column in urdu Heavenly Realm 0

مکتوبِ مرزا نوشہ از عالمِ بالا. بنام محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

مقام: کوچۂ فردوسِ بریں، محلۂ ملائکہ، نزد حوضِ کوثر
روزِ پنج شنبہ
بتاریخ: ۱۱ مارچ ۲۰۲۶ء

بنام
محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ صاحبہ
نگرانِ بزمِ “ترجمانِ ادب قومی زبان”

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

بعد سلامِ مسنون عرض یہ ہے کہ عالمِ بالا میں بھی کبھی کبھی فرشتوں کو زمین والوں کے احوال پڑھنے کا شوق چرّا جاتا ہے۔ سو کل ایک فرشتہ دفترِ احوالِ زمینی سے ایک رجسٹر اٹھائے ہمارے پاس آ نکلا اور کہنے لگا..

“مرزا نوشہ! ذرا اپنے اردو والوں کا حال بھی دیکھ لیجیے۔ ایک گروہ ہے جس کا نام تو ترجمانِ ادب قومی زبان ہے، مگر وہاں ایسی خاموشی چھائی ہوئی ہے جیسے دہلی کے کسی متروک کتب خانے میں صدیوں سے گرد جھاڑنے والا بھی نہ آیا ہو!”

ہم نے بھی تجسس میں آ کر ذرا جھانک کر دیکھا تو واقعی منظر کچھ ایسا ہی تھا کہ بیشتر حضرات ایسے سکون سے آرام فرما رہے تھے جیسے ادب کی نہیں بلکہ خواب کی محفل سجی ہو۔

یہ دیکھ کر بے اختیار ہمارا اپنا شعر یاد آ گیا:

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

مگر تھوڑی دیر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس نیم خاموش بزم میں چند چراغ ابھی بھی روشن ہیں اور انہی کے دم سے محفل کا نام باقی ہے۔
سب سے پہلے ذکر ہونا چاہیے جناب سلیم خان صاحب کا۔
حضرت! آپ کی استقامت دیکھ کر ہمیں اپنے زمانے کے وہ میزبان یاد آ گئے جو مہمانوں کے آنے سے پہلے ہی محفل سجا کر بیٹھ جاتے تھے اور آدھی رات تک چراغ جلائے رکھتے تھے۔
آپ بھی کچھ اسی شان سے اس بزم کے دربان اور چراغ بردار بنے ہوئے ہیں۔
گروپ خاموش ہو یا آباد، آپ کی موجودگی اس طرح برقرار رہتی ہے جیسے کسی پرانے محل میں ایک وفادار چراغ ہر رات جلایا جاتا ہو۔
کبھی کوئی اعلان، کبھی کوئی یاد دہانی، کبھی کسی تحریر کو سراہنا—یہ سب دیکھ کر ہم نے دل ہی دل میں کہا:
“حضرت سلیم خان نہ ہوتے تو شاید یہ بزم کب کی قصۂ پارینہ بن چکی ہوتی۔”

اور اب آیئے اس بزم کی بیداری کی نقارہ زن محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی طرف۔

ارے چمن کی یاسمن طوبیٰ صاحبہ!

آپ کی سرگرمی دیکھ کر تو ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے کسی نیم سوئے ہوئے کارواں کے آگے ایک باہمت مسافر مسلسل نقارہ بجا رہا ہو کہ
“اے قافلے والو! ابھی منزل باقی ہے!”

کبھی کسی کو متوجہ کرنا، کبھی گفتگو کا نیا سلسلہ چھیڑ دینا، کبھی ادب کے نام پر خاموشی کو چیلنج کرنا،یہ سب دیکھ کر ہمیں اپنا یہ مصرع یاد آ گیا:

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
یعنی جو بزم سے محبت رکھتا ہو وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔

اور اب ذکر ہو اس بزم کے ایک ایسے چراغ کا جس کی روشنی خاصی نمایاں دکھائی دی، یعنی محمد صفوان صفوی صاحب۔

حضرت صفوان! آپ کی فعالیت دیکھ کر عالمِ بالا میں بھی ہم نے فرشتوں سے کہا کہ
“دیکھو، زمین پر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو محفل کو زندہ رکھنے کا فن جانتے ہیں۔”
آپ کی مسلسل شرکت، تبصرے، تحریریں اور ادبی شوق اس بزم کے لیے گویا تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔
ویران محفلیں انہی لوگوں کے دم سے آباد رہتی ہیں۔
ہم تو دل سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ:
اگر اس بزم کے چراغوں کی فہرست بنے تو محمد صفوان صفوی صاحب کا چراغ ذرا اونچا رکھا جائے۔

اب آیئے ذرا اس محفل کے سب سے شوخ کردار سانول یار کی طرف۔
حضرت سانول یار!
آپ کی آمد تو بالکل ویسی لگتی ہے جیسے کسی سنجیدہ مجلس میں اچانک کوئی شوخ مزاج دوست داخل ہو کر ایک ایسا فقرہ کہہ دے کہ سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل جائے۔
آپ کی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ، ظریفانہ جملے اور اچانک نمودار ہو کر ماحول میں شوخی گھول دینا ہمیں اپنے دہلی کے یاروں کی یاد دلا گیا۔
ہمارے ہاں بھی ایک دوست ایسے تھے، محفل میں آتے ہی کہتے:
“مرزا! آج کوئی سنجیدہ شعر مت سنائیے، پہلے دو چار قہقہے ضروری ہیں!”
محفل میں یہ شوخی نہ ہو تو گفتگو بھی یوں لگتی ہے جیسے قوالی بغیر طبلے کے،
لہٰذا سانول یار صاحب کی یہ شرارتی چھیڑ چھاڑ دراصل اس بزم کی جان ہے۔

ڈاکٹر منیر حسین صاحب کا روزانہ کیلنڈر بھیجنا بھی بڑی دلچسپ خدمت ہے۔
گویا وہ ادب کی بزم میں کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہوں..
“حضرات! ایک اور دن گزر گیا—اگر کچھ لکھنا ہے تو جلدی کیجیے!”

اور ڈاکٹر ظہیر الحسن عثمان صاحب کے قرآن و حدیث پر مبنی پیغامات اس بزم میں ایک روحانی روشنی پیدا کرتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادبی چراغوں کے ساتھ ایک نورانی شمع بھی روشن ہے۔

البتہ منظر انصاری صاحب کا انداز بڑا دلکش نکلا۔
چپکے سے آنا، ایک تحریر لگانا اور بغیر کسی رسمی گفتگو کے رخصت ہو جانا۔
یہ دیکھ کر ہمیں اپنا ہی حال یاد آ گیا اور بے اختیار شعر زبان پر آ گیا:

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی

اب رہا باقی احباب کا معاملہ، رانا نعیم صاحب، میاں مصطفیٰ صاحب اور دیگر معزز اراکین۔۔

تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب نے ادب کے نام پر خاموش مراقبہ اختیار کر رکھا ہے۔

مگر ہمیں امید اب بھی باقی ہے,
لہٰذا عالمِ بالا سے ایک نہایت آزمودہ نسخہ پیش کرتے ہیں۔
جناب سلیم خان اور محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ جلد از جلد ایک شاندار افطار و عشائیہ کا انتظام کریں۔
کیونکہ ہمارے دہلی کے تجربے سے یہ حقیقت ثابت ہے کہ
پہلے معدہ آباد
پھر ذہن شاد۔

جب دسترخوان سجے گا، قہقہے گونجیں گے اور چائے کے دور چلیں گے تو یقین مانیے یہی حضرات جو ابھی خاموش ہیں، وہی سب سے زیادہ گفتگو کرنے لگیں گے۔

اور اس محفل میں اگر اقبال کی بانگِ درا بھی بجا دی جائے تو سوئے ہوئے اہلِ ذوق یقیناً چونک کر اٹھ بیٹھیں گے۔

آخر میں بطور دعا اپنا ایک شعر پیش کیے دیتا ہوں.

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

اللہ کرے کہ بزمِ “ترجمانِ ادب قومی زبان” پھر سے آباد ہو، سخن کے چراغ جلیں اور گفتگو کی محفل روز سجے۔
ورنہ ہمیں عالمِ بالا سے ایک اور خط لکھنا پڑے گا اور اس بار شاید سانول یار کی شرارتوں سے بھی زیادہ شرارت ہمارے قلم میں آ جائے!

والسلام
آپ کا خیر اندیش

مرزا اسد اللہ خان غالب (نوشہ)
مقیمِ عارضی: عالمِ بالا
نزد باغِ بہشت
column in urdu Heavenly Realm

50% LikesVS
50% Dislikes

مکتوبِ مرزا نوشہ از عالمِ بالا. بنام محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں