ہماری اخلاقی زمہ داری اور سستی شہرت کی دوڈ. یاسر دانیال صابری
حیائی، ناچ گانے کی ویڈیوز اور سستی شہرت کی دوڑ نے ہمارے معاشرے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینوں کے پیچھے ایک اندھیرا بھی ہے، جو آہستہ آہستہ ہماری تہذیب، ہماری حیا اور ہماری اجتماعی سوچ کو نگل رہا ہے۔ جب کوئی مرد محض شہرت اور فالوورز کے لیے عورت کا روپ دھار کر عجیب و غریب حرکات کرتا ہے، تو مسئلہ صرف ایک ویڈیو کا نہیں رہتا، مسئلہ پورے معاشرے کے ذوق اور معیار کا بن جاتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ فن اور اظہار کی آزادی ہر انسان کا حق ہے۔ مگر آزادی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور وہ حد اخلاق، شرافت اور معاشرتی ذمہ داری سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر آزادی کے نام پر ہر وہ کام جائز قرار دے دیا جائے جو لوگوں کو وقتی تفریح فراہم کرے، تو پھر تہذیب اور حیاء کا وجود کہاں باقی رہے گا؟ سستی ہنسی، بازاری جملے اور غیر مہذب انداز میں بنائی گئی ویڈیوز نہ صرف دیکھنے والوں کے ذوق کو متاثر کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کے ذہنوں میں بھی غلط رجحانات پیدا کرتی ہیں۔
ہماری اسلامی تہذیب ہمیں حیا، وقار اور سنجیدگی کا درس دیتی ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک الگ شناخت اور ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ جب کوئی مرد محض لائکس اور ویوز کے لیے عورت کا روپ اختیار کرتا ہے اور اسے مزاح یا تفریح کا نام دیتا ہے، تو درحقیقت وہ عورت کی شناخت کو ایک مذاق بنا دیتا ہے۔ عورت ایک ماں ہے، ایک بہن ہے، ایک بیٹی ہے، اس کا تقدس ہے، اس کی عزت ہے۔ اس کی نقل اتار کر اسے تماشہ بنانا کسی صورت بھی مہذب رویہ نہیں۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک سوچ کا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر جو کچھ وائرل ہوتا ہے، وہی معاشرے کا معیار بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل جسے دیکھتی ہے، وہی سیکھتی ہے۔ اگر ان کے سامنے سنجیدہ، باوقار اور مثبت کردار آئیں گے تو وہ بھی ویسا ہی بننے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اگر ان کے سامنے بازاری انداز، مصنوعی چہروں اور اخلاقی پستی کے نمونے پیش کیے جائیں گے تو وہ بھی اسی راستے کو آسان سمجھیں گے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ شہرت کی یہ دوڑ آخر کہاں لے جا رہی ہے؟ کیا چند لمحوں کی مقبولیت کے لیے ہم اپنی شناخت، اپنی ثقافت اور اپنی اقدار کو داؤ پر لگا سکتے ہیں؟ سچی عزت وہ ہے جو کردار سے ملتی ہے، نہ کہ مصنوعی انداز اور وقتی شہرت سے۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے معاشرے کی اصلاح کی، نہ کہ ان کو جنہوں نے اس کے زخموں کو گہرا کیا۔
ہمارے معاشرے میں پہلے ہی بے شمار مسائل موجود ہیں: بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، معاشی دباؤ، اور اخلاقی انحطاط۔ ایسے میں اگر میڈیا اور سوشل میڈیا بھی سنجیدگی کے بجائے بے حیائی کو فروغ دیں گے تو اصلاح کا راستہ مزید مشکل ہو جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کا معاشرہ اپنے بچوں کے لیے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر وہ چیز جو نظر آتی ہے، بری نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر فنکار کا کام قابلِ مذمت ہے۔ مگر جب فن اخلاق کی حدود کو پامال کرنے لگے، جب مزاح تضحیک میں بدل جائے، اور جب شہرت کے لیے اقدار قربان کی جائیں، تو آواز اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔ خاموشی کبھی کبھی جرم کے برابر ہوتی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مردانگی کا مطلب صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ کردار کی مضبوطی بھی ہے۔ ایک مرد کی پہچان اس کے وقار، اس کی ذمہ داری اور اس کے اصولوں سے ہوتی ہے۔ اگر وہ خود ہی اپنی شناخت کو مذاق بنا دے تو پھر دوسروں سے عزت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ انہیں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے آگاہ کریں۔ تعلیمی ادارے بھی کردار سازی کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ علما اور دانشور اپنی تحریروں اور خطبات کے ذریعے معاشرے میں اخلاقی بیداری پیدا کریں۔ اور سب سے بڑھ کر، ہر فرد خود احتسابی کرے۔
اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہم خود اپنے اندر حیا، ذمہ داری اور شعور پیدا کریں گے تو آہستہ آہستہ معاشرہ بھی بدل جائے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تہذیبیں محض عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ کرداروں سے بنتی ہیں۔ اگر کردار کمزور ہوں گے تو عمارتیں بھی کھوکھلی رہیں گی۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ ہمیں اپنی اقدار کی حفاظت کرنی ہوگی۔ حیا کوئی پرانی روایت نہیں، بلکہ ایک زندہ اصول ہے جو معاشرے کو باوقار بناتا ہے۔ اگر ہم نے آج اس کی حفاظت نہ کی تو کل شاید ہمارے پاس پچھتانے کے سوا کچھ نہ بچے۔ شہرت عارضی ہے، مگر کردار دائمی۔ انتخاب ہمارا ہے کہ ہم کس راستے کو چنتے ہیں۔
column in urdu Our Moral Responsibility
معمار قوم پریشان. ریٹائرمنٹ کے خواب ادھورے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
ہمارے بزرگوں کا نظامِ زندگی اور آج کا بے سکون دور. یاسر دانیال صابری




