کرار کا بیٹا اور تزویراتی پراپیگنڈا، سید مظاہر حسین کاظمی
تاریخ ہمیشہ تلوار سے نہیں بدلی جاتی، اکثر اسے بیانیے سے مسخ کیا جاتا ہے۔ شخصیات کو زندہ رکھنے یا متنازع بنانے میں اُن کے اصل کردار سے زیادہ اُن کے گرد گھڑا گیا بیانیہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ “کرار کا بیٹا” جیسی علامتی ترکیب محض ایک تاریخی یا مذہبی حوالہ نہیں بلکہ جرأت، مزاحمت، حق گوئی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی علامت ہے۔ یہی علامت جب طاقتور ہو جائے تو مفاد پرست میڈیا کے لیے خطرہ بن جاتی ہے، اور پھر اسے مسخ کرنا تزویراتی ضرورت بنا لیا جاتا ہے۔تزویراتی پراپیگنڈا محض جھوٹ بولنے کا نام نہیں بلکہ سچ کو اس انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے کہ جھوٹ خود بولنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔ جدید الیکٹرانک میڈیا، خصوصاً بعض نجی نیوز چینلز، اسی فن میں مہارت رکھتے ہیں۔ اے آر وائی نیوز پر اکثر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ خبر دینے کے بجائے مخصوص سیاسی و نظریاتی ایجنڈے کو “خبر” کے لبادے میں پیش کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت دم توڑ دیتی ہے اور پراپیگنڈا جنم لیتا ہے۔سید علی خامنہ ای جیسی شخصیت، جنہیں دنیا کے ایک بڑے طبقے میں فکری، مذہبی اور سیاسی مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس پراپیگنڈا مشینری کا مستقل ہدف رہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اُن پر تنقید کی جاتی ہے—تنقید ہر عوامی شخصیت کا حق ہے—مسئلہ یہ ہے کہ تنقید کے نام پر سیاق و سباق سے کاٹی گئی باتیں، جذباتی سرخیاں، اور یک طرفہ تجزیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ تنقید نہیں بلکہ کردار کشی ہے۔“کرار کا بیٹا” جیسے استعاروں کو جان بوجھ کر منفی فریم میں ڈال کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہر مزاحمتی سوچ شدت پسندی ہے، ہر خود مختار موقف خطرہ ہے، اور ہر وہ آواز جو مغربی یا علاقائی طاقتوں کے بیانیے سے مختلف ہو، قابلِ مذمت ہے۔ یہ فکری بددیانتی ہے، جس کا مقصد عوام کو سوچنے سے روکنا اور انہیں تیار شدہ نتائج فراہم کرنا ہے۔اے آر وائی جیسے چینلز جب بار بار ایک ہی زاویے سے کسی شخصیت یا نظریے کو پیش کرتے ہیں تو وہ ناظرین کو باخبر نہیں بلکہ ذہنی طور پر کنڈیشنڈ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل ہے، کیونکہ نوجوان ابھی سوال کرنا سیکھ رہے ہوتے ہیں، اور میڈیا انہیں سوال کے بجائے فیصلے تھما دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فیک نیوز محض غلط خبر نہیں رہتی بلکہ اجتماعی شعور پر حملہ بن جاتی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس طرزِ صحافت نے میڈیا کو اعتماد کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ جب خبر مفاد کے تابع ہو جائے، اور تجزیہ ایجنڈے کا غلام بن جائے، تو پھر صحافت عوام کی نہیں بلکہ طاقت کی ترجمان بن جاتی ہے۔ “کرار کا بیٹا” ہو یا سید علی خامنہ ای، ان پر ہونے والی بحث اگر علمی اور دیانت دار نہ ہو تو وہ محض شور، نفرت اور تقسیم پیدا کرتی ہے۔آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ تاریخ اور اس کی علامتیں انسانوں کو شعور دینے کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ انہیں گمراہ کرنے کے لیے۔ جو میڈیا ادارے ان علامتوں کو فیک نیوز، یک طرفہ بیانیے اور جذباتی پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ صرف سچ سے نہیں بلکہ صحافت کی بنیادی اخلاقیات سے بھی غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسے میڈیا کو دیکھنے کے بجائے پرکھنا اور ماننے کے بجائے سوال کرنا ہی آج کے باشعور ناظر کی اصل ذمہ داری ہے۔
column in urdu, Karrar’s Son and Strategic Propaganda
اہم خبروں اور کالمز کی لنک ملاحظہ فرمائیں،
شگر علی آباد ہوطو برالدو میں 13 رجب یومِ ولادتِ باسعادت مولا علیؑ کے موقع پر عظیم الشان جلسہ
سیکولرزم اور اسلام: دو مختلف زاویۂ ہائے فکر, ڈاکٹر فرمان علی سعیدی شگری
کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے ایک اور بچے کی جان لے لی




