تعلیم کی اہمیت اور دیہاتی لڑکیاں، تہمینہ الیاس چھوربٹی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس ذات کے نام سے آغاز کرتی ہوں جو دلوں کو منور کرتی ہے، جہالت کے اندھیروں میں علم کی روشنی بکھیرتی ہے، راہوں کو روشن کرتی ہے، اور ذہنوں میں فکر و شعور کے چراغ روشن کرتی ہے۔
میں گلگت بلتستان کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتی ہوں، جہاں تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں ہم میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں لڑکیوں کی تعلیم کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی لڑکوں کو دی جاتی ہے۔ میٹرک کے بعد شاذونادر ہی کسی ایک لڑکی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ میں بھی ان خوش نصیب لڑکیوں میں سے ایک ہوں۔
میں چاہتی ہوں کہ آپ سب کو دیہاتی لڑکیوں کی تعلیم کے راستے میں آنے والی مشکلات، والدین کے کردار اور سماجی رویوں سے آگاہ کروں۔
تعلیم کی اہمیت اور دیہاتی لڑکیاں
تعلیم انسان کی زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو جہالت کی تاریکیوں کو ختم کر کے ترقی اور شعور کی روشنی پھیلاتا ہے۔ یہ محض کتابوں کے اوراق میں بند الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو انسان کے خیالات کو سنوارتی ہے، کردار کو نکھارتی ہے اور دل و دماغ کو اعلیٰ سمت عطا کرتی ہے۔ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، مشکلات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اور معاشرے میں اپنا کردار کیسے ادا کرنا ہے۔
تعلیم کا مقصد محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ انسان کو انسان بنانا ہے۔ یہ ہمارے دلوں کو نرم کرتی ہے، دوسروں کے دکھ درد کا احساس دلاتی ہے اور ہمیں سچائی، ایمانداری اور محبت کا سبق دیتی ہے۔ تعلیم کے بغیر نہ فرد کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ ہی قوم ترقی کر سکتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ ماں نسلوں کو سنوارتی ہے، ایک تعلیم یافتہ باپ خاندان کو ترقی دیتا ہے اور ایک تعلیم یافتہ نوجوان قوم کو آگے بڑھاتا ہے۔
جب ہم تعلیم کی اہمیت پر غور کرتے ہیں تو دل میں سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ روشنی سب کے لیے یکساں ہے؟
افسوس کہ ہمارے دیہاتوں کی معصوم بیٹیاں اکثر اس روشنی سے محروم رہ جاتی ہیں۔ دیہات کی لڑکیاں صبح سویرے سورج کے ساتھ جاگتی ہیں، کھیتوں میں کام کرتی ہیں، گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور اپنے خوابوں کو دل کے کسی کونے میں چھپا لیتی ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ تو ہوتی ہے لیکن آنکھوں میں سوال بھی چھپے ہوتے ہیں
کیا ہمیں بھی پڑھنے کا حق نہیں؟ کیا ہماری قسمت صرف باورچی خانے اور کھیتوں تک محدود ہے؟
اگرچہ ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا، لیکن ان کی آنکھیں ان سوالوں کی گواہ ضرور ہوتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دیہات کی لڑکیوں کے لیے تعلیم صرف کتابی علم نہیں بلکہ امید کی کرن ہے، جو اسے اعتماد دیتی ہے، سوچ کو وسعت عطا کرتی ہے، زندگی کو ایک مقصد بخشتی ہے اور انہیں اس احساس سے آزار کراتی ہے کہ وہ کمزور ہے یا دوسروں پر بوجھ ہے
دیہاتی لڑکیوں کے تعلیمی سفر میں آنے والی مشکلات
دیہاتی لڑکیوں کا تعلیمی سفر آسان نہیں ہوتا۔ یہ سفر بے شمار رکاوٹوں، دکھوں اور محرومیوں سے بھرا ہوتا ہے۔
دیہات کی لڑکیاں اپنی معصوم خواہشات کے ساتھ علم کی روشنی حاصل کرنے نکلتی ہیں، لیکن ان کے راستے میں سماجی، معاشی، خاندانی اور معاشرتی رکاوٹیں ایسے دیوار بن جاتی ہیں کہ ان کا سفر ایک کٹھن جدوجہد میں بدل جاتا ہے۔
سماجی رکاوٹیں
دیہاتی معاشرے میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ سوچ یہ ہے کہ لڑکی کو آخرکار گھر سنبھالنا ہے، چولہا جلانا ہے یا شادی کے بعد دوسرے گھر چلے جانا ہے، لہٰذا تعلیم پر محنت اور سرمایہ ضائع کیوں کیا جائے؟ یہی سوچ کئی لڑکیوں کے خوابوں کو آغاز ہی میں ختم کر دیتی ہے۔ خاندان کے بڑوں کی قدامت پسند سوچ اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے والا رویہ ان کے تعلیمی سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
معاشی مسائل
اکثر دیہاتی گھرانے مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ والدین کے پاس فیس، کتابیں، یونیفارم اور ہاسٹل کے اخراجات پورے کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی۔ والدین سوچتے ہیں کہ اگر وسائل محدود ہیں تو ان کا خرچ لڑکوں پر کیا جائے، کیونکہ لڑکا خاندان کا سہارا بن سکتا ہے، جب کہ لڑکی پر خرچ “ضائع” سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوچ دیہاتی لڑکیوں کے خوابوں کو بار بار کچل دیتی ہے۔
تعلیمی سہولتوں کی کمی
دیہات میں میٹرک تک تعلیم تو کسی حد تک میسر ہے، لیکن اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے ادارے نہ ہونے کے باعث لڑکیاں تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
سماجی دباؤ اور کم عمری کی شادی
دیہاتی معاشرے میں کم عمری کی شادی لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کئی لڑکیاں اپنے خوابوں کی قربانی دے کر جہیز کے بکسوں میں کتابیں بند کر دیتی ہیں۔ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکی کی عزت اور تحفظ شادی میں ہے، تعلیم میں نہیں۔
ذہنی و جذباتی مسائل
جب لڑکیاں اپنے ہم عمر لڑکوں کو مواقع اور آزادی کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے دیکھتی ہیں تو ان کے دل میں محرومی اور کرب پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس ان کی خود اعتمادی کو توڑ دیتا ہے۔ کچھ ہمت ہار دیتی ہیں، مگر کچھ لڑکیاں ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں۔
امید کی کرن
مشکلات کے باوجود بہت سی دیہاتی لڑکیاں اپنی محنت، لگن اور حوصلے سے علم کی روشنی حاصل کر لیتی ہیں۔ وہ مٹی کے کچے راستوں پر چل کر، غربت کے اندھیروں کو سہہ کر، سماج کی تنگ نظری کا سامنا کر کے بھی اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہیں۔ ان کا یہ سفر صرف ان کی زندگی نہیں بدلتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی امید اور روشنی کا پیغام بن جاتا ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم میں والدین کا کردار
لڑکیوں کی تعلیم میں والدین کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ گھر ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ شعور پاتا ہے۔ اگر والدین بیٹی کو مثبت تربیت، رہنمائی اور حوصلہ فراہم کریں تو اس کا تعلیمی سفر نہایت آسان اور کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ تعلیم کو غیر ضروری یا بوجھ سمجھیں تو بیٹی کے خواب، صلاحیتیں اور منزلیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے دیہاتی معاشرے میں یہ سوچ موجود ہے کہ بیٹی کو پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اسے آخرکار دوسرے گھر جانا ہے۔ یہ تنگ نظری نہ صرف بیٹی کے حق پر ڈاکہ ڈالتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کو بھی روک دیتی ہے۔
ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کو شعور، اخلاق اور آگے بڑھنے کی ہمت دیتی ہے۔ اس لیے والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ چاہے مشکلات معاشی ہوں یا سماجی دباؤ، والدین کو چاہیے کہ وہ رکاوٹیں خود دور کریں۔
جب ایک بچی دیکھتی ہے کہ اس کے والدین اس کی تعلیم کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں: دن رات مزدوری کر کے، تو کبھی اپنے خواہشات کو قربان کر کے، تو اس کے دل میں بھی یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی محنت اور کامیابی سے نہ صرف والدین کو فخر کا موقع دے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے باعثِ ناز بنے۔
یہ حقیقت ہے کہ تعلیم صرف کتابوں کے رٹے کا نام نہیں بلکہ شعور، اخلاق، اعتماد اور زندگی میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ والدین جب بیٹی کو تعلیم دلواتے ہیں تو دراصل اسے خودمختار، باوقار اور باشعور بناتے ہیں۔ یہی باشعور لڑکی کل کو ایک قابلِ فخر بیٹی، بہترین ماں، نیک بیوی اور معاشرے کی مضبوط رکن ثابت ہوتی ہے۔
لہٰذا والدین کا کردار صرف بیٹی کو اسکول میں داخل کروانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں قدم قدم پر اس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، اسے خواب دیکھنے اور اپنی منزل تک پہنچنے کی آزادی دینی چاہیے۔ ایک بیٹی کے لیے سب سے بڑی طاقت اس کے والدین کی دعائیں اور تعاون ہی ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے، ہمارے گھروں میں خوشحالی، سکون اور روشنی آئے تو ہمیں اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا۔ اس سفر میں والدین کا کردار ستون کی طرح مضبوط اور لازمی ہے۔ باشعور والدین ہی باشعور بیٹیاں پروان چڑھاتے ہیں، اور یہی بیٹیاں کل کو دنیا کو حقیقی معنوں میں امن، محبت اور ترقی کا گہوارہ بناتی ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم میں سماج کا کردار
جب ہم دیہاتی لڑکیوں کی بات کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے تعلیمی سفر میں سب سے بڑا سہارا یا سب سے بڑی رکاوٹ سماج ہی بنتا ہے۔ سماج کا کردار ان کے خوابوں کو حقیقت میں ڈھال سکتا ہے یا ان خوابوں کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے۔
دیہاتی لڑکیاں اکثر وسائل کی کمی اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کے حق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ ان کی راہ میں سب سے بڑی دیوار وہ معاشرتی سوچ ہے جو آج بھی یہ سمجھتی ہے کہ لڑکی کی اصل ذمہ داری صرف گھر کی چاردیواری تک محدود ہے۔ یہ سوچ لڑکیوں کے خوابوں کو دبا دیتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر سماج اپنی سوچ بدل لے اور لڑکی کو تعلیم کا زیور پہنا دے تو وہی لڑکی کل کو ایک کامیاب ماں، ایک باشعور بیوی، اور ایک مثبت سوچ رکھنے والی شہری بن کر پورے معاشرے کو ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اگر معاشرے کے افراد، بزرگ، استاد، اور رہنما سب مل کر لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے لیے سہولیات پیدا کریں تو دیہات کی بیٹیاں بھی ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ سماج اگر اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے قیام میں ساتھ دے، اگر لوگ اپنا وقت اور اپنی محنت تعلیم کے فروغ پر لگائیں، تو وہ ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے دیہاتی معاشرے میں ابھی بھی بہت سی لڑکیوں کی کم عمری میں شادی ہو جاتی ہے- ان کے خواب تعلیم کی دہلیز پر ہی دم توڑ دیتے ہیں کیونکہ سماج یہ نہیں سمجھتے کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی پورے خاندان کے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہے۔ اگر معاشرہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے، رسم و رواج کی زنجیروں کو توڑے، اور تعلیم کو ترجیح دے تو یہ بچیاں بھی کتابیں تھام کر اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈ سکتی ہیں۔
سماجی رویے لڑکیوں کی تعلیم پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر ایک محلے یا گاؤں میں لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ لڑکی کی تعلیم باعثِ عزت ہے، تو وہاں دوسرے گھرانے بھی اپنی بیٹیوں کو ضرور تعلیم دلائیں گے۔ یہ اجتماعی سوچ ہی وہ طاقت ہے جو پوری قوم کو بدل سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر سماج کسی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے پر طنز کا نشانہ بنائے یا اس کے والدین کو شرمندہ کرے تو یہ رویہ نہ صرف ایک خاندان کو بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی محرومی میں دھکیل دیتا ہے۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ دیہاتی لڑکیوں کو تعلیم کے لیے گھروں سے دور جانا پڑتا ہے، اور وہاں سب سے بڑی رکاوٹ “لوگ کیا کہیں گے” بن جاتی ہے۔ سماج اکثر بدگمانیوں، فضول باتوں اور بے بنیاد خوف کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کو پڑھنے سے روک دیتے ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے اگر معاشرہ مثبت رویہ اپنائے، اپنے رویوں میں وسعت پیدا کرے اور لڑکی کے اعتماد کو سہارا دے، تو یہ دیہاتی لڑکیاں بھی ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی دیہاتی لڑکی تعلیم یافتہ ہو جاتی ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوارتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو روشن کر دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو علم کے چراغ سے روشنی دیتی ہے، وہ اپنے خاندان کو صحت مند، باشعور اور خوشحال بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے سماج کی طاقتور سپورٹ ضروری ہے۔ ایک ایسا سماج جو لڑکی کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے دے، اس پر اعتماد کرے، اور اس کی راہ میں حوصلہ افزائی کا چراغ جلا کر کھڑا ہو۔
لڑکیوں کی تعلیم صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی امانت ہے۔ ایک لڑکی جب اسکول جاتی ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف اپنی کتاب نہیں اٹھاتی بلکہ اپنے خاندان، اپنے محلے اور اپنے وطن کی تقدیر کو سنوارتے ہوئے قدم بڑھاتی ہے۔ لہٰذا سماج کا فرض ہے کہ وہ اس کے راستے کے تمام کانٹے صاف کرے، اس کے خوابوں کو پروان چڑھائے اور اسے یہ یقین دلائے کہ اس کی تعلیم محض اس کی نہیں بلکہ ہم سب کی کامیابی ہے۔ اگر معاشرہ مثبت سوچ اپنا لے، لڑکیوں کو تعلیم کا حق دے، ان کے خوابوں کو زندہ رکھے اور ان کے ساتھ کھڑا ہو تو دیہاتی لڑکیاں بھی ترقی کی مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی قسمت نہیں بدلتی بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر لکھتی ہے۔ اور یہی وہ انقلاب ہے جو سماج کی سوچ بدلنے سے ممکن ہے۔
جزاک اللہ خیرا
دن بھر کی اہم خبریں اور دلچسپ کالمز ملاحظہ فرمائیں
column in urdu Importance of Education and Rural Girls
61 ہجری کا کربلا اور آج کا کربلا . ایک حسینی کردار اور ایک یزید کردار . محمد ابرہیم نوری
نرگسیت۔خود پسندی سے خود فریبی تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان




