ستستر 77سال گزر گئے، گلگت بلتستان کے لوگ بنیادی حقوق سے محروم رہے، یاسر دانیال صابری
ستتر برس گزر گئے، وقت کی گرد نے پہاڑوں کے چہروں پر جھریاں ڈال دیں، دریاؤں نے بے شمار کہانیاں سمیٹ لیں، مگر گلگت بلتستان کے حصے میں جو آیا وہ صرف انتظار ۔ ایسا انتظار جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، باپ سے بیٹے تک، ماں کی لوریوں سے بچوں کے سوالوں تک۔ یہ خطہ جس نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد میر آف نگر نے الحاق کی صورت اپنی وفاداری کا ثبوت دیا، آج بھی ہم اپنے ہی گھر میں اجنبی کی طرح کھڑا ہے۔
ہم گلگت بلتستان کے لوگ آئین کے نام سے واقف ہیں، مگر آئین میں اپنے نام کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ ووٹ دیتے ہیں مگر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی آواز نہیں۔ ٹیکس اندرونی قیمت کی شکل میں دیتے ہیں مگر قانون سازی میں شریک نہیں۔ قربانیاں فوج میں دیتے ہیں مگر اعتراف کا کلمہ آج تک ادھورا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک خطہ ریاست کے ہر مشکل وقت میں سینہ سپر رہے، مگر ریاست کے دسترخوان پر اس کے لیے کرسی تک نہ ہو؟ سوال تو بنتا ہے مگر ہم غدار کہلاتے ہیں اس زمانے میں حق پر بات کرنا ہی گناہ سمجھا جاتا ہے
یہاں ہمارے پہاڑ صرف برف نہیں اٹھائے ہوئے، ان پر محرومی کا بوجھ بھی ہے۔ سڑکیں بنیں تو وعدوں کے ساتھ، منصوبے آئے تو تصویروں کے ساتھ، مگر اختیارات ہمیشہ فائلوں میں بند رہے۔ کبھی کشمیر کے نام پر خاموشی مسلط کی گئی، کبھی قومی مفاد کے نام پر حقوق مؤخر کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ مفاد کب تک ایک ہی خطے سے قربانی مانگتا رہے گا؟سوال تو بنتا ہے مگر غدار کہلاتے رہے گے
گلگت بلتستان کا نوجوان آج تعلیم یافتہ ہے، باشعور ہے، سوال کرتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ اگر ہم پاکستانی ہیں تو ہمارے حقوق کیوں ادھورے ہیں؟ اگر ہم متنازعہ ہیں تو پھر یہاں قانون سازی کیوں ہوتی ہے؟ اگر ہماری حیثیت عبوری ہے تو یہ عبوری پن ستتر برس کیوں کھینچ گیا؟ ان سوالوں کے جواب خاموشی نہیں ہو سکتے۔
یہ ہمارا خطہ ہے یہ وہ زمین ہے جس میں ہم نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کی،ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت آزادی حاصل کی، جس نے بغیر کسی دباؤ کے پاکستان کا پرچم تھاما۔مسلمانوں کے ساتھ دیا ۔وفاداری نبھائیں کوئی شرائط نہیں رکھے مگر بدلے میں ہمیں وہ شناخت نہ مل سکی جس کا وعدہ ہر دور میں دہرایا گیا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، بیانیے بدلتے رہے، مگر گلگت بلتستان کی تقدیر کا صفحہ وہیں اٹکا رہا۔
حقوق مانگنا بغاوت نہیں ہوتا۔ شناخت کی بات کرنا غداری نہیں۔ آئینی تحفظ کا مطالبہ ریاست کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ مضبوط بناتا ہے۔ جو ریاست اپنے وفاداروں کو برابر کا شہری مان لے، وہی ریاست تاریخ میں سرخرو ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کسی سے خیرات نہیں مانگ رہا، وہ صرف اپنا حق مانگ رہا ہے۔
ستتر برس بعد بھی اگر یہ سوال باقی ہے کہ گلگت بلتستان کہاں کھڑا ہے، تو یہ سوال صرف گلگت بلتستان کا نہیں، پوری ریاست کا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ وعدوں کی گرد صاف کی جائے، فائلوں سے نکل کر فیصلے زمین پر اتارے جائیں، اور اس خطے کو وہ مقام دیا جائے جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔ کیونکہ مزید انتظار اب صرف ناانصافی نہیں، تاریخ کے سامنے ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے۔
ستستر
سال گزر گئے، گلگت بلتستان کے لوگ بنیادی حقوق سے محروم رہے۔ یہ محرومی صرف سیاسی یا قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی عزت اور انصاف کا سوال ہے۔ ہم نے صبر کیا، خاموشی سے اپنے مسائل سہے، مگر خاموش رہنا کبھی حل نہیں لا سکتا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اپنی آواز بلند کریں، اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں اور ہر فورم پر اپنی بات پہنچائیں۔
گذشتہ دہائیوں میں ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے صبر، ہمت، اور استقامت۔ مگر اب وقت ہے عملی جدوجہد کا، حکمت کے ساتھ منصوبہ بندی کا، اور سیاسی یکجہتی کا۔ ہر فرد کی پہچان اور حق کا احترام ہی حقیقی انصاف کی بنیاد ہے۔ گلگت بلتستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب انصاف اور مساوات کے اصول یہاں قائم ہوں۔
تعلیم، شعور اور قانونی جدوجہد کے بغیر کوئی حل مستقل نہیں ہو سکتا۔ نوجوان اپنی طاقت اور توانائی کو مثبت انداز میں استعمال کریں، اپنے علاقے کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کریں، اور ہر چھوٹے قدم کو بڑے مقصد کے لیے اہم سمجھیں۔ اجتماعی کوشش اور پختہ ارادہ ہی ہمیں وہ تبدیلی دلائے گا جو گزشتہ 77 سالوں میں خواب بنی رہی۔
انسانی نظر سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی ثقافت، اپنی پہچان اور اپنی یکجہتی کو مضبوط رکھیں۔ حقیقی آزادی اور انصاف تب آئے گا جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور ہر شخص کے حق کی حفاظت کریں۔ 77 سال کی محرومی کے بعد بھی امید باقی ہے، اور یہ امید ہمارے عزم، اتحاد اور شعور کی روشنی سے حقیقت بن سکتی ہے۔
وسلام
تحریر یاسر دانیال صابری
ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے اچھی خبر، نیپرا نے فی یونٹ بجلی سستی کر دی




