column in urdu Parents’ Negligence 0

والدین کی غفلت یا ٹیکنالوجی کا جال. محمد سکندر کونیسی
دنیا آج ایک خطرناک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں انسانوں کے لیے کئی نئے مسائل بھی جنم دیے ہیں۔ موجودہ دور کو مصنوعی ذہانت (AI) کا دور کہا جا رہا ہے، جہاں مشینیں انسانوں جیسے کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک انقلابی تبدیلی ہے، مگر اس کے سائے میں کئی خطرات بھی چھپے ہیں، خاص طور پر والدین کے لیے، جن کے بچے موبائل فون اور اسکرین کے اسیر ہو چکے ہیں ،موبائل کی لت جدید دنیا میں والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک خوفناک حقیقت بھی ہمارے گھروں میں سرایت کر چکی ہے اور وہ ہے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون،اسکرین کی لت ایک خاموش بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جو بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت کو متاثر کر رہی ہے، بدقسمتی سے، والدین خود اس مسئلے کے ذمہ دار بن چکے ہیں، بچوں کو مصروف رکھنے یا شرارتوں سے بچانے کے لیے والدین انہیں موبائل پکڑا دیتے ہیں تاکہ وہ خود سکون سے اپنے کام کر سکیں۔ یہ وقتی سکون درحقیقت ایک خاموش زہر ہے، جو آہستہ آہستہ بچوں کے ذہن، تخلیقی صلاحیتوں اور حقیقی دنیا سے تعلق کو مٹا رہا ہے۔تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جو بچے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، ان کی سیکھنے، سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ وہ الفاظ کم سیکھتے ہیں، ان کی توجہ بکھر جاتی ہے اور وہ کسی ایک کام پر دیر تک توجہ نہیں دے پاتے۔ اسکرین پر انحصار کرنے والا بچہ تخلیق، جستجو اور تجربات سے سیکھنے کے بجائے صرف دیکھنے اور نقل کرنے والا بن جاتا ہے,مزید برآں، موبائل کے زیادہ استعمال سے بچوں میں موٹاپا، آنکھوں کی کمزوری، نیند کی کمی، اور دیگر جسمانی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں سے دور ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی مجموعی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایسے بچے سماجی تعلقات سے کٹنے لگتے ہیں۔ وہ والدین، بہن بھائیوں، اور دوستوں کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کے بجائے اسکرین کی دنیا میں کھو جاتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے,والدین کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اگر بچہ خاموش ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے۔ بہت سے گھرانوں میں بچوں کو صبح سے شام تک موبائل دیا جاتا ہے تاکہ وہ مصروف رہیں اور والدین اپنے کام سکون سے کر سکیں، یہ رویہ بچوں کی شخصیت کو تباہ کر رہا ہے۔ جب بھی بچہ بور ہوتا ہے یا بے چینی محسوس کرتا ہے، وہ موبائل کی طرف لپکتا ہے۔ اس طرح وہ صبر، برداشت اور خود پر قابو پانے جیسی بنیادی انسانی خصوصیات سے محروم ہو جاتا ہے،بچوں کو حقیقی دنیا سے جوڑنے کے لیے والدین کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو والدین کو خود اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ اگر والدین خود مسلسل موبائل استعمال کرتے رہیں گے، تو بچے ان کی نقل ضرور کریں گے۔ گھر میں موبائل استعمال کے لیے ایک وقت مقرر کریں اور بچوں کو ایسے متبادل تفریحی مواقع فراہم کریں جو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے مفید ہوں، جیسے کہ پارک میں کھیلنا، کتابیں پڑھنا، کہانیاں سننا، یا فیملی ٹائم گزارنا،والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات چیت کریں، اور ان کی دلچسپی کے مطابق سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ بچوں کے لیے ایک ایسا شیڈول بنائیں جس میں تعلیم، کھیل، آرام، اور خاندانی میل جول کا توازن ہو۔ کھانے کی میز، سونے کے کمرے، اور فیملی اجتماعات کے دوران موبائل کا استعمال مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔
بچوں کو فطرت کے قریب لے جانا، آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں حصہ لینا اور کتابوں سے رشتہ جوڑنا ان کی شخصیت کو نکھار سکتا ہے۔ انہیں ایسی مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھیں جو انہیں خوداعتمادی، جذباتی توازن، اور زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی طاقت دے سکیں۔
اگر والدین آج بیدار نہیں ہوتے، تو آنے والا وقت نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا المیہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں، آج جو خاموشی اور آسانی آپ کو اچھی لگ رہی ہے، وہ کل کے سب سے بڑے نقصان کی صورت میں سامنے آئے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اسکرین کی قید میں جکڑے بچپن کو آزاد کریں اور بچوں کو حقیقی دنیا سے جوڑنے کا فیصلہ کریں،
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے وقتی سکون یا صحت مند مستقبل؟

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Parents’ Negligence

معاشی دباؤ اور متوسط طبقہ: ایک خاموش بحران. سلیم خان

آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کررہے ہیں: فنانشل ٹائمز

عید کے رنگ پیا کے سنگ” . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

والدین کی غفلت یا ٹیکنالوجی کا جال. محمد سکندر کونیسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں