ایران اسرائیل جنگ اور پاکستان میں بند ہوتی سکول و یونیورسٹی ایک سوالیہ نشان. شبیر کمال
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے خطے میں بے چینی کی فضا قائم کر دی ہے، لیکن اس کے اثرات جس انداز میں پاکستان کے اندر محسوس کیے جا رہے ہیں، وہ ایک اہم سوال کو جنم دیتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں کی بندش نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسی جنگ، جس میں پاکستان براہِ راست فریق نہیں، اس کا بوجھ ہماری نئی نسل کیوں برداشت کرے؟
پاکستان، خصوصاً حساس علاقوں میں، سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سکولوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی حفاظت ہے، لیکن جب یہی اقدامات طلبہ کی تعلیم کو متاثر کرنے لگیں تو ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ہر بار کسی بین الاقوامی کشیدگی کے نتیجے میں تعلیمی اداروں کو بند کرنا ایک عارضی حل تو ہو سکتا ہے، مگر یہ مستقل نقصان کا سبب بنتا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کو پہلے ہی متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، اور دور دراز علاقوں میں سکولوں کی قلت جیسے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ ایسے میں اگر سیکیورٹی خدشات کے نام پر سکول بند کیے جائیں تو یہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔مزید برآں جنگی حالات کی خبروں نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا ماحول جنم لے رہا ہے جہاں تعلیم پس منظر میں چلی جاتی ہے اور غیر یقینی صورتحال غالب آ جاتی ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر ایک جامع اور متوازن پالیسی تشکیل دیں۔ اگر سیکیورٹی خدشات واقعی موجود ہیں تو متبادل تعلیمی نظام متعارف کروایا جائے، جیسے آن لائن کلاسز، محدود اوقات میں تدریس یا محفوظ تعلیمی مراکز کا قیام۔ صرف سکول بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئے مسئلے کو جنم دینا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قوموں کی ترقی کا انحصار ان کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے۔ اگر ہم نے ہر بحران کے وقت اپنی درسگاہوں کے دروازے بند کر دیے تو ہم اپنے مستقبل کے دروازے خود بند کر رہے ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خوف کے بجائے حکمت اور تدبر سے فیصلے کریں تاکہ ہماری نئی نسل علم کے راستے پر گامزن رہ سکے۔
column in urdu Iran–Israel War
61 ہجری کا کربلا اور آج کا کربلا . ایک حسینی کردار اور ایک یزید کردار . محمد ابرہیم نوری
نرگسیت۔خود پسندی سے خود فریبی تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




