column in urdu Important Role of Women in Society 0

عورت کا معاشرے میں اہم کردار . یاسر دانیال صابری
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں عورت کو آج بھی مکمل انسان تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی ہے۔ ہم زبان سے تو عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتوں کا درجہ دیتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کے وجود کو شک، تنگ نظری اور مفادات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ یہی تضاد ہماری اجتماعی سوچ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ عورت کو عزت دینے کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، لیکن جب وہ اپنے حقوق، اپنی پہچان اور اپنی خودمختاری کی بات کرتی ہے تو وہی معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
عورت ایک حساس دل رکھنے والی مخلوق ضرور ہے، مگر اس حساسیت کو کمزوری سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ وہ ایک چٹان کی طرح مضبوط بھی ہے، جو ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے پر مشکل وقت آیا، عورت نے مرد کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نہ صرف قربانیاں دیں بلکہ نئی راہیں بھی متعین کیں۔ مگر افسوس کہ اسی عورت کو آج بھی محض ایک جسم یا ایک معاشی بوجھ سمجھنے کی روش عام ہو چکی ہے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب پیمانہ رائج ہو چکا ہے، جہاں عورت کی قدر اس کی تعلیم، کردار یا صلاحیت سے نہیں بلکہ اس کے پاس موجود پیسے یا اس کی ظاہری چمک دمک سے کی جاتی ہے۔ اگر عورت کسی اچھے عہدے پر فائز ہو تو اس کی کامیابی کو اس کی محنت کے بجائے کسی اور زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ بازار میں کام کرے، دکان پر بیٹھی ہو یا کسی دفتر میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہو تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، جیسے وہ کوئی غیر معمولی یا ناقابل قبول کام کر رہی ہو۔
یہ سوچ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے زہر قاتل بھی ہے۔ کیونکہ جب آپ اپنی آدھی آبادی کو ذہنی طور پر دبائیں گے تو ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ عورت کو اگر تعلیم، روزگار اور اظہارِ رائے کی آزادی دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک پہلو اور بھی اہم ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عورت کو جہاں حقوق حاصل ہیں، وہیں اس پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنی حدود سے تجاوز کرے یا اپنے رشتوں اور اقدار کو بھول جائے۔ ایک متوازن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں حقوق اور فرائض دونوں کا احساس موجود ہو۔ عورت اگر باہر نکل کر کام کرتی ہے، تعلیم حاصل کرتی ہے اور اپنی آواز بلند کرتی ہے تو اسے اپنے گھر، اپنے شوہر، اپنے بچوں اور اپنے قریبی رشتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ یہی توازن اسے مزید باوقار بناتا ہے۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں کچھ حلقے عورت کی آزادی کو ایک انتہا تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے مکمل طور پر قید میں رکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ نہ تو عورت کو مکمل طور پر پابندیوں میں جکڑنا درست ہے اور نہ ہی اسے بے لگام آزادی دینا دانشمندی ہے۔ اصل خوبصورتی اعتدال میں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر عورت مضبوط، بااعتماد اور باوقار ہوگی تو آنے والی نسلیں بھی مضبوط ہوں گی۔ اگر عورت کو مسلسل دبایا جائے گا، اس کی تضحیک کی جائے گی اور اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جائیں گی تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت چکائے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو بدلیں۔ عورت کو ایک پھول کی طرح نازک ضرور سمجھیں، مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہی پھول کانٹوں کے درمیان رہ کر بھی اپنی خوشبو بکھیرتا ہے۔ اگر اس کی حفاظت کی جائے، اس کی قدر کی جائے تو وہ معاشرے کو مہکا دیتی ہے، لیکن اگر اسے روند دیا جائے تو پھر صرف پچھتاوا ہی باقی رہ جاتا ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے آغاز کرنا ہوگا۔ اپنی بیٹیوں کو اعتماد دینا ہوگا، اپنی بہنوں کو احترام دینا ہوگا اور اپنی بیویوں کو وہ مقام دینا ہوگا جس کی وہ حق دار ہیں۔ اسی طرح عورت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی عزت، اپنے وقار اور اپنی پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی گزارے۔ وہ اپنی تعلیم، اپنے کردار اور اپنی محنت کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ وہ کسی سے کم نہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی روایات اور اقدار کو بھی نہ بھولے۔
معاشرہ تبھی خوبصورت بنتا ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کی عزت کریں۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مکمل کرنے والے ہیں۔ اگر ایک کمزور ہوگا تو دوسرا بھی مضبوط نہیں رہ سکے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس مصنوعی تفریق کو ختم کریں اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں ہر فرد کو اس کا حق ملے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔
آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ عورت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اسے محدود کرنے کی نہیں۔ اسے عزت دینے کی ضرورت ہے، اسے جانچنے کی نہیں۔ کیونکہ جب عورت کو اس کا اصل مقام ملتا ہے تو وہ صرف ایک گھر نہیں سنوارتی بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل دیتی ہے۔
عورت کو اگر عزت دی جائے تو وہ معاشرے کو سنوار دیتی ہے، اور اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو وہی معاشرہ بکھر جاتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Important Role of Women in Society

رہبر زندہ ہے. کبریٰ مطہری العباس ایجوکیشنل کمپلیکس، سکردو

گلگت میں لوڈ مینجمنٹ شیڈول جاری، مختلف علاقوں کے لیے اوقات مقرر

50% LikesVS
50% Dislikes

عورت کا معاشرے میں اہم کردار . یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں