حسن آباد سے اکادمی ادبیاتِ اسلام آباد پاکستان تک، آمینہ یونس، گلگت بلتستان، گانچھے
اکادمی ادبیاتِ اسلام آباد پاکستان کا اھل قلم کے اقامتی منصوبے کا اشتہار تو میں نے ضرور پڑھا تھا مگر درخواست دینے کا خیال نہیں آیا۔ پھر کسی کے کہنے پر اللہ کا نام لے کر درخواست بھیج دی اور انتظار میں رہی کہ کیا ہوتا ہے، منتخب ہوتی ہوں یا مسترد۔ اس اقامتی منصوبے کا شیڈول 15 جنوری سے 24 جنوری تک تھا۔ جب 6 اور 7 جنوری کی بھی تاریخ گزر گئی اور کوئی فون نہیں آیا تو میں نے سوچا شاید میرا انتخاب نہیں ہوا ہے۔ کوئی بات نہیں، سردی میں سفر کرنا بھی مشکل کام ہوتا ہے، یہ سوچ کر دل مطمئن تھا۔ مگر 9 جنوری کی شام موبائل کی گھنٹی بجی تو میں نے امی سے کہا، امی موبائل ذرا ادھر دیں، لگتا ہے کوئی ضروری فون ہے۔ امی کے ہاتھ سے موبائل لے کر دیکھا تو پی ٹی سی ایل کا نمبر تھا۔ جلدی سے کال اٹینڈ کی اور کیچن سے باہر بھاگی کہ کہیں سگنل ڈراپ نہ ہو جائیں ہیلو ہیلو کہنے پر آگے سے پوچھا گیا، کیا آپ آمینہ یونس ہیں؟ میں نے فوراً کہا، جی جی، میں آمینہ یونس ہوں۔ انہوں نے کہا، میں اکادمی ادبیاتِ پاکستان، اسلام آباد سے آمینہ بات کر رہی ہوں، آپ کو دس روزہ اقامتی منصوبے کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے، مبارک ہو۔ میں نے الحمدللہ کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گھر والوں کو بتایا مگر ان کی طرف سے کوئی خاص ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ زبردستی امی کے گلے لگی اور مبارک باد لی، پھر بھتیجی کو کھینچ کر گلے لگایا اور کہا مجھے مبارک تو دو، اس کے بعد بھابھیوں کے گلے لگ کر مبارک باد وصول کی۔ رات کو ابا کو بتایا، پھر تینوں بھائیوں سے باری باری مبارک باد لی، تب جا کر دل کو تسلی ہوئی۔ پھر جانے کا مسئلہ درپیش تھا کہ کیسے جاؤں، آخر یہ فیصلہ ہوا کہ بذریعہ ہوائی جہاز جاؤں کیونکہ بذریعہ روڈ جاتی تو صبح چار بجے پیر ودھائی دھائی پہنچنا پڑتا جو مشکل ہوتا۔ 14 تاریخ کا ٹکٹ لیا اور 13 جنوری کی صبح آٹھ بجے ہم گھر سے نکلے، بارہ بجے سکردو پہنچے اور رات وہیں قیام کیا کیونکہ سکردو میں قیام کے بغیر آگے سفر ممکن نہیں ہوتا۔ اگلی صبح ساڑھے نو بجے گھر سے نکلی، گاڑی سے اتری تو فوراً سامان کی چیکنگ ہوئی، اور ٹکٹ دے کر کہا گیا کہ جلدی ایئر بلیو کے دروازہ نمبر دو پر پہنچیں۔ چیکنگ کے مراحل سے گزر کر دروازے پر پہنچی تو لوگ باہر نکل رہے تھے۔ وہاں سے بس میں سوار ہوئی اور جہاز کے پاس اتر کر ایک لڑکی سے کہا میری ایک تصویر بنا دیں، اسٹیٹس بھی لگانا تھا۔ ہاہا۔ پھر جہاز میں سوار ہوئی اور ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے بارہ بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جہاز لینڈ کر چکا تھا کچھ دیر بعد سامان سے اپنے ٹیچی کیس کو اٹھایا، ٹرالی لی، سامان رکھا اور باہر آ گئی جہاں میرا کزن مجھے لینے آیا ہوا تھا۔ وہاں سے علی پور گئی جہاں ماموں کے گھر ایک رات قیام کیا۔ 15 جنوری کی شام میری بہن اور بھتیجی کے ساتھ اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی طرف روانہ ہوئی۔ گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوتے ہی دل زور زور سے دھڑکنے لگا اور آنکھیں نم ہو گئیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنا بڑا کرم کیا ہے کہ میں پاکستان کے علم و ادب کے گھر میں داخل ہو رہی ہوں۔ یہ شرف ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ میں نہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہوں اور نہ پی ایچ ڈی، اس کے باوجود میرا شمار پاکستان کے ادبی افق پر لکھا گیا ہے جو میرے لیے مقامِ شکر تھا۔ شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے، ہم اندر بڑھے، کاؤنٹر پر نام پوچھا گیا اور ایک فارم پُر کرنے کو دیا گیا فارم جمع کروانے کے بعد مجھے سامنے والے کمرے میں بھیج دیا گیا۔ میری بہن واپس چلی گئی اور بتایا گیا کہ میرا سامان کمرے میں پہنچا دیا جائے گا، یوں میں ادبی گھر میں آ چکی تھی۔ اگلے دن سب شرکا سے ملے، چھ خواتین اور چودہ مرد، کل بیس افراد تھے۔ سب کا تعارف ہوا۔ صبح دس بجے اکادمی ادبیات کے شیخ ایاز ہال میں ہمارا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس کے بعد ہر روز مختلف دانشوروں اور شعرا نے اپنے علم سے ہمیں فیض یاب کیا اور بار بار یہ باور کرایا کہ ہم میں سے کوئی بھی کسی سفارش پر نہیں بلکہ اپنی اپنی قابلیت پر اس منصوبے کا حصہ بنا ہے۔ اس کے بعد یہ دس دن ایسے گزرے کہ دن اور رات کی خبر نہ رہی۔ صبح دس بجے سیشن شروع ہوتے اور رات گئے تک جاری رہتے، کبھی حلقہ ادب، کبھی مکالمہ، کبھی چائے، کتابیں اور باتیں، تو کبھی ملک کے نامور شعرا اور دانشوروں کے گھروں میں کئی گھنٹوں پر محیط ادبی محفلیں سجتیں۔ ان سب کا مقصد میڈم نجبہ عارف صاحبہ کے وہ زرین خیالات تھے جن کے ذریعے وہ دور دراز علاقوں کے ادیبوں اور شاعروں کو ادب کے مخفی پہلوؤں سے روشناس کرانا اور بڑے دانشوروں کے خیالات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرانا چاہتی تھیں۔ ان میں فرخ یار جیسے ملنسار، شفیق اور عاجز انسان، میڈم تحریم جیسی نرم گفتار اور صاحبِ بصیرت خاتون، محمد حمید شاہد صاحب جیسے علم، خلوص اور محبت نچھاور کرنے والے، اہل خانہ قیصرہ علوی جیسی تہذیب و تمدن کی علمبردار، اظہار الحق جیسے بے باک مگر شگفتہ اندازِ گفتگو رکھنے والے، اور فاطمہ علوی صاحبہ جیسی سراپا اخلاق شخصیت شامل تھیں، سب نے اپنے اپنے علم کے سمندر سے ہمیں سیراب ہونے کا موقع دیا۔ اس دس روزہ اقامتی منصوبے نے ہمیں نہ صرف بہت سی نئی چیزوں سے روشناس کرایا بلکہ گہرے مشاہدات کا موقع بھی دیا۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی چیئرپرسن میڈم نجبہ عارف صاحبہ اور ڈاکٹر بی بی آمینہ صاحبہ ہمیں بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے بے حد مہربان لگتیں۔ ان دس دنوں میں ہم نے وہ کچھ سیکھا جو شاید برسوں میں نہ سیکھ پاتے، ساتھ ہی یہ بھی جانا کہ اہلِ ادب نے اس ادبی مرکز کو قائم کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اسے آج تک قائم رکھا گیا۔ میں اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس منصوبے میں شامل کیا، یہ میرا پہلا باقاعدہ ادبی سفر تھا جس میں مجھے ادب کی روح سے شناسائی کا موقع ملا۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان نے نہ صرف ہمیں بہترین رہائش اور اچھا کھانا فراہم کیا بلکہ ہمارے سامنے ادب کا ایک دریا رکھ دیا اور ہمیں اختیار دیا کہ ہم جیسے چاہیں اس سے فیض یاب ہوں، چلو سے پئیں، گلاس سے پئیں یا ڈوبکی لگا لیں۔ یہ سب میڈم نجیبہ عارف صاحبہ کی ادب سے محبت اور ان کی ٹیم کے خلوص کا نتیجہ تھا، جس سے ہم نے اپنی علمی پیاس بجھانے کی بھرپور کوشش کی، اس کے علاؤہ ہمیں مختلف کتب خانوں اور جامعات کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے۔
آخری رات فرحین خالد صاحبہ نے ہوٹل میں دعوت کا اہتمام کیا تھا، جہاں بہترین کھانوں کے ساتھ اعلیٰ درجے کی شاعری سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ یہ محفل رات گئے تک جاری رہی۔ فرحین خالد صاحبہ اور اُن کے رفقا نے ہمیں کتابوں کا تحفہ دیا، اور وہاں سے بے حد محبت اور احترام سمیٹ کر لوٹے۔
یوں ایک ادبی ورکشاپ اپنے اندر بہت سے رنگ سموئے اپنے اختتام کو پہنچی
اگلہ حصہ رائٹرز ہاؤس پر لکھا جائے گا ان شاءاللہ
column in urdu Hasanabad to the Academy of Letters, Islamabad, Pakistan
لاہور: ریلوے پولیس نے گھر سے بھاگے 658 لڑکے،لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا
کتب خانہ : جہان دیگر، سلیم خان




