column in urdu Gulf Security Model 0

خلیجی سکیورٹی ماڈل، ایران۔اسرائیل امریکہ کشمکش اور جوہری بیانیے کی نئی بحث . جی ایم ایڈوکیٹ
معروف اصول سب کو معلوم ہے “دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے” اسی منطق کے تحت جب ایران کے ازلی حریف اسرائیل اور اس کے اسٹریٹیجک اتحادی امریکہ کے ساتھ بعض خلیجی ممالک نہ صرف قریبی تعلقات استوار کرتے ہیں بلکہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود بھی ایران کے خلاف ان طاقتوں کے عسکری استعمال کے لیے مہیا کرتے ہیں تو یہ صورتِ حال محض سفارتی توازن تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک واضح اسٹریٹیجک پیغام میں ڈھل جاتی ہے۔ گویا اپنے ہمسائے کے دشمن کو اپنی ہی چھت فراہم کرے اور ہمسائے کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے اور پھر جب ہمسائے سے جوابی ردِعمل آئے تو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت یاد آجائے کیا بے تکی منطق ہے۔ خلیجی ممالک کی پالیسی کو سمجھنا پیچیدہ نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حقائق کو غیر جانب دارانہ نظر سے دیکھنے اور سچ کو برداشت کرنے کا حوصلہ درکار ہے، کیونکہ دوہرے معیار بالآخر اعتماد کے بحران کو جنم دیتے ہیں۔ خلیجی ممالک کی اس غیر اعلانیہ دشمنی اور موجودہ تمام تر تناؤ کے باوجود ایران کی جانب سے ان ریاستوں کو باضابطہ دشمن قرار دینے کے بجائے “برادر اسلامی ممالک” کے طور پر مخاطب کرنا ایک مختلف طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے، جسے برداشت اور اسٹریٹیجک ضبط کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد خلیجی خطہ ایک بار پھر عالمی جیو اسٹریٹجک کشمکش کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ ایران کے گرد قائم امریکی عسکری موجودگی جو مختلف خلیجی ریاستوں میں فضائی، بحری اور لاجسٹک تنصیبات کی صورت میں موجود ہے خطے میں طاقت کے توازن کو متعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکی ہے۔ یہ عسکری ڈھانچہ محض دوطرفہ دفاعی معاہدات کا نتیجہ نہیں بلکہ سرد جنگ کے بعد ابھرنے والے اس Security Architecture کا تسلسل ہے، جس میں امریکہ نے خلیج کو اپنے عالمی مفادات کے ایک کلیدی دائرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ چنانچہ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ اڈے کیوں قائم ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ موجودہ بحران میں ان کا عملی کردار کیا صورت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات، سیٹلائٹ تصاویر اور عسکری Analysis سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ امریکہ نے ان اڈوں کو ایران پر حملے کرنے کیلئے کسی نا کسی شکل پر استعمال کر رہا ہے باوجود اس کے ایران نے اپنے ردِعمل کو اُن مقامات تک محدود رکھنے کی کوشش کی جنہیں وہ امریکی یا اسرائیلی عسکری ڈھانچے کا حصہ سمجھتا ہے اور ان تنصیبات پر ایران پے در پے حملے کر رہا ہے جس باعث مخصوص فضائی اور میزائل تنصیبات کے قریب دھماکوں اور بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاعات ہیں، تاہم میزبان ریاستوں کے قومی انفراسٹرکچر کو دانستہ نشانہ بنانے کے شواہد تاحال واضح نہیں۔ اس سے یہ استدلال سامنے آتا ہے کہ ایران کم از کم بیانیاتی سطح پر اپنے اقدامات کو “براہِ راست فریق” کے خلاف محدود رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے، تاکہ تنازع وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ اسی پس منظر میں جدید فضائی دفاعی نظاموں کی افادیت پر بھی ایک اہم علمی بحث جاری ہے۔ طویل عرصے سے یہ تصور پیش کیا جاتا رہا کہ خلیجی عرب ریاستوں کی جانب سے امریکہ کو عسکری اڈوں کی فراہمی بنیادی طور پر اجتماعی دفاع اور سکیورٹی شراکت داری کے فریم ورک کے تحت کی گئی تھی۔ اس انتظام کی نظریاتی بنیاد یہ تھی کہ امریکی موجودگی ان ریاستوں کے تحفظ اور بیرونی خطرات کے تدارک کے لیے ہوگی۔ تاہم بین الاقوامی تعلقات کے نظریات کے مطابق بڑی طاقتیں عموماً میزبان ریاستوں کی سرزمین اور تنصیبات کو اپنے وسیع تر جیو اسٹریٹجک مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ موجودہ بحران میں یہی تضاد نمایاں ہوا ہے، جہاں دفاعی شراکت داری اور جارحانہ عسکری استعمال کے درمیان خطِ امتیاز دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ خلیجی ممالک بجا طور پر سوچنے پر مجبور ہیں کہ جو امریکہ اپنے اڈوں کی مکمل حفاظت نہ کر سکا، وہ ان ممالک کو کسی بڑی بیرونی جارحیت سے کس حد تک محفوظ رکھ پائے گا۔ اس تناظر میں یہ رائے سامنے آتی ہے کہ ان ممالک کو اپنے دفاع کو مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کے سپرد کرنے کے بجائے اپنی داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ بعض حلقوں کے نزدیک امریکہ کا کردار محض دفاع تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے وسیع تر علاقائی اہداف کے لیے بھی ان ریاستوں کی سرزمین استعمال کرتا ہے. تاہم حالیہ واقعات نے اس مفروضے پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا کوئی بھی دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہو سکتا ہے؟ عسکری مطالعات کے مطابق دفاع اور حملہ ہمیشہ ایک متحرک توازن میں رہتے ہیں؛ جیسے جیسے دفاعی ٹیکنالوجی ترقی کرتی ہے، ویسے ہی حملہ آور حکمتِ عملی بھی زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہوتی جاتی ہے، خصوصاً جب ڈرونز، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو مشترکہ طور پر استعمال کیا جائے۔ خلیجی عرب ریاستوں کی جانب سے امریکہ کو عسکری اڈوں کی فراہمی کا جواز اجتماعی دفاع، بحری راستوں کے تحفظ اور بیرونی خطرات کے انسداد کے بیانیے سے وابستہ رہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے نظریات بالخصوص New Realism کے مطابق چھوٹی اور درمیانی طاقتیں اپنی سلامتی کے لیے بڑی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کرتی ہیں تاکہ توازنِ قوت قائم رکھا جا سکے۔ تاہم اسی نظریے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بڑی طاقتیں میزبان ریاستوں کی سرزمین کو اپنے وسیع تر Geostrategic مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ موجودہ بحران میں یہی تضاد نمایاں دکھائی دیتا ہے. گزشتہ چند دنوں میں خلیجی دارالحکومتوں کی جانب سے جاری بیانات اس داخلی اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں جو ان ریاستوں کو درپیش ہے۔ ایک طرف وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی استحکام پر زور دے رہی ہیں، تو دوسری جانب امریکی عسکری موجودگی ان کی سرزمین کو ممکنہ ردِعمل کا ہدف بھی بنا رہی ہے۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ریاستی خودمختاری، اتحاد کی سیاست اور داخلی سلامتی کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک پیچیدہ سفارتی و عسکری چیلنج بن جاتا ہے۔ ایران کے لیے بھی یہ صورتِ حال کم پیچیدہ نہیں۔ اگرچہ وہ اپنے اقدامات کو “غیر ملکی عسکری اہداف” تک محدود رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن عملی میدان میں میزبان ریاست اور غیر ملکی اڈے کے درمیان امتیاز ہمیشہ واضح نہیں رہتا۔ بین الاقوامی قانون خصوصاً مسلح تنازعات کے قانون میں امتیاز اور تناسب کے اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی حملے کا دائرہ اگر غیر ارادی طور پر مقامی شہری انفراسٹرکچر تک پھیل جائے تو اس کے سفارتی اور قانونی مضمرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں، اور یہی عنصر کسی محدود تنازع کو وسیع علاقائی بحران میں بدل سکتا ہے۔ یہ تمام صورتِ حال خلیج کے Security Model پر ایک بنیادی سوال کھڑا کرتی ہے: کیا بیرونی طاقت پر مکمل انحصار طویل المدتی سلامتی کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے، یا علاقائی ریاستوں کو اپنی دفاعی خودکفالت، باہمی اعتماد سازی اور کثیرالجہتی سفارت کاری کو زیادہ مضبوط بنانا ہوگا؟ حالیہ کشیدگی نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ محض روایتی محاذ آرائی نہیں رہی، بلکہ ٹیکنالوجی، بیانیہ سازی، سائبر سرگرمیوں اور سفارتی حکمتِ عملیوں کا مرکب بن چکی ہے. دانشمندانہ طرزِ عمل کا تقاضا یہی ہے کہ تنازع کے دائرہ کار کو محدود رکھا جائے، عسکری اہداف کی تحدید واضح ہو اور Back Channel سفارت کاری کو فعال رکھا جائے۔ خلیج کی ریاستوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو بڑی طاقتوں کی براہِ راست محاذ آرائی کا میدان بننے سے بچانے کے لیے متوازن اور خودمختار حکمتِ عملی اپنائیں۔ بصورتِ دیگر، طاقت کی سیاست کا یہ کھیل پورے خطے کو طویل اور غیر یقینی عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی بیانیے کے مطابق رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے واضح فتویٰ دیا تھا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا شرعاً حرام ہے، اور اسی مذہبی مؤقف کی بنیاد پر ایران نے جوہری ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے باوجود ایٹم بم بنانے سے گریز کیا۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران “ Brackout Time” کے لحاظ سے ایٹم بم بنانے کیلئے چند دنوں یا ہفتوں کی دوری پر ہے، اور اسی خدشے کو بنیاد بنا کر سخت پابندیوں اور ممکنہ عسکری اقدامات کی بات کی جاتی رہی ہے۔ اب اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر وہی شخصیت/رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کیا گیا جو ایران میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا سب سے بڑا مذہبی و اخلاقی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا، تو کیا اب ایران میں اس سے سخت گیر حلقوں کو تقویت نہیں مل سکتی کہ اب وہ شخصیت ہی نہیں رہی تو اب ایٹم بم ضرور بنانا چاہئے. تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا ایٹمی پروگرام محض ایک فرد کے فیصلے سے نہیں بلکہ ریاستی اداروں، سکیورٹی اسٹرکچر، سائنسی صلاحیت اور بین الاقوامی دباؤ سمیت متعدد عوامل سے مشروط ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے کہ دباؤ اور حملوں کی پالیسی ایران کو روکنے کے بجائے مزید تیز رفتار جوہری پیش رفت کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے، مگر حتمی سمت کا تعین داخلی سیاسی فیصلوں اور عالمی سفارتی ماحول دونوں کے باہمی تعامل سے ہوتا ہے۔ بہت سارے کمزور ممالک کیلئے ایران محض ایک جغرافیہ نہیں رہا، بلکہ یہ عزت، خودمختاری اور بقا کی آزمائش بن چکا ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں کیے گئے فیصلے جب عام انسان کی دہلیز تک آگ اور خوف بن کر پہنچتے ہیں تو تاریخ سوال کرتی ہے کہ کیا امن کی قیمت ہمیشہ کمزوروں نے ہی ادا کرنی ہے؟ اگر واقعی سلامتی مطلوب ہے تو طاقتور حلقوں کو اسے میزائلوں، اڈوں اور اتحادوں سے نہیں بلکہ انصاف، بصیرت اور باہمی احترام سے تلاش کرنا ہوگا۔ ورنہ طاقت کی یہ شطرنج پوری دنیا کو ایک ایسی آگ میں دھکیل سکتی ہے جس کی تپش نسلوں تک محسوس کی جائے گی۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu Gulf Security Model

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

شگر میں رہبرِ معظم کی شہادت پر دوسرے روز بھی سوگ و احتجاج، اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعرے، ضلع شگر میں رہبرِ معظم کی شہادت پر دوسرے روز بھی فضا سوگوار

ٹی ٹونٹی۔پاکستان۔ٹیلنٹ کا میدان مگر حکمت عملی کا فقدان. سلیم خان

50% LikesVS
50% Dislikes

خلیجی سکیورٹی ماڈل، ایران۔اسرائیل امریکہ کشمکش اور جوہری بیانیے کی نئی بحث . جی ایم ایڈوکیٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں