تاریخ کے عام لوگ، پارس کیانی ساہیوال، پاکستان
تاریخ عموماً طاقت وروں کے ناموں سے جانی جاتی ہے۔ بادشاہ، فاتح، جرنیل، حکمران، فلسفی اور انقلابی۔ یہ سب تاریخ کے اوراق پر نمایاں حروف میں لکھے جاتے ہیں۔ مگر ان نمایاں ناموں کے پیچھے ایک ایسی خاموش اکثریت موجود ہوتی ہے جس کا ذکر اکثر تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ یہ وہ عام لوگ ہیں جو نہ تخت پر بیٹھے، نہ لشکر کی قیادت کی، نہ کسی انقلاب کے نعرے لگائے، مگر پھر بھی تاریخ کا اصل بوجھ انہی کے کندھوں پر رہا۔
تاریخ کے عام لوگ وہ کسان ہیں جن کے ہاتھوں کی محنت سے سلطنتوں کے خزانے بھرے، وہ مزدور ہیں جنہوں نے پتھر اٹھا اٹھا کر محلات اور قلعے تعمیر کیے، وہ مائیں ہیں جنہوں نے سپاہیوں کو جنم دیا، اور وہ بچے ہیں جنہوں نے فاقوں میں جوانی گزاری۔ تاریخ میں جب کسی جنگ کا ذکر آتا ہے تو فاتح کا نام محفوظ ہو جاتا ہے، مگر ان ہزاروں لاشوں کے نام گمنام رہ جاتے ہیں جو فتح کی قیمت بنے۔
عام آدمی تاریخ میں اکثر صرف ایک عدد ہوتا ہے، اتنی ہلاکتیں، اتنے قیدی، اتنے بے گھر لوگ۔ اس کے دکھ، اس کی خواہشات، اس کی قربانیاں اعداد و شمار میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کوئی یہ نہیں لکھتا کہ جنگ کے بعد کسی گاؤں کی عورت نے کس طرح ویران صحن میں بیٹھ کر اپنے بیٹے کا انتظار کیا، یا کسی مزدور نے انقلاب کے بعد بھی خالی جیب کے ساتھ ہی دن گزارا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ ہمیشہ ظالم یا طاقتور کے حق میں نہیں ہوتی، مگر تاریخ کا لکھا جانا اکثر طاقتور کے ہاتھ میں رہا ہے۔ اس لیے عام لوگ یا تو نظر انداز ہوئے، یا محض پس منظر کا حصہ بن کر رہ گئے۔ بادشاہ بدلتے رہے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی مسائل، روٹی، امن، انصاف، ہمیشہ تشنہ ہی رہے۔
اس کے باوجود، تاریخ کے عام لوگ محض مظلوم یا بے بس کردار نہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے تہذیب کو زندہ رکھا، زبانوں کو محفوظ کیا، ثقافت کو نسل در نسل منتقل کیا۔ اگر عام لوگ نہ ہوتے تو کسی فلسفے کو سننے والا، کسی مذہب کو ماننے والا، اور کسی نظریے کو آگے بڑھانے والا کوئی نہ ہوتا۔ تاریخ کے بڑے واقعات دراصل عام لوگوں کی اجتماعی موجودگی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ بعض اوقات یہی عام لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں، ظلم کو سہہ لیتے ہیں، اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے۔ مگر اس خاموشی کو محض کمزوری کہنا بھی ناانصافی ہے۔ صدیوں کے خوف، بھوک، اور عدم تحفظ نے انہیں خاموش رہنا سکھایا۔ ہر شخص میں ہیرو بننے کی سکت نہیں ہوتی، مگر زندہ رہنا بھی کسی معرکے سے کم نہیں۔
آج کا عام آدمی بھی تاریخ کے اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ وہ جو صبح دفتر جاتا ہے، شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے، ٹیکس دیتا ہے، قانون کا بوجھ اٹھاتا ہے، مگر فیصلوں میں شامل نہیں ہوتا، یہی مستقبل کی تاریخ کا سب سے بڑا کردار ہے۔ آنے والی نسلیں شاید کسی حکمران کا نام یاد رکھیں، مگر حقیقت میں وقت کا چہرہ اسی عام انسان کے تجربات سے بنتا ہے۔
اگر تاریخ کو واقعی انسان دوست بنانا ہے تو ہمیں تاریخ کے عام لوگوں کو مرکز میں لانا ہوگا۔ ان کی کہانیاں، ان کے دکھ، ان کی مزاحمت، اور ان کی خاموش قربانیاں تسلیم کرنا ہوں گی۔ کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں کہ کون جیتا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کس نے کتنی قیمت ادا کی۔؟
column in urdu, Ordinary People of History
ایف آئی اے افسران کراچی ائیرپورٹ پر چوہے پکڑیں گے اور سیوریج نظام دیکھیں گے




