انسان خطا کا پتلا . طوبیٰ رحمٰن
کائناتِ ہست و بود میں انسان کی تخلیق قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی بنیاد ہی تضادات کی بوقلمونی پر رکھی گئی ہے۔ اسے جہاں “اشرف المخلوقات” کے منصبِ جلیل پر فائز کیا گیا، وہاں اس کی تکوین یعنی پیدائش اور بناوٹ میں نسیان، عجلت اور لغزش کا عنصر بھی شامل کر دیا گیا۔ اردو کی یہ معروف ضرب المثل کہ “انسان خطا کا پتلا ہے” محض ایک لسانی رعایت نہیں، بلکہ ایک ایسی کائناتی حقیقت ہے جو انسانی نفسیات اور عمرانیات کے عمیق گوشوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ جملہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ خطا انسانی وجود کا لازمہ ہے، جس سے مفر ممکن نہیں۔ انسان کی تکوین کے وقت ہی اسے “ارادہ و اختیار” کی وہ امانت سونپی گئی جسے کائنات کی دیگر مخلوقات اٹھانے سے قاصر تھیں۔ جہاں اختیار ہوتا ہے، وہاں غلط انتخاب کا امکان لازم و ملزوم ہے۔ فرشتوں کو صرف اطاعت کا مادہ دیا گیا، اس لیے وہ معصوم ہیں، جبکہ حیوانات کو صرف جبلت دی گئی، اس لیے وہ غیر ذمہ دار ہیں، لیکن انسان کو عقل اور خواہش کے سنگم پر کھڑا کیا گیا ہے، اور یہی وہ مادہِ خطا ہے جو اسے ارتقا کے سفر پر مائل رکھتا ہے۔
اگر ہم انسانی سرشت کا گہرا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ خطا محض ایک لغزش نہیں بلکہ یہ سیکھنے کے عمل کا پہلا زینہ ہے۔ تاریخِ انسانی کے بڑے بڑے انکشافات دراصل “کوشش اور خطا” کے طویل سلسلے کا ثمر ہیں۔ اگر انسانی فطرت میں غلطی کا امکان نہ ہوتا، تو جستجو کی تڑپ اور حقائق کی تلاش کا مادہ بھی مفقود ہو جاتا۔ خطا انسان کو جامد ہونے سے روکتی ہے اور اسے مسلسل “اصلاحِ نفس” کی تحریک دیتی ہے۔ تاہم، انسانی نفسیات کا ایک تاریک اور تلخ پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی خطاؤں کو تو “بشری تقاضا” قرار دے کر نظر انداز کر دیتا ہے، لیکن دوسروں کی لغزشوں پر “محتسب” بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہیں سے وہ رویہ جنم لیتا ہے جسے ہم خود پسندی یا تکبر کہتے ہیں۔ انسان جب خود کو “پاک و مطہر” سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنی تخلیقی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانا اور ان کی تذلیل کرنا دراصل اپنی “انا” کو تسکین پہنچانے کا ایک مصنوعی ذریعہ ہے، کیونکہ جب ہم کسی کی غلطی کو اچھالتے ہیں، تو لاشعوری طور پر ہم خود کو اس سے برتر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کے قطعی منافی ہے، کیونکہ انسانیت کا اصل تقاضا ہمدردی، درگزر اور پردہ پوشی تھا۔ انسان اکثر اس نفسیاتی گرہ کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح کے نام پر ان کی تحقیر شروع کر دیتا ہے۔ صوفیا کرام کے نزدیک اصل “عارف” وہی ہے جو اپنی خطاؤں کے دفتر پر تو نظر رکھے لیکن دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈال دے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی خلوتوں کے گناہ دیکھ لیں تو ہمیں دوسروں کی جلوت کی غلطیوں پر زبان کھولنے کی ہمت نہ ہو۔ یہ ایک المیہ ہے کہ معاشرے میں لوگ دوسروں کے لیے “جج” بن جاتے ہیں جبکہ اپنی خطاؤں کے لیے ہمیشہ “وکیل” کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ہی انسانی معاشرے میں تلخی اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ سامنے والا بھی ہماری طرح کمزوریوں اور تضادات کا مجموعہ ہے، تو معاشرے میں انتقام کی جگہ اصلاح اور ملامت کی جگہ محبت لے سکتی ہے۔
روحانی تناظر میں دیکھا جائے تو خطا ایک تعمیری قوت کے طور پر سامنے آتی ہے، جو انسان کو اپنی “انا” کے قید خانے سے نکال کر عاجزی کی وسعتوں میں لے جاتی ہے۔ ایک ٹوٹا ہوا دل اور اپنی غلطی پر شرمندہ روح، اس مغرور عابد سے ہزار درجہ بہتر ہے جو اپنی پارسائی کے گھمنڈ میں دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ کامیابی کا اصل راز اپنی غلطی کے اعتراف میں چھپا ہے، نہ کہ اسے چھپانے یا دوسروں پر تھوپنے میں۔ خطا وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی نامکملیت کا مشاہدہ کرتا ہے اور اسی مشاہدے سے “کمال” کی جستجو جنم لیتی ہے۔ ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ ہم بشری تقاضوں کے اسیر ہیں، لیکن ہماری عظمت اس بات میں ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو اعتراف کی ڈھال بنائیں اور ندامت کے ذریعے اپنے کردار کو کندن بنائیں۔ خود کو پاک باز سمجھ کر دوسروں کو گناہ گار گرداننا دراصل سب سے بڑی “خطا” ہے، کیونکہ حقیقی انسان وہی ہے جو اپنی کمزوریوں سے واقف ہو اور دوسروں کی کمزوریوں کے لیے اپنے دل میں وسعت رکھتا ہو۔ آخرِ کار، انسان کی عظمت اس کے فرشتہ بن جانے میں نہیں، بلکہ اپنی انسانیت کو اس کی تمام تر لغزشوں کے ساتھ تسلیم کرنے اور مسلسل بہتری کی جانب قدم بڑھانے میں پوشیدہ ہے۔
column in urdu Human mistakes
گھر کیسے چلے گا !! طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
شگر انجمن امامیہ سکردو اور انجمن امامیہ شگر نے برطرف پولیس اہلکاروں کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا۔




