GB زمینی عناصر کی صلاحیت ، محسن علی شگری
جی بی کی پہاڑوں میں ایسے ذخائر موجود ہے جو پاکستان کی صنعتی اور معاشی مستقبل کو بدل سکتی ہے ۔ اس وقت دنیا یورینیم ،لیتھیم جیسے معدنیات کی افزودگی کی دوڑ میں لگے ہوۓ ہے تو اسُ وقت جی بی کے پہاڑوں میں ایسے ذخائر موجود ہیں اور یہ علاقے معدنیات کی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے ۔
kkh , international airport,اور یہاں پر موجود پن بجلی بنانے کی صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاقے کو بین الاقوامی سطح پر مرکز کی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے ۔
ان معدنیات کو نکالنا مشکل ہے اور اس مشکل کو حل کرنے کے لیے صنعت اور مشینوں کی ضرورت پڑتی ہے اور انُ ضروریات کو انویسٹر ہی پورا کر سکتے ہیں لیکن یہاں کی نوآبادیاتی نظام اور غیر طے شدہ آئینی حیثیت کی وجہ سے باہر کے انویسٹر اپنے آپ کو محفوظ نہیں رہ سکتے اور ان کو اپنا حق بھی حاصل نہیں ہوگا ۔
اس علاقے کی پاکستان کے اندر کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے اور اس مسعلے کو بھی باہر کے سرمایہ کاری حل سکتے ہیں ۔
جی بی میں اس وقت جو ائین ہے وہ 2018 کے ڈرافٹ لاگو ہے جس میں جی بی کو خودمختار بنانے کی باتیں کی ہے لیکن اصل میں یہ ڈرافٹ اسُ ڈرافٹ کی جو 2009 میں منظور ہوا تھا اور اس میں دیۓ گۓ حقوق کو ختم کرنے کی کوشش ہے جسے سپریم کورٹ نے بھی تصدیق کی ہے ۔
جی بی کے پہاڑوں میں ایسی قوت موجود ہے جو پاکستان کے معاشی اور ٹیکنالوجی کو جدید طرز پر لے جا سکتے ہیں لیکن علاقے کی نظام حکومت آج بھی اسی نوآبادیاتی نظام میں موجود ہے ۔
2018 کی ڈرافٹ غیر فعال ہے اور اس لیے اگر ملکی حکومت سنجیدگی سے معدنیات کی افزودگی پر کام کرنا چاہتی ہے تو ان کو چاہیں کہ 2019 میں سپریم کورٹ سے منظور شدہ آرڈر کو نافذ کریں اور اسی کے تحت کام کریں ۔اس سے سرمایہ کاروں کو اعتماد بحال ہوگا اور ساتھ ساتھ عوام کو بھی انصاف ملے گا ۔
فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے، یا تو پرانے نظام کو دفن کر دے ورنہ اس علاقے کی صلاحیتیں ختم ہو جائے گی ۔
اس وقت عوام اور بڑے پارٹیوں کے حکمرانوں کو آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ 2019 کی تیار شدہ ڈرافٹ نافذ ہو جائے جوکہ سپریم کورٹ سے منظور شدہ ہے۔
اس کو نظر انداز کرنے سے نہ صرف علاقے کو دھوکا دینا ہے بلکہ اس ملک کی معاشی اور ٹیکنالوجیکل مستقبل بھی تباہی کا شکار ہو جائے گا ۔
اسٹیٹ سبجیکٹ رول (State Subject Rule) منور شگری
ملالہ یوسُفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے اسکالرشپ کا اعلان




