column in urdu Iran’s Strategic Defense Policy 0

ایران کی اسٹریٹیجک ڈیفنس پالیسی. محمد شبیر چمن آبادی
اگر آپ گزشتہ چند دہائیوں کی عالمی سیاست کا مطالعہ کریں تو ایک عمومی تاثر بارہا سامنے آتا ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادی کسی ملک کے خلاف مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ جنگ مسلط کرتے ہیں تو اکثر اس جنگ کا انجام زیادہ دیر تک غیر یقینی نہیں رہتا۔ عراق میں Saddam Hussein کی حکومت کا خاتمہ، افغانستان میں Taliban کی حکومت کا سقوط اور لیبیا میں Muammar Gaddafi کی حکومت کا انجام اکثر اسی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان واقعات نے دنیا میں یہ تصور پیدا کیا کہ اگر کسی ریاست کے خلاف بڑی طاقتیں متحد ہو جائیں تو اس ریاست کے لیے زیادہ دیر تک مزاحمت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن ایران کے معاملے میں صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران نے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران ایک خاص قسم کی دفاعی حکمتِ عملی ترتیب دی جس کی بنیاد طویل مطالعے اور جنگی تجربات کے تجزیے پر رکھی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر Mohammad Ali Jafari نے دنیا میں ہونے والی بڑی جنگوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ عراق، افغانستان اور لیبیا سمیت مختلف جنگوں کے تجربات کا مطالعہ کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ بڑی طاقتیں کسی ریاست کو کس طرح کمزور کرتی ہیں اور ایک ریاست کس طرح اس دباؤ کے باوجود اپنے آپ کو قائم رکھ سکتی ہے۔
اسی مطالعے کے نتیجے میں ایک دفاعی تصور سامنے آیا جسے عموماً موزیک ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے۔ موزیک دراصل ایک ایسی تصویر کو کہا جاتا ہے جو بے شمار چھوٹے ٹکڑوں سے مل کر بنتی ہے۔ ایران نے اسی تصور کو اپنی دفاعی پالیسی میں شامل کیا۔ اس حکمتِ عملی کے تحت دفاعی نظام کو مختلف خودمختار حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ اگر مرکزی کمانڈ کو نقصان پہنچے تو پورا نظام مفلوج نہ ہو۔
اس تصور کے مطابق مختلف فوجی یونٹوں کو اس طرح منظم کیا گیا کہ وہ بوقتِ ضرورت آزادانہ طور پر فیصلے کر سکیں۔ اگر کسی مرحلے پر ایران کے خلاف ایک وجودی جنگ مسلط ہو جائے تو ہر یونٹ اپنے وسائل اور اپنی حکمتِ عملی کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جنگ صرف ایک مرکزی نظام کے خلاف نہیں رہتی بلکہ مختلف محاذوں پر بیک وقت جاری رہتی ہے۔ اسی لیے بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس قسم کے نظام میں دشمن کے لیے فوری طور پر “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” جیسی صورتحال پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا دوسرا اہم پہلو علاقائی سطح پر اس کا اثر و رسوخ ہے جسے عموماً Axis of Resistance کہا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں مختلف علاقائی قوتیں شامل ہیں، جن میں لبنان کی Hezbollah، یمن کی Ansar Allah اور عراق میں موجود مختلف مزاحمتی گروہ شامل کیے جاتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق اگر ایران کے خلاف بڑی جنگ شروع ہو تو یہ کشیدگی صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ اسی لیے خطے میں ہونے والی کسی بھی بڑی کشیدگی کے اثرات مختلف ممالک میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
ایران کی دفاعی سوچ کا ایک اور بنیادی پہلو اس کا جغرافیہ ہے۔ خلیج فارس میں واقع Strait of Hormuz یا آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ تاریخ میں یہ راستہ شاذ و نادر ہی بند ہوا ہے، لیکن حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی Islamic Revolutionary Guard Corps یعنی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس راستے کو بند کرنے کا اعلان عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ رپورٹوں کے مطابق اس صورتحال کو کئی دن گزر چکے ہیں اور اس کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی خبریں سامنے آئیں، جبکہ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی طویل ہو جائے اور ایک مہینے تک اسی نوعیت کے حملے اور دباؤ جاری رہیں تو یہ قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی زیادہ تک جا سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں جنگ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک معاشی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوں گے۔
ایران کی طاقت کا ایک پہلو اس کی تاریخی اور تہذیبی روایت بھی ہے۔ ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ اس طویل تاریخ میں ایرانی معاشرہ مختلف بیرونی طاقتوں کے ساتھ مقابلے اور مزاحمت کے تجربات سے گزرا ہے۔ خاص طور پر جب سے ایران میں تشیع کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی، امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور مزاحمت کی روایت ایرانی سماج میں ایک مضبوط علامت کے طور پر موجود رہی ہے۔ اس روایت نے ایرانی معاشرے میں قربانی، استقامت اور مزاحمت کے تصورات کو گہرا اثر دیا ہے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایران نے مختلف ادوار میں بیرونی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔ ایران اور عراق کی جنگ کے دوران بھی شدید قربانیاں دی گئیں، اور بعد کے برسوں میں خطے میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف لڑائیوں میں بھی ایرانی اثر و رسوخ نمایاں رہا۔ یہی تاریخی تجربات اور نظریاتی محرکات ایرانی معاشرے میں ایک خاص قسم کی مزاحمتی ذہنیت کو مضبوط کرتے ہیں۔
ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران کی دفاعی پالیسی صرف فوجی حکمتِ عملی تک محدود نہیں بلکہ اس میں جغرافیہ، علاقائی اتحاد، معاشی اثرات اور نظریاتی محرکات سب شامل ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دباؤ کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت برقرار رہی ہے، اور یہی عناصر مستقبل کی علاقائی سیاست میں بھی اس کے کردار کو اہم بناتے ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Iran’s Strategic Defense Policy

سیاسی جیرہ دستی۔جب سوال جرم ٹھہرا. یاسمین اختر طوبیٰ. ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

شگر انجمن امامیہ شگر کے ضلعی صدر کے انتخاب کیلئے اہم اجلاس، سید عباس الموسوی متفقہ طور پر صدر منتخب،

خونِ رہبر اور وحدتِ امت مسلمہ . محمد بشیر حیدری

50% LikesVS
50% Dislikes

ایران کی اسٹریٹیجک ڈیفنس پالیسی. محمد شبیر چمن آبادی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں