چھٹیوں کا موسم اور تعلیم کا ماتم. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
ہمارے معاشرے میں جب بھی تعلیمی سال شروع ہوتا ہے تو امید کی ایک شمع روشن ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو کتابیں، کاپیاں اور خواب دے کر تعلیمی اداروں کی دہلیز پر چھوڑتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ ادارے صرف عمارتیں نہیں بلکہ مستقبل کے کارخانے ہیں، جہاں سے آنے والے کل کی روشنی تیار ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر یہ شمعیں ہوا کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ پورا تعلیمی سیشن چھٹیوں کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ کبھی سیکیورٹی خدشات، کبھی موسم کی شدت، کبھی انتظامی فیصلے اور کبھی کسی اور وجہ کے تحت تعلیمی ادارے بند کر دیے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ چند دنوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں، مگر درحقیقت یہ مستقبل کے قیمتی لمحات کی چوری ہے۔ اگر ایک تعلیمی سال کے عملی دنوں کا حساب لگایا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نصاب کے لیے مختص وقت کا بڑا حصہ تعطیلات کی نذر ہو جاتا ہے۔
تعلیم دراصل تسلسل کا نام ہے۔ نفسیاتِ تعلیم کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سیکھنے کا عمل تب ہی مؤثر ہوتا ہے جب اس میں تسلسل برقرار رہے۔ جب بار بار تعلیمی سرگرمیاں رکتی ہیں تو طلبہ کی توجہ، ذہنی آمادگی اور سیکھنے کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی نظام کو ہر ممکن حد تک تعطل سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہاں کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متبادل تعلیمی طریقہ کار فوری طور پر فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سفر رکے نہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا کے کئی ایسے خطے ہیں جہاں حالات ہم سے کہیں زیادہ مشکل ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں بچے ٹینٹوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہاں اسکولوں کی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہوتی ہیں مگر علم حاصل کرنے کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ شعور ہے کہ تعلیم صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی بقا کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی تعلیم کو جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں جب تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں تو فوراً یہ کہا جاتا ہے کہ آن لائن تعلیم اس خلا کو پورا کر سکتی ہے۔ بظاہر یہ دلیل جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ لگتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ملک کے بے شمار تعلیمی اداروں کے پاس مؤثر آن لائن تدریسی نظام موجود نہیں۔ اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل نصاب، انٹرنیٹ کی دستیابی اور طلبہ کے پاس ضروری آلات، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کے بغیر آن لائن تعلیم محض ایک تصور رہ جاتی ہے۔
دیہی علاقوں میں تو صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔ وہاں نہ انٹرنیٹ کی رفتار تسلی بخش ہے اور نہ ہی ہر گھر میں اسمارٹ فون یا کمپیوٹر موجود ہے۔ ایسے میں آن لائن تعلیم کا تصور عملی طور پر ایک محدود طبقے تک ہی رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تعلیمی خلا مزید گہرا ہو جاتا ہے اور معاشرے میں تعلیمی عدم مساوات بڑھتی چلی جاتی ہے۔
تعلیم کے تسلسل میں خلل کا ایک اور بڑا نقصان طلبہ کی فکری نشوونما پر پڑتا ہے۔ جب تعلیمی ماحول کمزور ہوتا ہے تو طلبہ کا رجحان غیر تعمیری سرگرمیوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا اور غیر سنجیدہ مصروفیات ان کا زیادہ وقت لینے لگتی ہیں۔ یوں وہ علمی و فکری تربیت جو تعلیمی اداروں میں ہونی چاہیے، آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ جب معاشرے میں تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تو اس کے اثرات صرف طلبہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ کمزور تعلیمی نظام کا مطلب ہے کمزور تحقیق، کمزور معیشت اور کمزور اجتماعی سوچ۔ جو قومیں تعلیم کو ترجیح نہیں دیتیں وہ عالمی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں تو ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ کبھی نصاب تبدیل ہو جاتا ہے، کبھی امتحانی نظام میں اچانک تبدیلی آ جاتی ہے اور کبھی انتظامی فیصلوں کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں طلبہ ایک تجربہ گاہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
والدین کا کردار بھی اس معاملے میں انتہائی اہم ہے۔ اگر والدین اجتماعی طور پر تعلیمی تسلسل کے حق میں آواز بلند کریں تو پالیسی سازوں کو سنجیدگی اختیار کرنا پڑے گی۔ تعلیم کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک معاشرہ خود تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہیں بنائے گا، اس وقت تک مثبت تبدیلی ممکن نہیں۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ تعلیم محض امتحانات پاس کرنے کا نام نہیں۔ یہ سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو معاشروں کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے علم کو اپنی بنیاد بنایا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی اپنائیں۔ تعلیمی اداروں کے لیے ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو ہنگامی حالات میں بھی تدریسی عمل کو جاری رکھ سکے۔ اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی اور نصاب کی مؤثر منصوبہ بندی اس سلسلے میں بنیادی اقدامات ہو سکتے ہیں۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والے برسوں میں ہمیں صرف تعلیمی پسماندگی ہی نہیں بلکہ فکری بحران کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جس کے پاس ڈگریاں تو ہوں گی مگر علم کی گہرائی نہیں ہوگی۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ کیا ہم انہیں چھٹیوں کی عارضی خوشی دینا چاہتے ہیں یا علم کی وہ روشنی جو پوری زندگی ان کے راستے کو منور کر سکتی ہے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اور تاریخ ہمیشہ اسی قوم کو یاد رکھتی ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم کو سب سے بڑی سرمایہ کاری سمجھتی ہے۔
column in urdu Holiday Season, Education in Decline
پراگریس (progress) اور گروتھ (growth): ترقی کے دو مختلف مگر مربوط زاویے. سلیم خان




