column in urdu No Professor from Gilgit-Baltistan Eligible for VC KIU Appointment 0

کیا VC KIU کی تعیناتی کے لیے گلگت بلتستان کا کوئی پروفیسر اہل نہیں، یا کچھ اور معاملہ ہے؟ ایک فکری و تاریخی مطالعہ ، جی ایم ایڈوکیٹ
گلگت بلتستان کے سماجی و سیاسی منظرنامے میں ایک مستقل اور نمایاں تضاد یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ریاستی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں اعلیٰ فیصلہ ساز مناصب تک شاذ و نادر ہی رسائی دی جاتی ہے۔ آئی جی پولیس، چیف سیکریٹری، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جسٹس، جامعات کے وائس چانسلرز یا دیگر کلیدی عہدوں پر عموماً ایک طے شدہ پالیسی کے تحت غیر مقامی افراد کو تعینات کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل محض انتظامی سہولت یا تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہرا علامتی پیغام رکھتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور، خود اعتمادی اور ریاست کے ساتھ تعلق پر دور رس اثرات مرتب کرتا ہے۔ سیاسی فلسفے اور سماجیات میں اس رویے کو عموماً دو زاویوں سے سمجھا جاتا ہے۔ پہلا یہ مفروضہ کہ ایک مخصوص خطے یا قوم کے لوگ فطری طور پر کمتر یا کم اہل ہیں، اور دوسرا یہ کہ وہ ریاستی اختیار اور حساس ذمہ داریوں کے لیے ناقابلِ اعتماد ہیں۔ یہ دونوں تصورات، چاہے پالیسی کی زبان میں ہوں یا عملی فیصلوں میں، کسی بھی قوم کی اجتماعی توہین کے مترادف ہوتے ہیں۔ ایمانوئل کانٹ (Immanuel Kant) کے اخلاقی فلسفے کے مطابق انسانی وقار کی بنیاد عقلی خودمختاری ہے؛ جب کسی گروہ کو مسلسل فیصلہ سازی سے باہر رکھا جائے تو درحقیقت اس کی عقلی اہلیت کو مشتبہ بنا دیا جاتا ہے، جو انسانی وقار کی نفی ہے۔ یہی منطق ہمیں نوآبادیاتی تاریخ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ برطانوی استعمار نے “Civilizing Mission” کے نام پر مقامی آبادیوں کو انتظامی اور ادارہ جاتی قیادت سے دور رکھا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ خود حکومت کرنے کے اہل نہیں۔ فرانز فینن (Frantz Fanon) اپنی معروف تصنیف The Wretched of the Earth میں واضح کرتے ہیں کہ نوآبادیاتی طاقتیں مقامی اقوام کو یا تو نااہل قرار دیتی ہیں یا ناقابلِ اعتماد، تاکہ اقتدار پر اپنی اجارہ داری کو اخلاقی جواز فراہم کیا جا سکے۔ یہ محض سیاسی کنٹرول نہیں بلکہ نفسیاتی تسلط کی ایک صورت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں محکوم قومیں بتدریج خود کو بھی اسی نگاہ سے دیکھنے لگتی ہیں. انتونیو گرامشی (Antonio Gramsci) کا تصورِ بالادستی (Hegemony) اس صورتِ حال کو مزید واضح کرتا ہے۔ گرامشی کے مطابق طاقت صرف ریاستی جبر سے نہیں بلکہ فکری اور ذہنی غلبے سے قائم رہتی ہے۔ جب کسی خطے کے تعلیم یافتہ اور اہل افراد کو منظم انداز میں اعلیٰ ادارہ جاتی مناصب سے دور رکھا جائے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصل علم، فیصلہ سازی اور اعتماد کہیں اور سے آتا ہے۔ نتیجتاً ادارے مقامی معاشرے سے کٹ جاتے ہیں اور خود اعتمادی کی جگہ بیگانگی جنم لیتی ہے۔ اسی فکری پس منظر میں جامعات اور ان کی قیادت کا سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ بلتستان یونیورسٹی ہو یا قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، وائس چانسلر کا منصب محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ فکری قیادت، علمی رہنمائی اور ادارہ جاتی سمت کے تعین کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں اس منصب کے لیے چند بنیادی اور مسلمہ اہلیتیں تسلیم شدہ ہیں، جن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری، کم از کم پندرہ سال کا تدریسی تجربہ بطور پروفیسر، تحقیق، اکیڈمک لیڈرشپ، یونیورسٹی انتظام کا عملی تجربہ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نظام، اقدار اور چیلنجز کی گہری سمجھ شامل ہوتی ہے۔ یہ شرائط کسی فرد کو کم تر یا برتر ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ اداروں کو تجربہ گاہ بننے سے بچانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں اگر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے منصب کے حوالے سے سوشل میڈیا میں زیرِ بحث شخصیت جنرل احسان محمود خان کو دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بطور وائس چانسلر درکار بنیادی اکیڈمک کوالیفکیشن، بالخصوص پندرہ سالہ پروفیسر شپ کے تجربے پر پورا نہیں اترتے۔ یہ بات کسی ذاتی پسند نا پسند کے طور پر نہیں بلکہ خالصتاً ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے کہی جانی چاہیے کہ وہ اس مخصوص اکیڈمک منصب کے لیے کوالیفائی نہیں کرتے ہیں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس مؤقف کا جنرل صاحب کے ساتھ کسی ذاتی تعلق، عناد یا اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔ عام لوگوں کی طرح میں نے بھی وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں وہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتے، گفتگو کرتے اور مقامی ثقافت و روایات کا احترام کرتے نظر آتے ہیں، جو بلاشبہ خوش آئند اور قابلِ تحسین بات ہے۔ مگر عوامی مقبولیت، ذاتی شرافت اور حسنِ سلوک اپنی جگہ، جبکہ یونیورسٹی جیسے ادارے کے لیے پیشہ ورانہ اور اکیڈمک اہلیت ایک الگ اور ناگزیر تقاضا ہے۔ خود جنرل احسان محمود خان نے اپنی تحریر میں جس بڑاپن، دیانت اور فکری پختگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ احترام ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ وائس چانسلر کے منصب کے خواہاں نہیں، کیونکہ اپنی دیگر ذاتی مصروفیات کے باعث وہ اس ذمہ داری کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کر پائیں گے۔ یہ اعتراف بذاتِ خود ادارہ جاتی شعور کی ایک مثبت مثال ہے۔ دوستوں کو شاید معلوم ہو کہ میں نے اس سے پہلے والے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر کی اہلیت کو Writ of Quo Warranto کے تحت چیلنج کر رکھا تھا۔ اس مقدمے کا انجام ایک الگ بحث کا موضوع ہے، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اس پٹیشن میں بھی بنیادی نکتہ یہی تھا کہ موصوف مقررہ تجربہ اور قانونی اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اس کے باوجود وہ کسی نہ کسی طرح اپنا دوسرا Tenure مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔ اب جبکہ یونیورسٹی میں ایک نئی تعیناتی ہونے جا رہی ہے، تو یہ توقع اور مطالبہ بالکل جائز ہے کہ یہ تقرری خالصتاً میرٹ، معیار اور قانونی اہلیت کی بنیاد پر کی جائے، تاکہ ادارے کی ساکھ، علمی وقار اور مستقبل کسی سمجھوتے کی نذر نہ ہو۔ تاہم اصل اور زیادہ سنجیدہ مسئلہ فردِ واحد سے کہیں آگے کا ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں تقریباً ہر بڑی اور کلیدی پوسٹ پر Down Country سے افراد تعینات کیے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر ہو، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس یا سپریم اپیلیٹ کورٹ کا چیف جسٹس یہ سوال بار بار جنم لیتا ہے کہ کیا گلگت بلتستان کے لوگوں میں واقعی صلاحیت کی کمی ہے؟ کیا یہاں اہل، پڑھے لکھے، تجربہ کار اور دیانت دار افراد موجود نہیں؟ یہ رویہ یا تو شدید عدم اعتماد کی علامت ہے یا اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ مقامی آبادی کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نااہل سمجھا جاتا ہے۔ سماجی نفسیات میں Relative Deprivation Theory بتاتی ہے کہ جب لوگ خود کو مسلسل اور منظم طور پر محروم محسوس کریں تو یہ احساس محض معاشی نہیں رہتا بلکہ شناختی اور سیاسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر بے چینی، بداعتمادی اور بعض صورتوں میں علیحدگی پسند رجحانات کو جنم دیتا ہے۔ گلگت بلتستان جیسے حساس اور متنازعہ خطے میں یہ رجحان ریاست کے لیے کسی طور مفید نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی کامیاب وفاقی ریاستوں کا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور جرمنی جیسے ممالک نے یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ ریاستی استحکام کا راستہ مقامی صلاحیتوں پر اعتماد، شمولیت اور مساوات سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ مستقل شک اور کنٹرول سے۔ جب مقامی لوگ اداروں کی قیادت کرتے ہیں تو ادارے محض انتظامی ڈھانچے نہیں رہتے بلکہ اجتماعی شناخت اور اعتماد کا حصہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں خود گلگت بلتستان کے کئی قابل، تجربہ کار اور اکیڈمک طور پر مکمل پروفیسرز موجود ہیں جو وائس چانسلر بننے کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ انہی میں سے کسی ایک کو یہ ذمہ داری کیوں نہ دی جائے؟ آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ناگزیر ہے کہ کسی خطے کے لوگوں کو مسلسل اعلیٰ ریاستی، انتظامی اور تعلیمی مناصب سے محروم رکھنا محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہری ساختی ناانصافی (Structural Injustice) ہے، جو اعتماد، وابستگی اور اجتماعی وقار کو مجروح کرتی ہے۔ گلگت بلتستان کے باسیوں میں صلاحیت، اہلیت اور دیانت کی کوئی کمی نہیں؛ کمی صرف اس ادارہ جاتی ارادے کی ہے جو انہیں فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچنے سے روکے ہوئے ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی جیسے علمی ادارے ہوں یا آئی جی پی، چیف سیکریٹری، چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ اور دیگر کلیدی عہدے ان سب پر گلگت بلتستان کے اہل، تجربہ کار اور مقامی افراد کی تعیناتی نہ صرف آئینی و اخلاقی تقاضا ہے بلکہ پائیدار حکمرانی کی شرط بھی ہے۔ جب تک مقامی سماج کو اپنے اداروں کی قیادت نہیں سونپی جاتی، ترقی محض کاغذی دعویٰ رہے گی۔ ایسے ہی رویے ریاستی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور گلگت بلتستان کے مستقبل کی حقیقی ضمانت ہوں گے۔
جی ایم ایڈوکیٹ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu No Professor from Gilgit-Baltistan Eligible for VC KIU Appointment

شگر آزاد ریڈ نے بڑوقکھور بلیو کو ہرا کر آزاد فٹسال سیزن ٹو اپنے نام کر لیا۔ آزاد ونٹر فٹسال ٹورنامنٹ سیزن 2 کا فائنل مقابلہ آزاد ریڈ اور بڑوقکھور بلیو کے درمیان کھیلا گیا، جس میں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کیا

>شگر ریسکیو 1122 کے ملازمین گزشتہ سات ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید ذہنی اور مالی اذیت کا شکار ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes

کیا VC KIU کی تعیناتی کے لیے گلگت بلتستان کا کوئی پروفیسر اہل نہیں، یا کچھ اور معاملہ ہے؟ ایک فکری و تاریخی مطالعہ ، جی ایم ایڈوکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں