column in urdu Hoarding From Economic Crisis 0

ذخیرہ اندوزی: معاشی بحران سے اخلاقی زوال تک۔ ایک تجزیہ. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
مہنگائی کے اس دور میں جب عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل سکڑ رہی ہے، ذخیرہ اندوزی محض ایک کاروباری چال نہیں بلکہ معاشرتی ناانصافی کی منظم شکل بن چکی ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں، خصوصاً پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، یہ مسئلہ معاشی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ فطری ہے یا مصنوعی طور پر پیدا کیا جاتا ہے؟

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

معاشیات کا بنیادی اصول رسد اور طلب ہے۔ جب کسی شے کی طلب زیادہ اور رسد کم ہو تو قیمت بڑھتی ہے۔ مگر ذخیرہ اندوزی اسی اصول کو توڑنے کا نام ہے۔ تاجر جان بوجھ کر رسد روک لیتا ہے تاکہ قلت پیدا ہو اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ یوں منڈی کی قدرتی حرکت کو مصنوعی طور پر موڑا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف صارفین کے استحصال کا باعث بنتا ہے بلکہ معیشت میں غیر یقینی اور بے اعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ آٹا، چینی، گھی اور پیاز جیسی بنیادی اشیاء کی قلت کے اعلانات ہوتے ہی بازاروں میں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کچھ عرصے بعد وہی اشیاء دگنی قیمت پر دستیاب ہو گئیں۔ یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب ریاستی نگرانی کمزور ہو، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی وقتی ہو اور احتساب کا نظام سست ہو تو یہ عناصر مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا اثر صرف غریب طبقے تک محدود نہیں رہتا۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو پیداواری لاگت بھی بڑھتی ہے، صنعت متاثر ہوتی ہے، بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں پورا معاشی ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس طرح چند افراد کا ناجائز منافع قومی معیشت کو اجتماعی نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی چین کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور جغرافیائی تنازعات یقیناً قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، مگر ان عوامل کی موجودگی ذخیرہ اندوزی کا جواز نہیں بن سکتی۔

اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو ذخیرہ اندوزی انسانی ہمدردی کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔ جب ایک تاجر جانتا ہے کہ اس کے گودام میں موجود اناج ہزاروں گھروں کی ضرورت پوری کر سکتا ہے، مگر وہ زیادہ منافع کے انتظار میں اسے روک لیتا ہے، تو یہ صرف کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ انسانی حق تلفی ہے۔ مذہبی تعلیمات اور سماجی اقدار دونوں اس عمل کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ کمزور طبقات کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔

حل کیا ہے؟ سب سے پہلے مضبوط اور شفاف نگرانی کا نظام۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سپلائی چین کی نگرانی، گوداموں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور قیمتوں کی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ دوم، سخت قانونی سزائیں اور فوری انصاف کا نظام ضروری ہے تاکہ قانون کا خوف پیدا ہو۔ سوم، عوامی شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے تاکہ لوگ گھبراہٹ میں غیر ضروری خریداری نہ کریں اور مصنوعی قلت کا حصہ نہ بنیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی صرف منڈی کا مسئلہ نہیں، یہ ضمیر کا مسئلہ ہے۔ جب تک ذاتی مفاد اجتماعی بھلائی پر غالب رہے گا، یہ ناسور جڑ سے ختم نہیں ہوگا۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ طے کرنا ہوگا کہ وقتی فائدے کے لیے ہم اجتماعی نقصان کو قبول کریں گے یا انصاف، دیانت اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں گے۔ اگر ہم نے اس سوال کا درست جواب نہ دیا تو مہنگائی کی آگ بجھنے کے بجائے مزید بھڑکتی رہے گی، اور عام آدمی کا چولہا یونہی ٹھنڈا ہوتا رہے گا۔

column in urdu Hoarding: From Economic Crisis

سکردو: امن و امان کی صورتحال پر پیر کو اعلیٰ سطحی اجلاس متوقع، آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں کا بھی امکان

فسق اور تقویٰ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

100% LikesVS
0% Dislikes

ذخیرہ اندوزی: معاشی بحران سے اخلاقی زوال تک۔ ایک تجزیہ. سلیم خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں