غلام حسین بلغاری ، طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
غلام حسین بلغاری، جنہیں عموماً “شہنشاہِ بلتی غزل” کے لقب سے جانا جاتا ہے۔
ان کا تعلق ضلع گانچھے کے علاقے بلغار سے ہے، لیکن عرصۂ دراز سے آپ سکردو میں مقیم ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ پورے بلتستان کے نوجوانوں کے پسندیدہ شاعر ہیں۔
بلغاری کو مختلف فورموں پر یہ فکر ستاتی رہتی ہے کہ آنے والی نسلوں نے بلتی ثقافت، بالخصوص زبان کے ساتھ بہت ناانصافی کی ہے۔
وہ ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ “انہیں ان نوجوانوں سے شدید نفرت ہے جو ان کے پاس آ کر عموماً اردو زبان میں بات کرتے ہیں۔”
ایک سائل نے جب بلغاری کی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہوئے پوچھا کہ “آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟” تو اس پر پہلے بلغاری صاحب کچھ لمحے خاموش رہے، پھر اتنا کہہ کر بات ٹال دی: “کچھ سوالوں کے جواب دینا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ ہاں، البتہ ایک بات طے ہے کہ بچپن ہی سے میرے کسی اپنے نے مجھے اس قدر ستایا کہ مجھے لفظ ‘عورت’ سے ہی نفرت ہو گئی اور میں آج تک اسی پر قائم ہوں۔”
بلغاری نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلتی غزل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “اگر آپ کو بلتی قصیدے، منقبت، نوحے اور مرثیے سمجھنے ہیں تو آپ کو بلتی غزل سمجھنا ہوگی، کیونکہ یہی وہ صنف ہے جو آپ کو بلتی زبان کی اصلیت اور اس کی اصل لذت سے روشناس کرا سکتی ہے۔”
غلام حسین بلغاری نے اب تک تقریباً ستر سے اسی کے قریب بلتی غزلیں اور دیگر کلام لکھے ہیں۔
خود ان کے مطابق، کبھی کبھی ایک غزل کو مکمل کرنے میں انہیں دو دو سال تک کا عرصہ لگ گیا ہے۔
بلغاری کو ایک اور سخت خدشہ یہ بھی ہے کہ بلتستان کے گلوکار ان کی غزلوں کو بلتی زبان کے صحیح تلفظ کے ساتھ نہیں گاتے، اسی لیے وہ اپنی غزلیں انہیں دینے سے گریز کرتے ہیں۔
*مصنف کی رائے:*
غلام حسین بلغاری بلتستان کے لیے وہ چراغ ہیں جس کی روشنی کا احساس ہمیں صدیوں بعد ہوگا۔
سنا ہے کہ ملک بھوٹان میں “بلغاری ڈے” منایا جاتا ہے، جبکہ لداخ اور کرگل کے باشندے ان کی زیارت کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔
لیکن ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جسے ہیرا کو کنکر اور کنکر کو ہیرا سمجھنے میں ہمیشہ تاخیر ہو جاتی ہے۔ ہم لوگ مرنے تک کسی کی قدر کرنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
نہ ہماری حکومت کو ایسے چراغوں سے کوئی سروکار ہے، نہ ہمارے پڑھے لکھے طبقے کو، اور نہ ہی یونیورسٹیوں میں موجود لسانیات کے شعبوں کے پروفیسرز اور دیگر ذمہ دار افراد کو ان میں کوئی دلچسپی ہے۔
ہمارے ہاں کلچرل شوز تو بہت ہوتے ہیں، لیکن مجال کہ کبھی کسی شو میں غلام حسین بلغاری کو مدعو کیا جائے۔
حال ہی میں ڈگری کالج سکردو میں بلغاری کی غزلوں کو فروغ دینے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی گئی تو وہاں بھی مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو اسلام خطرے میں محسوس ہونے لگا۔
حیرت ہے کہ ان کی زبانیں اُس وقت بند کیوں تھیں جب معاشرے میں کھلم کھلا سود جیسے کاروبار ہو رہے تھے؟
عزیزو!
بلتی زبان بھی ان معدوم ہوتی ہوئی زبانوں میں شامل ہے جس کے بولنے والے عنقریب ناپید ہو جائیں گے۔
یونیورسٹی میں کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ نوے فیصد سے زائد طلباء و طالبات کو بلتی زبان نہ صرف پڑھنی بلکہ سمجھنے تک نہیں آتی۔
میں جب بھی غلام حسین بلغاری کا کلام پڑھتا ہوں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے اپنی شاعری میں کس قدر خوبصورتی سے ضرب الامثال، تلمیحات اور تاریخی واقعات کو برتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان کے کلام میں ایسے بہت سے نئے (یا پرانے ) الفاظ کا استعمال ہوا ہے جنہیں سمجھنے کے لیے بزرگوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
ہائے افسوس!
لیکن اس عظیم شخص کے لیے ہماری حکومت، یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرف سے تو کسی اعزاز و تمغے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اس عظیم کارنامے پر ایک چھوٹا سا پروگرام منعقد کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم لاکھوں میل دور فلسطین، پارا چنار، برما اور دوسروں کے لیے روز ماتم کرتے ہیں، لیکن اپنی زبان ، اپنی قوم اور ثقافت کو بچانے کے لیے نہ ہمارے پاس کوئی حکمتِ عملی ہے اور نہ ہی ہم اس پر کوئی کام کرنے کو تیار ہیں۔
واقعی، بلغاری نے سچ کہا ہے
“اخ لے بلغاری، کھیری لقپی کیسو لقپار لا یود”
۔
یقیناً اس کی جنم اس قوم میں ہوئی ہے جہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔
بلغاری صاحب نے متعدد فورمز پر یہ بات دہرائی ہے کہ انہیں بلتی زبان اور ہماری بدلتی ہوئی ثقافت کے بارے میں سخت فکر لاحق ہے۔
یقیناً ایسے جذبات زندہ دل ہستیوں کی علامت ہیں، جو اپنی قوم اور زبان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔
یاد رہے !
زبانیں قوموں کی پہچان ہوتی ہے، اور وہی قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں جو اپنی زبان کو بھلا کر غیروں کی زبانوں کو اپناتی ہیں۔
اور یہ ذہنی غلامی پشت در پشت منتقل ہوتی رہتی ہے۔
Column in Urdu, poetry
وَالسَّلَام




