بین الصوبائی اقامتی منصوبہ 2026 از اکادمی ادبیات پاکستان. شہزین فراز
صبح کے سات بج چکے تھے۔ شکر ہے میں نے رات گئے بیگ پیک کر لیے تھے۔ تازہ دم ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور نیچے رسیپشن کی جانب نگاہیں دوڑائیں۔ ایسی خاموشی؟ ایسا چیختا ہوا سکوت؟ ۔ ایسی اداسی؟ جیسے ساری رونقوں کو کھا کر آرام کر رہی ہو۔ کامن روم میں ہماری خدمت میں دس روز تک دن رات مشغول رہنے والے اکادمی ادبیات کے ملازمین سو رہے تھے۔ میں جانتی تھی کہ میری ایک آواز پر انہیں میری مدد کو دوڑے چلے آنا ہے، بغیر ماتھے پر کوئی شکن لاۓ، تاہم ان کی نیند میں خلل ڈالنے کو میرا دل نہیں مانا۔ میں نے بھاری بھرکم بیگ اپنے کمرے سے نیچے خود ہی اتار لیے۔ کیب کا انتظار کرتے کرتے میری نظریں یہاں وہاں گردش کر رہی تھیں۔ اکادمی کے حسن اور اس کے سکون سے غیر معینہ مدت تک میری آنکھیں محروم ہونے والی تھیں۔ آخرکار میں بوجھل دل کے ساتھ کیب میں بیٹھ کر اکادمی کی حدود سے باہر نکل آئی۔
میرا نام شہزین فراز ہے۔ شاعری کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرتی ہوں۔ جب آپ زندگی کے ایسے پڑاؤ پر ہوں جہاں وقت پر نہ ملنے والی نعمتوں پر افسوس اور دیگر محرومیوں کی یاسیت کا احساس آپ کو چمٹے ہوۓ ہو۔۔۔۔ایسے میں اچانک شہرِ اسلام آباد کی خوش رنگ فضاؤں میں آباد ایک معتبر ادارے سے آپ کو کال موصول ہو کہ آپ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کے تحت منتخب کر لیے گئے ہیں۔۔۔۔ یہ سب خزاں میں بہار والا معاملہ ہوتا ہے۔ خیر میرے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ تیاری کے لیے وقت قلیل تھا سو دن رات ایک کر دیئے اور بالآخر اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد پہنچ گئی۔
پہنچتے ہی مجھے کمرہ مل گیا۔۔ سامنے والے کمرے پر دستک دی تو پھولوں کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والی بسمہ (زبردست ناول نگار) باہر آئی، اور ہم ایسے ملے گویا برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ برابر والے کمرے پر دستک دی تو فیصل آباد کے مضافات سے تعلق رکھنے والی نازو عروج (بہترین پنجابی اور اردو شاعرہ) سے پرتپاک سلام دعا ہوئی۔ اسی رات اکادمی کے کامن روم میں غیر رسمی نشست بھی ہوئی۔۔ تین سو تین درخواستوں میں سے بیس لوگ میرٹ پر چنے گئے تھے۔ اکادمی کے عہدیدار اختر رضا سلیمی صاحب نے بڑی محبت سے ہم سب کا استقبال کیا اور بہت ہی مشفق زاہد گلزار صاحب سے متعارف کرایا جن کی سرپرستی میں ہمیں یہ دس ایّام گزارنے تھے۔ زاہد بھائی کے ساتھ دیگر شرکاء سے تعارف بھی ہوا اور اپنی اپنی تخلیقات کا حوالہ بھی دیا گیا۔
اگلے روز کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی میری نٹ کھٹ روم میٹ لاریب (زبردست انگریزی شاعرہ) بھی پہنچ گئی۔ لاریب کے ساتھ ہر دن ایسا گزرا جیسے ہم کوئی بچھڑی ہوئی بہنیں ہوں۔ نازو عروج کی روم میٹ گانچھے، بلتستان سے تعلق رکھنے والی آمینہ (عمدہ نثرنگار) سے بھی بہت محبت سے سلام دعا ہوئی۔ بسمہ کی روم میٹ زنیرہ (باکمال انگریزی شاعرہ) بھی کوئٹہ سے آئی تھی۔ ناشتے پر ہم چھ خواتین ایسے مل بیٹھیں جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ افتتاحی اجلاس میں بی بی امینہ صاحبہ، جو اکادمی میں نائب ناظمہ ہیں، بڑی شفقت و محبت سے ملیں اور میڈم نجیبہ عارف سے متعارف کروایا۔ میڈم نجیبہ عارف، اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن، پہلی خاتون جنہوں نے اکادمی کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی جب وسائل کی قلّت کا سامنا تھا۔ یہ میڈم نجیبہ ہی تھیں جنہوں نے ایسے ایسے انوکھے پروگرام متعارف کروائے جن کا پہلے اکادمی میں شاید ہی کبھی تذکرہ ہوا ہو۔ ہمارا اقامتی منصوبہ بھی میڈم نجیبہ کے فکر انگیز منصوبوں میں سے ایک کامیاب منصوبہ تھا۔
ہم چھ خواتین کے علاوہ سندھ سے تعلق رکھنے والے نثری نظموں کے دو عمدہ شعراء روشن شیخ اور جی ایم لاڑک تھے۔ ان کے علاوہ عیسیٰ میمن تھا جس نے جیلوں میں لکھے جانے والے ادب پر کام کیا تھا۔ ہمارا ایک ساتھی اسکردو سے تعلق رکھنے والا منظور نظر تھا جو پہلے روز سے اپنے تعارفی شعر کی وجہ سے ہر دلعزیز ہو گیا تھا۔ پنجاب سے شاکر جتوئی (عمدہ پنجابی شاعر)، عرفان حیدر (زبردست نقاد و شاعر) جو ہم سب میں “خود کلامی کا دیوتا” کے نام سے مشہور ہوا، لقمان اسد (تجربہ کار کالم نگار و شاعر) جنہیں ہم سب لیّہ والے بھیّا کہہ کر چھیڑتے تھے، اور یوحنا جان (بہترین نقاد) تھے۔ خیبر پختونخوا سے ہمارے ساتھ عمر خان عمر (عمدہ پشتو شاعر) جو وہیل چیئر پر ہونے کے باوجود بھی اکادمی کی ہر سرگرمی میں سرگرم نظر آتا تھا، یہاں اس کے بھائی کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی جو سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ تھا اور جس کی بدولت عمر اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے اسلام آباد آیا تھا، عمر کے علاوہ ہمارے ساتھ خرّم شاہ (زبردست شاعر) اور ارشد سلیم صاحب تھے جو معروف ادیب سلیم راز صاحب کے فرزند ہیں، خود بہترین ادیب، کہانی کار اور محقق ہیں۔ آزاد کشمیر سے محمد مشتاق قادری صاحب (منفرد انداز کے شاعر) تھے۔ بلوچستان سے شہزاد سلطان بلوچ (زبردست براہوی شاعر اور باکمال اردو نثرنگار) اور نور الحق شاہ صاحب (بلوچی اور اردو نثرنگار و نظم نگار) تھے جنہیں ہم سب خواتین نے “ادبی بابا” کا لقب دیا۔
اکادمی ادبیات میں ہونے والے اجلاس کی سرگرمیوں میں ادباء اور شعراء پر گفتگو، مکالمے اور کتابوں کی رونمائی شامل تھی۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات نے ہمیں ایسے اداروں کا دورہ کروایا جن کے متعلق ہمیں عمومی طور پر کبھی معلوم نہ ہو پاتا کہ وہاں کیا اور کیسے کام کیا جاتا ہے۔ ان اداروں میں ادارہ فروغِ قومی زبان اردو، اسٹریٹجیک اسٹڈیز آف پاکستان، نیشنل بک فاؤنڈیشن، نمل یونیورسٹی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی شامل تھے۔ اداروں کے دورے کے علاوہ اکادمی کی طرف سے ہمیں دامنِ کوہ، لوک ورثہ، پاکستان مونومنٹ اور فیصل مسجد بھی لے جایا گیا۔
اسلام آباد کے معروف ادباء اور شعراء و شاعرات جیسے فرخ یار صاحب، حمید شاہد صاحب، قیصرہ علوی صاحبہ، نعیم فاطمہ علوی صاحبہ، ثروت محی الدین صاحبہ نے اپنے گھروں میں ہمارے لیے پرتکلف دعوتوں کا بندوبست کیا، ہم سے مکالمے کیے، ہمیں سوال کرنے کا حوصلہ دیا۔ محترم اظہار الحق صاحب نے ہمارے لیے اسلام آباد کلب میں عالیشان ہائی۔ٹی کا انتظام کیا۔ دھرتی رنگ رائٹرز کلب کی جانب سے ہمارے اعزاز میں راولپنڈی میں دعوت رکھی گئی۔ دوروں کے دوران اکادمی کی سواری میں ہم سب خوب ہلہ گلہ کرتے، گیت گاتے، غزلیں سناتے، نثر سناتے۔ محبوب ظفر صاحب جو اسلام آباد کی محبوب ہستی ہیں، ہر جگہ ہمارے لیے مشفقانہ انداز میں نظامت کے فرائض سرانجام دیتے۔ اکادمی کے ڈائریکٹر میر نواز سولنگی صاحب ہمیشہ خوشگوار انداز میں ہم سے مخاطب ہوتے۔ بی بی امینہ صاحبہ نے بڑی بہنوں کی طرح ہم سب کو ساتھ رکھا، ہماری رہنمائی کی، اور ان کے ساتھ ان کی اسسٹنٹ ارم فاطمہ اور علشبہ کی انتھک محنت بھی قابلِ ذکر ہے۔ زاہد گلزار بھائی نے بڑے بھائیوں کی طرح ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ گویا اکادمی کا پرسکون ماحول ہمیں ایسا احساس دلاتا کہ ہم ایک “نئی فیملی” کے ساتھ اپنے گھر میں ہی ہیں۔
اکادمی کے ملازمین ناشتے سے لے کر عشائیے تک ہماری میزبانی میں مشغول رہتے، حتی کہ دیر رات رسمی و غیر رسمی نشستوں میں بھی ہمارے لیے بار بار چاۓ کا انتظام کرتے۔ احمد مجاہد صاحب اور رحمان فارس صاحب بھی بالخصوص ہم سب سے اکادمی ملنے آۓ۔ ملک مہر صاحب نے ایک مکالمے کے دوران ہمارے ساتھیوں کی جگہ بنانے کے لیے اپنی نشست یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ آپ کا حق ہے، آپ ہمارے مہمان ہیں، دور سے آۓ ہیں۔ ایسا لگتا تھا ہم سب کسی دوسرے سیّارے سے آئے ہیں اور ہماری یکجہتی دیکھ کر سارا اسلام آباد عش عش کر اٹھا ہے۔
منصوبے کے آخری روز بھی اکادمی نے ہمیں اتنی محبتیں اور سہولیات دینے کے علاوہ کتابوں کے تحائف بھی دیئے۔ میڈم نجیبہ عارف سے ہم سب نے گلے مل کر ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ رخصت لی۔ ہم بیس شرکاء زاہد گلزار بھائی کے ساتھ گھنٹوں کامن روم میں بیٹھے، ایک دوسرے کے تعارف کی نقل اتارے، خوب ہنسے، منصوبے کے دوران گزارے ہوئے وقت کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا، اکادمی کے ملازمین عبدالرحمن بھائی اور ان کے دیگر دو ساتھی بھی ہم سب کی گفتگو سے جیسے باقی ایّام میں محظوظ ہوتے تھے، اس روز بھی ہوئے۔ ہم سب کے دل کے کسی گوشے میں اگلی صبح گھروں کو لوٹ جانے کے خیال سے ایک گہری اداسی سبک روی سے گھر کر رہی تھی۔ رائٹرز ہاؤس کی رونقیں ہم سب کے اڑان بھرتے ہی ماند پڑنے والی تھیں۔ کاش یہ وقت ٹھہر سکتا، لیکن ہم سب کی ذمہ داریاں جو ہم اپنے اپنے مضافات میں چھوڑ آۓ تھے، ہمیں چیخ چیخ کر پکار رہی تھیں، ہمیں باور کرا رہی تھیں کہ تمہیں لوٹنا ہے، ہماری خاطر، تمہارے اہلِ خانہ کی خاطر۔ یوں سب نے ایک ایک کر کے اگلی صبح اکادمی کی خوبصورت یادوں کو اپنے اذہان میں محفوظ کرتے ہوئے روتے روتے ایک دوسرے کو وداع کیا۔ میری ٹکٹ اگلی صبح کی تھی۔ میں شاید اپنے ساتھیوں میں سب سے حسّاس تھی، اسی لیے دو روز قبل ہی سے باتوں باتوں میں رو دیتی تھی۔ شکر ہے آخری روز مجھے گلے لگانے والا کوئی نہ تھا، ورنہ میں اپنی روح کا ایک معتبر حصّہ اکادمی کے حوالے کر کے اپنے گھر آدھی ادھوری لوٹتی۔ خدا اکادمی ادبیات کی رونقیں اور اس سے منسلک تمام لوگوں کو آباد رکھے۔ آمین
column in urdu Inter-Provincial Residential Program 2026
اسکردو پولیس کی بڑی کاروائی، 10 کلو چرس برآمد، مزید کاروائی کے لیے چھاپے جاری ہیں




