سانحۂ گلگت بلتستان انسانی جانوں کا ضیاع، ریاستی طاقت کا استعمال اور شفاف تحقیقات کی ضرورت . جی ایم ایڈوکیٹ
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پوری دنیا میں اسرائیل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے خلاف احتجاجات پھوٹ پڑے، اسی تناظر میں کراچی، گلگت اور سکردو میں بھی اس برائی کے ٹرائیکا کے خلاف مظاہرے ہوئے، مگر ان مظاہرین کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں اب تک مختلف ذرائع کے مطابق دو درجن سے زائد افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ تقریباً تین دہائیوں کے بعد گلگت بلتستان میں چار دن کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا اور عدالتیں سمیت کئی سرکاری دفاتر کم از کم ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے گئے۔ ان شدید واقعات نے پورے خطے کو صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے اور نہ صرف انتظامی حکمت عملی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ قانونی اعتبار سے، اگر پاکستان میں کسی سرکاری، غیر سرکاری یا فوجی تنصیب، دفتر یا املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے تو ریاستی اداروں کو مختلف قوانین کے تحت کارروائی کا اختیار حاصل ہے، جن میں بنیادی طور پر Pakistan Army Act 1952 کے تحت فوج کو اپنی تنصیبات، اسلحہ، عملے اور حساس مقامات کے تحفظ کا قانونی اختیار حاصل ہے، اور Pakistan Penal Code 1860 کی دفعات 141، 146، 147، 148، 149، 186، 353 اور 427 کے تحت ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع، سرکاری اہلکاروں کے فرائض میں مداخلت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا قابلِ سزا جرم ہے۔ مزید برآں، اگر کسی واقعے کی نوعیت دہشت گردی کے زمرے میں آ جائے تو Anti-Terrorism Act 1997 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے Code of Criminal Procedure 1898 کی دفعات 127 تا 131 اور 144 کے تحت مجسٹریٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی مجمع کو منتشر کرنے اور ضروری اقدامات کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ تاہم ان تمام قوانین کے باوجود ایک بنیادی اصول تسلیم شدہ ہے، جسے Minimum Use of Force کہا جاتا ہے، جس کے تحت Mob (ہجوم) کو اس انداز میں منیج کیا جانا چاہیے کہ کم سے کم جانی نقصان ہو، اور یہ ایک اہم انتظامی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہجوم کو Manage کرنے کے لیے ابتدا میں انتظامیہ اور پولیس لوگوں کو بات چیت، Warnings اور مذاکرات کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ہجوم غیر قانونی شکل اختیار کر لے تو دفعہ 144 یا غیر قانونی اجتماع کی وارننگ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دی جاتی ہے، اور پھر کم سے کم طاقت (Minimum Use of Force) کے اصول کے تحت Water Cannon، Tear Gas، Rubber Builets اور دیگر غیر مہلک طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے، جبکہ انتہائی سنگین حالات میں، جب سرکاری املاک یا انسانی جان کو فوری خطرہ ہو، تب محدود اور آخری درجے کی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے، جس میں بھی Straight Fire کے بجائے ہوائی فائرنگ یا جسم کے نچلے اعضاء پر فائرنگ کی جاتی ہے تاکہ کم سے کم نقصان ہو اور باقیوں کو منتشر ہونے کا موقع ملے۔ مگر حالیہ واقعات میں یہ سب نہیں کیا گیا بلکہ سیدھی چھاتی اور سروں پر گولیاں چلائی گئیں، جو افسوسناک پہلو ہے، کیونکہ براہِ راست گولی چلانا صرف اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب انسانی جان کو فوری اور سنگین خطرہ لاحق ہو۔ گلگت اور سکردو کے حالیہ واقعات کئی سوالات پیدا کرتے ہیں: اگر مظاہرین مسلح تھے تو اس کے شواہد کیا ہیں اور آیا کسی سکیورٹی اہلکار کی جان گئی؟ اس کی تصدیق کے لیے CCTV اور دیگر شواہد عوام کے سامنے لانے چاہیے۔ اگر مظاہرین غیر مسلح تھے تو پھر براہِ راست فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ انسانی جان کیا ریاستی املاک سے کم قیمت ہے؟ سرکاری املاک کے نقصان کو ٹیکس کے پیسوں سے پورا کیا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کی جانوں کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے اکثر نوجوان 14 سے 22 سال کی عمر کے درمیان تھے، اگر یہ کم عمر اور غیر مسلح تھے تو کیا انہیں گرفتار کر کے یا دیگر طریقوں سے قابو میں نہیں کیا جا سکتا تھا؟ اس کے علاوہ بعض عینی شاہدین نے نقاب پوش افراد کے بارے میں باتیں کی ہیں جو آگ پھیلانے والے مادے استعمال کر رہے تھے، اور یہ بھی سوال ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا ایک دن پہلے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور احتجاجات ہونا یقینی تھا تو حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے پیشگی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔ اگر کسی ردِعمل کا خدشہ موجود تھا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پیشگی حکمت عملی بنانی چاہیے تھی تاکہ صورتحال اس حد تک نہ پہنچتی۔ کوتاہی یا غلطی کی صورت میں زمہ داران کی نشاندہی اور قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ کسی بالا افسر کا حکم تھا یا موقع پر موجود سیکورٹی اہلکار نے خود سے یہ انتہائی اقدام اٹھایا ہے اس پر تحقیقات ہونا از بس ضروری ہے، سوشل میڈیا پر بعض نامعلوم افراد کے مبینہ اعترافی بیانات میں PTI کا نام لیکر خالد خورشید کو ملوث کرنے کی کہانی مضحکہ خیز نظر آتی ہے،ان اعترافی بیانات دینے والے بھی اپنی واضح شناخت ولدیت اور گاوں کے نام نہیں لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں، اس لیے مقامی افراد کی شناخت چھپانا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ اس سارے پس منظر میں سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل آزاد Judicial Commission قائم کیا جائے جو سکیورٹی اداروں، انتظامیہ، عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات ریکارڈ کرے اور تمام CCTV فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے، جبکہ حقیقت سامنے آنے تک متاثرہ خاندانوں پر مقدمات قائم کرنا یا فوری طور پر کسی فریق کو ذمہ دار قرار دینا مزید نفرت اور بے اعتمادی پیدا کر سکتا ہے. ریاستی اداروں کا اصل مقصد عوام کا تحفظ اور امن قائم کرنا ہے، اس لیے تمام فیصلے انصاف، قانون اور انسانی وقار کے مطابق کیے جائیں۔ ریاست زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ انسانی معاشرہ ہے جہاں امن، انصاف اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق محفوظ ہوتا ہے۔ ریاست کے چار بنیادی ارکان میں سے سب سے پہلا بڑا اور سب سے اہم رکن عوام ہے اور اگر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کمزور ہو جائے تو معاشرتی استحکام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس سانحے کی حقیقت پوری دیانت داری کے ساتھ سامنے لائی جائے، کسی سطح پر غلطی یا کوتاہی ہوئی ہو تو ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، شہداء اور زخمیوں کو معقول معاوضہ دیا جائے، زخمیوں کا علاج سرکاری خرچے پر کیا جائے اور بے جا مقدمات سے احتراز کیا جائے تاکہ ریاست کی ساکھ، انصاف اور شہداء کے خاندانوں کے زخموں کا مداوا ممکن ہو. گلگت بلتستان کی متنازعہ اور حساس حیثیت میں اس طرح کے واقعات کسی بھی فریق یا ادارے کے مفاد میں نہیں ہیں۔ معاشرتی امن، عوام کی جان و مال کی حفاظت اور خطے کی سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی اقدامات سختی اور طاقت کے بجائے سنجیدگی، تدبر اور قانون کے اصولوں کے مطابق ہوں۔ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ وہ مظاہرین یا ہجوم کے خلاف کارروائی میں Minimum Use of Force کے اصول کو ہر حال میں اپنائیں، عوامی جذبات اور حساسیت کا احترام کریں اور کسی بھی صورت میں انسانی جان کو ترجیح دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گلگت بلتستان میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل ذمہ داران کا تعین ہو سکے اور عوام کے اندر اعتماد قائم رہے۔ صرف سختی یا فوجی طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ عقل، افہام و تفہیم اور قانونی تدابیر کے ذریعے ہی دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہر فیصلہ، ہر اقدام، اور ہر تحقیق انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ گلگت بلتستان میں مستقبل میں اس طرح کے المناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu Gilgit Baltistan Tragedy Loss of Human Lives




