ اللہ کی رضا کے لئے اپنی زندگی اور وقت کا ہر لمحہ قربان کرنا، حقیقی کامیابی ہے۔ اس بچے کی شہادت نہ صرف اس کی روحانی بلندی کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم بھی اللہ کے راستے پر چل کر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں، کیونکہ یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی حقیقی علامت ہے۔
column in urdu Praying Child Martyred
بین الصوبائی اقامتی منصوبہ 2026 از اکادمی ادبیات پاکستان. شہزین فراز
اسکردو پولیس کی بڑی کاروائی، 10 کلو چرس برآمد، مزید کاروائی کے لیے چھاپے جاری ہیں




