61 ہجری کا کربلا اور آج کا کربلا . ایک حسینی کردار اور ایک یزید کردار . محمد ابرہیم نوری
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اسی ہزار فوج کے لشکر نہیں عزیز
جو حق ساتھ وہ بہاتر عزیز ہیں
61 ہجری میں پیش آنے والا واقعہ کربلا تاریخِ اسلام کا ایک عظیم موڑ تھا۔ اس دور میں یزید بن معاویہ کی حکومت دینِ اسلام کی تعلیمات میں بگاڑ پیدا کر رہی تھی، جہاں حرام کو حلال اور حلال کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، جبکہ آج کے دور میں بعض عالمی طاقتیں، جیسے امریکہ اور اسرائیل، ایسے نظام کو فروغ دیتی نظر آتی ہیں جس میں دینی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔
61ہجری میں امام حسین علیہ السلام حق کے علمبردار بن کر باطل کے سامنے ڈٹ گئے، جبکہ آج بھی دنیا میں حق اور باطل کی کشمکش جاری ہے اور مظلوم کی حمایت کرنا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام کو بیعت کے لیے مجبور کیا گیا تاکہ وہ ظلم کے خلاف خاموش رہیں، جبکہ آج بھی کئی افراد اور قومیں دباؤ کے تحت حق بات کہنے سے روکی جاتی ہیں یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
61 ہجری میں حق کے ساتھ کھڑے ہونے والے بہت کم تھے مگر ثابت قدم تھے، جبکہ آج بھی حق کے حامی کم اور باطل کے ساتھ کھڑے ہونے والے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
61 ہجری میں کچھ علماء نے دنیاوی فائدے کے لیے حق کا ساتھ نہیں دیا، جبکہ آج بھی بعض لوگ دین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور سچ بولنے سے گریز کرتے ہیں۔
61 ہجری میں مظلوم واضح طور پر امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھی تھے اور ظالم یزیدی لشکر تھا، جبکہ آج بھی دنیا میں مظلوم اور ظالم موجود ہیں مگر ہر شخص انہیں پہچاننے یا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے حق کی خاطر اپنی جان قربان کر کے ایک لازوال مثال قائم کی، جبکہ آج کے دور میں علی خامنہ ای جیسے رہنما مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں (یہ ایک رائے ہے)۔
یہی واقعہ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کا ساتھ دینا مشکل ضرور ہے مگر ضروری ہے، ظلم کے خلاف خاموشی بھی ایک طرح کی حمایت ہے، اور اصل کامیابی اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کربلا کے پیغام کو سمجھیں، حق و باطل میں فرق کریں، اور سچائی کا ساتھ دیں۔
آج بھی مولا امام حسین علیہ السلام کی وہ استغاثہ فضا میں گونج رہی ہے
آئیے اب ہم سب مل کے حق کے ساتھ دیتے ہیں اور باطل کے ارادے کو ان کے عزائم سمت ملیامیٹ کر دیں گے ۔
لبیک یا حسین
لبیک یا مہدی
لبیک یا زہراہ
لبیک یا زینب
نعرہ تکبیر
اللّٰہ اکبر
مردہ باد امریکہ
مردہ باد اسرائیل
مردہ باد دشمن ولایتِ فقیہ
تحریر:
column in urdu Karbala of 61 AH
نرگسیت۔خود پسندی سے خود فریبی تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
قدیم ایرانی زبانیں۔تہذیب کی گمشدہ صدائیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
صحافت پر قدغن: بین الاقوامی قوانین اور مقامی حقوق کی پامالی، صحافی عدنان راوت کو گرفتار کیا گیا




