ایران و اسرائیل: آشوبِ عصر کا کلاسیکی منظرنامہ تحریر و تحقیق۔یاسمین اختر طوبیٰریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
مشرق کی سرزمین ایک بار پھر حوادثِ زمانہ کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین کشمکش اگرچہ برسوں پر محیط ہے، مگر حالیہ ایام میں اس کی شدت نے فضا کو ایسا بوجھل کر دیا ہے کہ گویا تاریخ خود سانس روکے کھڑی ہو۔ طاقت کی للکار اور سفارت کی سرگوشیاں ایک ہی لمحے میں جمع ہو جائیں تو زمانہ کسی بڑے موڑ کی خبر دیتا ہے۔
اقوام کی زندگی میں بعض اوقات ایسے ادوار بھی آتے ہیں جب ظاہر اور باطن کی کشمکش عیاں ہو جاتی ہے۔ ایوانوں میں مذاکرات کی شمعیں روشن ہوتی ہیں اور میدانوں میں بارود کی بو پھیلتی ہے۔ یہ تضاد محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ انسانی فطرت کے اس المیے کی علامت ہے جس میں اختیار اور اختیار کے خوف دونوں ساتھ چلتے ہیں۔
امریکہ کی موجودگی اس قضیے میں محض ایک تماشائی کی نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار کی ہے جو کبھی ثالث بنتا ہے اور کبھی فریق۔ عالمی طاقتوں کا یہ طرزِ عمل کوئی نیا نہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں کوئی چنگاری بھڑکی، اس کی روشنی اور حرارت دور دراز براعظموں تک محسوس کی گئی۔ اس خطے کی جغرافیائی اہمیت، توانائی کے ذخائر اور نظریاتی کشمکش اسے ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز بنائے رکھتے ہیں۔
یہ سوال بہرحال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا حالیہ تناؤ ایک محدود عسکری مرحلہ ہے یا کسی بڑی جغرافیائی تبدیلی کا پیش خیمہ؟ سرحدیں محض نقشوں پر کھینچی گئی لکیریں نہیں ہوتیں؛ وہ تاریخ، ثقافت اور اجتماعی شعور کی علامت بھی ہوتی ہیں۔ جب سرحدیں بدلتی ہیں تو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بدلتا، نسلوں کی یادداشت اور قوموں کی شناخت بھی متاثر ہوتی ہے۔
کلاسیکی سیاسی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قوت اگر توازن سے عاری ہو جائے تو اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ فطرت کے قوانین میں عجلت کا کوئی مقام نہیں۔ ہر واقعے کا ایک وقت مقرر ہے اور ہر عروج کے ساتھ زوال کا امکان بھی پنہاں ہوتا ہے۔ اگر طاقتور فریق جلد بازی میں کوئی ایسا قدم اٹھائے جو عالمی رائے عامہ یا فطری اصولوں کے خلاف ہو، تو تاریخ کا پہیہ اس کے حق میں نہیں گھومتا۔
یورپ کی ممکنہ حکمتِ عملی بھی قابلِ غور ہے۔ براعظمِ یورپ ہمیشہ اپنے مفادات اور اقدار کے درمیان توازن کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اگر وہ اس بحران میں غیر جانب داری یا اعتدال کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ عالمی صف بندی میں ایک نئی جہت پیدا کر سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، عالمی اتحادوں کی نئی ترتیب وجود میں آ سکتی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس ہوں گے۔
اس تمام منظرنامے میں ایک پہلو اور بھی اہم ہے، عوامی شعور۔ جنگیں حکمرانوں کے فیصلوں سے شروع ہوتی ہیں مگر ان کا بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ نظریات اگرچہ جوش پیدا کرتے ہیں، مگر امن ہی ترقی کی ضمانت بنتا ہے۔ قوموں کی عظمت صرف عسکری قوت سے نہیں، بلکہ اخلاقی وقار اور دانشمندانہ فیصلوں سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
ممکن ہے آنے والا وقت حیرتوں سے بھرا ہو۔ ممکن ہے کشیدگی محدود رہے اور سفارت کاری ایک بار پھر غالب آ جائے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تاریخ ایک نئے باب کا آغاز کرے۔ تاہم دعا یہی ہے کہ خطہ کسی ایسی آگ کی لپیٹ میں نہ آئے جس کی تپش نسلوں تک محسوس ہو۔
وقت کا دھارا ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ اقتدار، قوت اور اتحاد سب عارضی ہیں، باقی رہ جاتی ہے انسانیت اور اس کے فیصلوں کی بازگشت۔ اگر اہلِ اقتدار تدبر، صبر اور حکمت کو شعار بنائیں تو یہی بحران تعمیرِ نو کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ وگرنہ تاریخ کی عدالت بے لاگ ہے،وہ نہ تاخیر کرتی ہے اور نہ رعایت۔
column in urdu Iran and Israel




