گلگت بلتستان کی اراضیات. مغل و ڈوگرا راج سے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 تک تاریخی و قانونی جائزہ، جی ایم ایڈوکیٹ
پہلی قسط
مغل سلطنت میں زرعی پیداوار سے لینڈ ریونیو حاصل کرنے کے لیے ایک منظم اور باقاعدہ نظام متعارف کرایا گیا جسے مجموعی طور پر نظامِ زرعی محاصل کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد شیر شاہ سوری نے رکھی، جسے اکبر اعظم کے دور میں مزید منظم اور مؤثر بنایا گیا۔ اکبر کے عہد میں نظامِ دہسالا یا تودرمل بندوبست نافذ ہوا، جس کے تحت گزشتہ دس برس کی اوسط پیداوار اور قیمتوں کو مدنظر رکھ کر زمین کا محصول مقرر کیا جاتا تھا۔ زمین کی باقاعدہ پیمائش ہوتی، فصلوں کی اقسام درج کی جاتیں اور کسانوں سے نقد یا اجناس کی صورت میں ٹیکس وصول کیا جاتا۔ اس نظام نے ایک طرف ریاست کو مستقل آمدنی فراہم کی تو دوسری طرف کسانوں کو نسبتی تحفظ اور پیش بینی کا موقع ملا۔ مغل دور میں انتظامی و مالی نظم و نسق کے لیے مختلف نظام بیک وقت رائج رہے۔ منصب داری نظام اکبر کے زمانے میں متعارف ہوا، جس کے تحت فوجی اور سول افسران کو ان کے رتبے اور خدمات کے مطابق منصب دیے جاتے تھے، جن کی بنیاد پر تنخواہ اور فوجی ذمہ داریاں طے ہوتیں۔ جاگیرداری نظام میں افسران کو تنخواہ کے عوض مخصوص علاقوں سے محصول وصول کرنے کا حق دیا جاتا تھا، مگر زمین کی ملکیت بادشاہ یا عوام کے پاس رہتی تھی۔ جمع داری یا نظامِ جمع دراصل زرعی محاصل کی وصولی کا طریقۂ کار تھا، جس میں زمین کی پیمائش، پیداوار کے تخمینے اور مقررہ رقم کی بنیاد پر محصول طے کیا جاتا۔ زبط یا دہسالا نظام، جسے راجہ ٹوڈرمل نے مرتب کیا، بالخصوص دوآبہ، آگرہ، لاہور اور ملحقہ علاقوں میں نافذ رہا۔ یوں منصب داری انتظامی، جاگیرداری مالی و فوجی اور زبط یا جمع داری زرعی محاصل کا بنیادی نظام تھا۔ جاگیرداری نظام مغل سلطنت کا ایک مرکزی مالی بندوبست تھا، جس کا مقصد افسران اور فوج کو خزانے سے براہِ راست تنخواہ دینے کے بجائے زمین کی آمدن سے مطمئن رکھنا تھا۔ جاگیردار زمین کا مالک نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف محصول وصول کرنے کا حق رکھتا تھا، اور جاگیر عارضی ہوتی تھی تاکہ وہ مقامی طاقت میں تبدیل نہ ہو سکے۔ جاگیردار پر لازم تھا کہ وہ مقررہ محصول خزانے میں جمع کرائے، فوج فراہم کرے اور امن و امان برقرار رکھے، تاہم اس نظام کے نتیجے میں اکثر کسانوں پر اضافی بوجھ پڑتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام کمزور پڑا، خصوصاً اورنگزیب کے دور میں جاگیروں کی کمی اور بدانتظامی کے باعث۔ جموں و کشمیر میں جاگیرداری نظام براہِ راست مغل بندوبست کے تحت نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کے ذریعے پہنچا۔ 1586ء میں مغلوں نے کشمیر کو سلطنت میں شامل کیا اور یہاں سبہ داری نظام نافذ کیا، جس میں مقامی زمینداروں اور بااثر خاندانوں کو محصولی اختیارات دیے گئے۔ افغان دور میں یہ بندوبست مزید سخت ہوا اور سکھ دور میں بھاری محصولات اور ٹھیکہ داری نے کسانوں کی حالت مزید خراب کر دی۔ 1846ء کے معاہدۂ امرتسر کے بعد جب ڈوگرا حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مغل، افغان اور سکھ ادوار کے جاگیردارانہ اثرات کو برقرار رکھتے ہوئے زمین کو ریاستی ملکیت قرار دیا، بھاری ٹیکس عائد کیے اور بیگار کے نظام کو رائج رکھا۔ یوں جاگیرداری نظام ایک ارتقائی عمل کے تحت جموں و کشمیر میں شدت اختیار کرتا چلا گیا۔ ڈوگرا راج کے دوران جموں و کشمیر، خصوصاً گلگت بلتستان میں، انتظامی، فوجی اور مالی اصلاحات کی گئیں، مگر ان کا مقصد عوامی فلاح کے بجائے ریاستی کنٹرول، محصول کی وصولی اور سرحدی تحفظ تھا۔ گلگت بلتستان کو خصوصی انتظامی حیثیت کے تحت رکھا گیا، جہاں پولیٹیکل ایجنٹ اور ریاستی نمائندے اصل طاقت کے حامل تھے اور مقامی میران و راجگان محدود اختیارات کے ساتھ برقرار رہے۔ عدالتی اور انتظامی اختیارات اکثر ایک ہی افسر کے پاس ہوتے تھے۔ فوجی اعتبار سے گلگت ایجنسی کا قیام، قلعوں اور چوکیوں کی تعمیر اور مقامی نوجوانوں کی بھرتی کی گئی، جس کا مقصد روسی اثرات کا مقابلہ تھا۔ مالی نظام میں زمین، مویشی، فصل اور بعض علاقوں میں سر ٹیکس عائد کیے گئے، جبکہ بیگار کو ضابطے میں لانے کی کوشش کی گئی مگر اسے ختم نہیں کیا گیا۔ تعلیم اور سماجی اصلاحات نہایت محدود رہیں۔ ڈوگرا دور میں اراضی کا بنیادی اصول یہ تھا کہ زمین کا اصل مالک مہاراجہ یا ریاست ہے۔ کسان اور کاشتکار صرف حقِ کاشت رکھتے تھے، نہ کہ مکمل مالکانہ اختیار۔ جاگیرداری نظام کے تحت افسران اور مقامی میران محصول وصول کرنے کے مجاز تھے، جبکہ آسمی یا آسی وہ کسان تھا جو نسلوں سے زمین کاشت کرتا آیا مگر قانونی مالک نہیں تھا۔ اگرچہ آسمی کو بے دخل نہ کیے جانے کا تحفظ حاصل تھا، مگر اسے زمین بیچنے یا منتقل کرنے کا حق نہیں تھا۔ بندوبستِ اراضی کے تحت زمین کی پیمائش، پیداوار کا تخمینہ اور محصول کی شرح طے کی گئی، مگر گلگت بلتستان میں یہ عمل نامکمل رہا اور زبانی روایات پر انحصار کیا گیا۔ جمعبندی اور انتقال جیسے ریکارڈ محصول وصولی اور ریاستی کنٹرول کا ذریعہ بنے، نہ کہ کسان کو بااختیار بنانے کا. اگرچہ ڈوگرا دور میں 1867 کی پہلی ریونیو سیٹلمنٹ، 1895 تا 1905 سر والٹر لارنس کی اصلاحات، 1906 کے ریونیو ریگولیشنز اور 1927 کا اسٹیٹ سبجیکٹ رول جیسے اقدامات کیے گئے، مگر ان کا مقصد بھی ریاستی مفادات کا تحفظ تھا۔ کسان کو مکمل مالکانہ حقوق نہ مل سکے اور گلگت بلتستان کو دانستہ طور پر جدید قانونی تحفظ سے دور رکھا گیا۔ یہی استحصالی نظام عوامی بے چینی، مزاحمت اور بالآخر 1947 کی بغاوت کا سبب بنا. 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک تاریخی انتظامی حکم کے ذریعے گلگت بلتستان سے جاگیرداری، موروثی ریاستی نظام اور بیگار کا خاتمہ کیا۔ ریاستِ ہنزہ، نگر، پونیال، یاسین، استور اور بلتستان کے مقامی راجگی نظام ختم کر دیے گئے۔ جاگیرداروں کو عوامی جاگیر والی اراضیات سے فارغ کیا گیا. صرف ذاتی استعمال کی زمین، محلات اور خود کاشت شدہ باغات رکھنے کی اجازت دی گئی، جبکہ تمام سیاسی، عدالتی اور محصولی اختیارات ختم کر دیے گئے۔ راجوں کو جاگیر کے عوض ملنے والی رقم کے بدلے سرکاری خزانے سے وظیفے مقرر کئے گئے. خالصہ اور نوتوڑ زمینیں ریاست کے کنٹرول میں چلی گئیں اور عوام کو پہلی بار شخصی آزادی ملی، اگرچہ زمین کی مکمل ملکیت ابھی بھی انہیں حاصل نہ ہو سکی۔ بعد ازاں نوتوڑ رولز 1978 کے تحت بنجر اور غیر آباد زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دیا گیا، جس سے عوام کے زمین پر حقوق مزید محدود رہے۔ یہ خلا بالآخر گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے تحت نوتوڑ رولز ختم کیے گئے، زمین کو کمیونٹی لینڈ اور گورنمنٹ لینڈ میں تقسیم کیا گیا اور مقامی آبادی کو قانونی مالکانہ حقوق دینے کا اصول تسلیم کیا گیا۔ اس تناظر میں اگر ڈوگرا یا جاگیرداری دور میں دھوکہ دہی، ریونیو عملے سے ملی بھگت یا غلط جمعبندی کے ذریعے کسی فرد کا نام کھانۂ مالک میں درج ہوا ہو، جبکہ اصل مالکان کو صرف کاشتکار یا آسمی کے طور پر دکھایا گیا ہو، تو ایسی اندراجات قانونی طور پر کالعدم سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ دھوکہ دہی ہر چیز کو باطل کر دیتی ہے۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 کے بعد ایسی تمام غیر منصفانہ الاٹمنٹس اور جعلی اندراجات قابلِ نظرثانی ہیں اور انہیں ریونیو و عدالتی فورمز کے ذریعے منسوخ کرایا جا سکتا ہے۔ یوں گلگت بلتستان میں زمین کے مسئلے کو مغل دور سے لے کر آج تک ایک تاریخی تسلسل میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض اراضی کا معاملہ نہیں بلکہ اقتدار، استحصال اور بالآخر حقوق کی جدوجہد کی داستان ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu, Land Ownership Gilgit-Baltistan
خیبرپختونخوا: پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 8 دہشت گرد ہلاک
گانچھے سلترو سیاچن کے عوام نے بجلی بحران کے خاتمے کے لیے نئی تاریخ رقم کر دی
کھرمنگ ، آل مادھوپور سُپر سکسس کرکٹ ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل، منٹھوکھا قلندر فائنل میں پہنچ گیا




