۲۳ مارچ خواب سے تعبیر تک قوم کی داستان. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
۲۳ مارچ محض ایک تاریخ نہیں بلکہ قومی شعور کی بیداری، امید کے چراغ اور آزادی کے خواب کی تعبیر کی علامت ہے۔ یہ دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بصیرت، اجتماعی جدوجہد اور ایک واضح نظریے کی یاد دلاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں تو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کا منظر ایک ایسی روشن صبح کی طرح دکھائی دیتا ہے جس نے غلامی کی طویل رات کو ختم کرنے کی نوید سنائی۔ لاہور کے منٹو پارک، جو آج اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے، میں مسلمانوں کے ایک عظیم اجتماع نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے برصغیر کی سیاست کا رخ بدل دیا اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی بنیاد رکھ دی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے مسلمان سیاسی اور سماجی بے یقینی کے دور سے گزر رہے تھے۔ ان کے دلوں میں یہ احساس شدت اختیار کر چکا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کی شناخت، ثقافت اور مذہبی آزادی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ایسے حالات میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک آواز اٹھی جس نے قوم کو نئی سمت دی۔ مولوی فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد نے مسلمانوں کے اس اجتماعی احساس کو الفاظ دیے کہ وہ محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں، جن کی تاریخ، تہذیب، اقدار اور اجتماعی مفادات ہندوؤں سے مختلف ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک خواب نے واضح شکل اختیار کی اور ایک تصور نے عملی تحریک کا روپ دھار لیا۔
اس خواب کی فکری بنیاد اس سے بھی پہلے رکھی جا چکی تھی۔ علامہ محمد اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبۂ الہٰ آباد میں جس تصور کو پیش کیا تھا وہ دراصل اسی تحریک کا فکری سرچشمہ تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ ایک زندہ قوم ہیں اور انہیں اپنی سیاسی و تہذیبی بقا کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت ہے۔ ان کے افکار نے مسلمانوں کے ذہنوں میں ایک نئی روشنی پیدا کی۔ بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت نے اس تصور کو ایک مضبوط سیاسی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ قائد اعظم کی بصیرت، استقامت اور غیر متزلزل عزم نے منتشر قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا اور یہی اتحاد بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔
تاریخ کا یہ سفر صرف ۱۹۴۷ء پر آ کر ختم نہیں ہوتا بلکہ ۲۳ مارچ کی اہمیت اس وقت اور بڑھ گئی جب ۱۹۵۶ء میں اسی دن پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا باقاعدہ تشخص ملا۔ یوں یہ دن ایک طرف قراردادِ پاکستان کی یاد تازہ کرتا ہے تو دوسری طرف ایک آئینی اور جمہوری ریاست کے قیام کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ یہ دراصل اس عزم کی تجدید تھی کہ پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنایا جائے گا جہاں انصاف، مساوات اور جمہوری اقدار کو فروغ حاصل ہو اور جہاں اسلامی اصول معاشرتی زندگی کی رہنمائی کریں۔
اگر آج کے پاکستان کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ قوموں کی تاریخ صرف فتوحات اور کامیابیوں سے نہیں بنتی بلکہ آزمائشوں سے گزر کر ہی قومیں اپنے اصل جوہر کو پہچانتی ہیں۔ پاکستان نے بھی اپنی مختصر مگر پرہنگام تاریخ میں بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ سیاسی اتار چڑھاؤ، معاشی مشکلات، داخلی اختلافات اور عالمی دباؤ کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کا قیام ایک عظیم نظریے کا نتیجہ تھا۔ یہی نظریہ اس قوم کی اصل طاقت ہے اور یہی اس کے مستقبل کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔
۲۳۔ مارچ ہمیں ماضی کے اس سنہری باب کی یاد دلاتا ہے جب ایک منتشر قوم نے اپنے اتحاد، یقین اور تنظیم کے ذریعے تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی محض حاصل کر لینے کا نام نہیں بلکہ اس کی حفاظت اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر قومیں اپنی تاریخ اور نظریے سے رشتہ کمزور کر لیں تو وہ اپنی سمت کھو بیٹھتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی قومی تہوار کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے اصل پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
خاص طور پر نئی نسل کے لیے یہ دن ایک پیغام رکھتا ہے۔ یہ نسل پاکستان کا حال بھی ہے اور مستقبل بھی۔ اگر نوجوان اپنی تاریخ کو سمجھیں، اپنے قومی تشخص پر فخر کریں اور تعلیم، تحقیق اور کردار سازی کو اپنا نصب العین بنائیں تو پاکستان ترقی اور استحکام کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ قوموں کی حقیقی طاقت ان کے نوجوانوں کے علم، کردار اور عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
۲۳ مارچ کا سورج ہر سال ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے طلوع ہوتا ہے کہ یہ وطن محض جغرافیے کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کی امانت ہے۔ اگر ہم اس امانت کی قدر کریں، اتحاد کو مضبوط کریں اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں تو پاکستان یقیناً اس منزل تک پہنچ سکتا ہے جس کا خواب اس کے بانیوں نے دیکھا تھا۔ یہی اس دن کا اصل پیغام ہے اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
column in urdu March 23 From Dream to Reality
پاکستانی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کھلی ہے، ایرانی قونصل جنرل
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ایران جنگ چھوڑ کر واپس بندرگاہ کی طرف جانا شروع




