ہمارے بزرگوں کا نظامِ زندگی اور آج کا بے سکون دور. یاسر دانیال صابری
ہماری روایات ۔۔۔۔کچھ آج بھی زندہ ہے جن پر عمل کیا جاتا ہے
جب میں اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اور ہی زمانہ تھا۔ ایک سادہ سا دور، جہاں ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا تھا، ہر آواز میں ایک اشارہ چھپا ہوتا تھا اور ہر روایت زندگی کا حصہ تھی۔ آج کے نوجوان اگر وہ باتیں سنیں تو شاید مسکرا دیں، مگر ہمارے لیے وہ سب سچ تھیں، ہمارے گھروں کی فضا کا حصہ تھیں۔
کوا اگر چھت پر بیٹھ کر زور زور سے “کا کا” کرتا تو فوراً کہا جاتا، “کوئی مہمان آنے والا ہے۔” گھر میں ہلکی سی خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ بچے دروازے کی طرف دیکھنے لگتے، مائیں جلدی جلدی گھر سمیٹنے لگتیں۔ اگر واقعی کوئی آ جاتا تو بزرگ فخر سے کہتے، “دیکھا، کوا خبر دے گیا تھا۔” اسی طرح اگر گھر کے باہر بلیاں آپس میں لڑ پڑتیں، خاص طور پر رات کے وقت، تو اسے برا شگون سمجھا جاتا۔ کہا جاتا کہ یہ کسی جھگڑے یا ناخوشگوار خبر کی علامت ہے۔
اگر بلی راستہ کاٹ دیتی تو سفر روک دیا جاتا۔ لوگ کچھ دیر رک جاتے، پانی پی لیتے یا کسی اور کو پہلے گزرنے دیتے۔ دایاں آنکھ پھڑکتا تو خوشخبری کی امید، بایاں پھڑکتا تو دل میں ہلکی سی گھبراہٹ۔ دائیں پاؤں میں خارش ہو تو کہا جاتا کہ سفر قریب ہے، بائیں میں ہو تو کوئی مہمان آنے والا ہے۔ کتاب کے اوپر اگر کوئی کیڑا آ بیٹھتا تو کہا جاتا کہ یہ ہمیں سبق یاد دلانے آیا ہے۔
رات کے وقت جھاڑو لگانے سے منع کیا جاتا تھا کہ برکت چلی جائے گی۔ گھر کے اندر ناخن کاٹنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ نئے کپڑے اگر الٹے پہن لیے جاتے یا ان کا پونچہ الٹا ہو جاتا تو فوراً خوشی سے کہا جاتا، “اب اور نئے کپڑے آئیں گے!” ہمیں لگتا جیسے قسمت خود ہمارے حق میں کوئی اعلان کر رہی ہو۔
پہلے مہینے کا چاند نظر آتا تو سب کی نظریں آسمان پر ہوتیں۔ جیسے ہی باریک سا چاند دکھائی دیتا، فوراً کہا جاتا کہ کسی روپے یا سونے چاندی کی چیز کی طرف دیکھو تاکہ مہینہ خوشحالی سے گزرے۔ کچھ لوگ جیب میں رکھا سکہ نکال لیتے، کچھ الماری میں رکھے پیسوں کی طرف دیکھ لیتے۔ یہ سب امید کا ایک طریقہ تھا، دل کو تسلی دینے کا انداز تھا۔
کھیتوں میں اگر فصل اچھی لگ جاتی آلو، ٹماٹر، کھیرے یا کوئی اور سبزی تو وہاں نظر سے بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لٹکایا جاتا۔ کہیں کسی مردہ جانور کی کھوپڑی، کہیں پرانا جوتا، کہیں انسانی شکل کا ایک پتلا کھڑا کر دیا جاتا۔ مقصد یہ ہوتا کہ کسی کی بری نظر نہ لگے۔ نئی گاڑی خریدی جاتی تو اس کے آگے ربڑ کی چپل یا کالا فیتہ لٹکا دیا جاتا۔ بچوں کے بازو پر تعویذ باندھا جاتا۔ ہر چیز کے پیچھے ایک ہی سوچ تھی: ہماری خوشی محفوظ رہے۔
یہ سب روایات صرف وہم نہیں تھیں، بلکہ پرانے لوگوں کا ایک نظام تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کو چلانے کے لیے، مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے اور دل کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ یقین اپنے ساتھ جوڑ لیے تھے۔ اس وقت نہ جدید تعلیم عام تھی، نہ سائنس کی سہولتیں۔ انسان قدرت کے قریب تھا۔ سورج کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگا لیتا تھا۔ چاند کی چال سے مہینوں کا حساب رکھتا تھا۔ موسم کی ہوا سے بارش کا اندازہ لگا لیتا تھا۔
پرانے زمانے کا کسان کسی انجینئر سے کم نہیں تھا۔ اس کے پاس ڈگری نہیں تھی مگر زمین کا علم تھا۔ اس کے پاس بیل ہوتے تھے، ہل ہوتا تھا، نال ہوتی تھی، فال اور دوسرے اوزار ہوتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے زمین چیرتا تھا اور اس میں بیج بوتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کون سی مٹی میں کون سا بیج اچھا ہوگا، کب پانی دینا ہے، کب فصل کاٹنی ہے۔ اس کا حساب کتاب تجربے پر چلتا تھا، نہ کہ کمپیوٹر پر۔
پھر بارٹر سسٹم تھا۔ اگر کسی کے پاس گندم زیادہ تھی اور دوسرے کے پاس دودھ یا سبزی، تو آپس میں تبادلہ ہو جاتا تھا۔ اگر کسی کے گھر اناج کم ہوتا تو وہ دوسرے سے مانگ لیتا، بعد میں لوٹا دیتا۔ شل مہر محبت تھی، ایک دوسرے پر اعتماد تھا۔ گاؤں ایک خاندان کی طرح ہوتا تھا۔
آج جدید دور آ گیا ہے۔ ہر چیز پیسے سے خریدی جاتی ہے۔ بجلی، پانی، گیس سب حکومت کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر بجلی بند ہو جائے تو لوگ سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ پہلے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زندگی گزار لیتے تھے۔ کہیں پانی کے بہاؤ سے چھوٹی سی روشنی پیدا کر لیتے تھے، کہیں لالٹین جلا لیتے تھے۔ زندگی مشکل تھی مگر صبر زیادہ تھا۔
آج سہولتیں زیادہ ہیں مگر سکون کم ہے۔ پہلے کم میں گزارا تھا، آج زیادہ میں بھی بے چینی ہے۔ پہلے روایتوں کا نظام تھا، جو انسان کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا تھا۔ اب ہر چیز حساب کتاب میں بدل گئی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ماضی مکمل طور پر بہترین تھا۔ اس دور میں بھی مشکلات تھیں، لاعلمی تھی۔ مگر ایک بات ضرور تھی: انسان رشتوں میں جیتا تھا، امیدوں میں جیتا تھا۔ کوا کی آواز سے خوشی ہو جاتی تھی، چاند دیکھ کر دعا نکلتی تھی، نئے کپڑوں کے الٹے پونچے پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔
آج ہمیں معلوم ہے کہ قسمت ان چیزوں سے نہیں بدلتی۔ قسمت محنت سے بدلتی ہے، علم سے بدلتی ہے، دیانت سے بدلتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی روایات کو مذاق سمجھ کر چھوڑ دیں۔ وہ ہماری تاریخ ہیں، ہماری شناخت ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی نسل کو یہ سب قصے سنائیں، مگر ساتھ یہ بھی بتائیں کہ حقیقت کیا ہے۔ انہیں سکھائیں کہ محنت کرو، دعا کرو، مثبت سوچ رکھو۔ اگر چاند دیکھ کر روپے کی طرف دیکھتے ہو تو ساتھ بچت بھی کرو۔ اگر نظر سے بچانے کے لیے تعویذ باندھتے ہو تو ساتھ اپنی حفاظت کا عملی انتظام بھی کرو۔
زندگی کا اصل حسن توازن میں ہے۔ نہ مکمل انکار، نہ اندھی تقلید۔ ہمارے بزرگوں نے اپنے وقت کے مطابق ایک نظام بنایا تھا، جس سے وہ زندگی گزار سکے۔ آج ہمیں اپنے وقت کے مطابق نظام بنانا ہے، مگر اپنی جڑوں کو کاٹے بغیر۔
کوا آج بھی بولتا ہے، بلیاں آج بھی لڑتی ہیں، چاند آج بھی نکلتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم ان میں پیغام ڈھونڈتے تھے، آج ہم ان میں فطرت کو دیکھتے ہیں۔ شاید اصل دانائی یہی ہے کہ فطرت کو سمجھیں، مگر یادوں کو بھی سنبھال کر رکھیں۔ یہی ہماری اصل دولت ہے۔
column in urdu Lifestyle of Our Elders
یادداشت کا کمال۔ ذہانت کا زوال. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خواتین کیلئے خوشخبری، سہ ماہی قسط میں ایک ہزار روپے اضافہ




