إِانَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
بے شک مجھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے (الحدیث) .ماسٹرموسٰی علی شگری
یقیناایک مثالی معلم کاکردار محض نصاب کی تدریس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ نسلوں کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کا معمار ہوتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے ہی عظیم استاد کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کی طویل، مثالی اور ناقابلِ فراموش تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا۔
محترم استاد جناب محمودی صاحب نےاپنی سروس میں نہ صرف تدریسی ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری، خلوص اور لگن کے ساتھ نبھائیں بلکہ ایک ایڈمنسٹیڑ کی حثیت سےوقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے منفرد اور مؤثر تعلیمی پروگراموں کا اہتمام بھی کیا۔ انہی پروگراموں کے ذریعے طلبہ میں تخلیقی سوچ، تنقیدی شعور، خود اعتمادی اور عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتوں کو فروغ ملا۔ ان کی کاوشوں نے تعلیم کو محض کتابی علم سے نکال کر ایک زندہ، بامقصد اور عملی عمل بنا دیا۔
انہوں نے ہمیشہ نئی نسل کی اخلاقی تربیت کو علمی تربیت کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھا۔ ان کا طرزِ عمل، نرم گفتاری، برداشت، اور طلبہ سے مخلصانہ رویہ ہر ایک کے لیے مشعلِ راہ رہا۔ وہ طلبہ کے لیے استاد ہی نہیں بلکہ ایک رہنما، مربی اور محسن کی حیثیت رکھتے تھے جن کی نصیحتیں اور رہنمائی آج بھی شاگردوں کے دل و دماغ میں زندہ ہیں۔
انہوں نےجہاں اپنی خدمات سر انجام دی وہاں ان اداروں کاوقار نمایاں طور پر بلندکیا اور بے شمار طلبہ کو کامیاب، ذمہ دار اور باکردار شہری بننے میں مدد دی۔ اگرچہ آج آپ سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں، مگر ان کا علم، تربیت اور خدمات کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
تعلیم کا اصل مقصد محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ طلبہ کے فکر و شعور میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ استادِ محترم نے اپنی تدریسی خدمات کے دوران اسی مقصد کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا اور طلبہ کی فکری تشکیل میں نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔
انہوں نے طلبہ کو عام روایات سےہٹ کر سوچنے، سوال کرنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کی ترغیب دی۔ ان کی تدریس کا انداز ایسا تھا جو طلبہ میں خود آگاہی، تنقیدی فکر اور مثبت طرزِ فکر کو پروان چڑھاتا تھا۔ وہ طلبہ کو مسائل سے گھبرانے کے بجائے حل تلاش کرنے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور دلیل کے ساتھ اپنی بات پیش کرنے کا شعور دیتے رہے۔
محترم استاد محمودی صاحب نے اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری اور قومی شعور کو فکری تربیت کا لازمی حصہ بنایا۔ ان کی رہنمائی میں طلبہ نے زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ جینا سیکھا اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کا ہنر حاصل کیا۔ ان کی باتوں میں عمل کی جھلک اور عمل میں خلوص نمایاں تھا، جس کا گہرا اثر طلبہ کی سوچ اور کردار پر مرتب ہوا۔
طلبہ کی فکری تبدیلی کے لیے منعقد کیے گئے مباحثے، مطالعاتی نشستیں، تربیتی پروگرام اور رہنمائی سیشنز ان کی بصیرت اور دور اندیشی کا ثبوت ہیں۔ ان کا یہ کارنامہ ہے کہ آج ان کے شاگرد صرف تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ باخبر، باکردار اور ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہمیں تسر کے عوام، علما، نوجوانوں، سماجی شخصیات پر فخر ہے ۔ہائی سکول کےساتھ ان سبھی کاہمیشہ سے خصوصی لگاؤ رہا ہے جوکہ مثالی وقابل تحسین ہیں سب سے بڑھ کر ہمیں کےسکول کے تمام اساتذہ کرام پرفخر ہے کیونکہ سبھی اساتذہ اپنی ذمہ داریاں نہایت دلجمعی ،درس وتدریس کو عام پیشے سے ہٹ کر اپنا دینی فریضہ وعبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے بھی سستی نہیں دکھاتے یہی وجہ ہے کہ بوائز ہائی سکول تسر کا رزلٹ سالہا سالوں سے مثالی رہا ہے ورنہ کوئی بھی کام فرد واحد خواہ کتنا ہی قابل وباصلاحیت کیوں نہ ہو کچھ نہیں کر سکتا جب تک ایک قابل ومستعدٹیم نہ ملے ۔تمام استادکرام کی فکری وعملی خدمات ایک قیمتی سرمایہ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی ہمیں امید ہےنہ صرف ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا بلکہ ان کا یہ عظیم مشن استاد محترم جناب غلام یسین صاحب جوکہ ایک تجربہ کار استاد ہے کی قیادت و باقی اساتذہ کے تعاون سے جاری وساری رکھا جائے گا انشااللہ ۔
طلبہ کی تعلیمی بہتری اور فکری نشوونما کے لیے ونٹر اسٹڈی کیمپ جس کا آغاز تقریبا سن دوہزا دس گیارہ میں صرف بیس طلبا کے ساتھ کیا گیاجس میں بندہ حقیر ،برادر اسلم ناز ومحترم مہدی علی صاحب تسرکوتاریخ میں پہلی بار کسی گورنمنٹ سکول میں چوبیس گھنٹے مسلسل دو ماہ تک ہاسٹلنگ نظام کی نگرانی وانصرام کے لئے قیام کا موقع ملا۔گوکہ یہ کام نہایت مشقت طلب مگر نہایت نیک وناگزیر تھا اس لئے تھکاوٹ و بوریت کا کبھی زرہ برابر احساس تک نہیں ہوا لگ بھگ آٹھ دس سال تک اس نظام کا ادنی ساشراکت دار رہا ۔ اب خدا کے فضل سے سکول ہذا میں میٹرک میں زیر تعلیم طلبا کی تعدادلگ بھگ ڈیڑھ سو کے قریب اور ان کی سرمائی تعطیلات میں تعلیم وتربیت پر پانچ چھےکوالئفائیٹ اساتذہ معمورہیں ان اساتذہ کی زیر نگرانی نظام تعلیم بہترین انداز میں چل رہے ہیں۔سبھی انتہائی دیانتداری کے ساتھ طلبا کو ہر قسم کی رہنمائی وضروری سہولیات فراہم کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اس کیمپ کا بنیادی مقصد سردیوں کی طویل تعطیلات کے دوران طلبہ کے قیمتی وقت کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرنا اور ان کی تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنا تھا۔
ونٹر اسٹڈی کیمپ میں نہ صرف نصابی مضامین کی مؤثر تدریس کا اہتمام کیا گیا بلکہ طلبہ کی فکری، ذہنی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ جدید اور دلچسپ تدریسی طریقوں کے ذریعے طلبہ میں سیکھنے کا شوق پیدا کیا گیا، جس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا اور تعلیمی کارکردگی بہتر ہوئی۔
اس کیمپ کے دوران خصوصی کلاسز، گروپ اسٹڈی، سوال و جواب کی نشستیں اور رہنمائی سیشنز منعقد کیے گئے، جنہوں نے طلبہ کو امتحانات کی بہتر تیاری اور وقت کے مؤثر استعمال کا شعور دیا۔ اساتذہ کی مخلصانہ نگرانی اور رہنمائی نے طلبہ کو ایک سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جہاں وہ بلا جھجک سوال کر سکتے تھے۔
ونٹر اسٹڈی کیمپ کا قیام نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک کامیاب تجربہ ثابت ہوا بلکہ اس نے طلبہ میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور مسلسل محنت کی عادت بھی پیدا کی۔ بلاشبہ یہ اقدام طلبہ کے روشن مستقبل کی جانب ایک مضبوط قدم ہے جو قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے۔
ہماری دعا ہے کہ خدا استاد محترم کو صحت ،سلامتی وخوشحالی کے ساتھ طول عمر عطا فرمائے
آمین ثم آمین
ماسٹرموسٰی علی شگری
Column in Urdu noble-character-hadith
0



