گلگت بلتستان کی اراضیات، مغل و ڈوگرا راج سے لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 تک تاریخی و قانونی جائزہ ، جی ایم ایڈوکیٹ
تیسری قسط ( خالصہ سرکار)
گزشتہ سے پیوستہ، میری کوشش ہے کہ قارئین کو خالصہ سرکار کے تاریخی، مذہبی، سیاسی و انتظامی تصورات اور اس کے گلگت بلتستان میں اثرات پر تفصیل سے آگاہ کروں۔ کمی بیشی کی پیشگی معذرت۔
خالصہ اور خالصہ سرکار اگرچہ لفظی طور پر ایک ہی جڑ سے نکلے تصورات ہیں، مگر فکری، مذہبی اور ریاستی سطح پر ان کے معنی، دائرۂ کار اور اثرات بالکل مختلف رہے ہیں۔ خالصہ بنیادی طور پر ایک اخلاقی، مذہبی اور اجتماعی تصور ہے، جبکہ خالصہ سرکار ایک سیاسی و انتظامی اصطلاح بن کر سامنے آتی ہے، جس کا تعلق اقتدار، زمین اور وسائل کے کنٹرول سے ہے۔ خالصہ کا تصور سکھ مت میں ایک روحانی اور اجتماعی شناخت کے طور پر ابھرا۔ گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد ایک ایسے مذہبی معاشرے کے لیے رکھی جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو اور اجتماعی بھلائی، برابری، قربانی اور اخلاقی طہارت کو مقدم رکھے۔ خالصہ میں فرد اپنی ذات، ملکیت اور مفاد کو اجتماعی مقصد کے تابع کرتا ہے۔ زمین یا وسائل پر قبضہ اصل مقصد نہیں بلکہ عدل، دفاع اور مذہبی آزادی بنیادی اصول ہیں۔ یوں خالصہ ایک اخلاقی یا مذہبی و سماجی نظم تھا، نہ کہ ریاستی انتظامی اصطلاح. خالصہ سرکار کے برعکس، یہ ایک ریاستی اصطلاح بن گئی، جس میں “خالصہ” کی روحانی معنویت کھو گئی اور “سرکار” کے ساتھ جڑ کر اقتدار، حاکمیت اور مالی کنٹرول کی علامت بن گیا۔ خالصہ سرکار سے مراد وہ زمین یا وسائل ہیں جو براہِ راست حکمران یا ریاست کی ملکیت میں ہوں اور جن سے حاصل ہونے والی آمدن شاہی خزانے میں جائے۔ یہاں فرد یا مقامی آبادی کا حق ثانوی اور ریاست کی بالادستی بنیادی اصول تھا۔ قدیم دنیا میں فلسفیوں کے ہاں زمین اور ریاست کا تصور اخلاقیات کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ افلاطون کی مثالی ریاست میں زمین اور دولت پر فرد کی مطلق ملکیت کو شک کی نظر سے دیکھا گیا اور حاکم طبقے کے لیے مشترکہ ملکیت کا تصور پیش کیا گیا تاکہ اقتدار ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنے۔ ارسطو نے نجی ملکیت کو تسلیم کیا مگر اس پر اخلاقی ذمہ داری عائد کی کہ زمین کا استعمال اجتماعی بھلائی کے خلاف نہ ہو۔ ان فلسفیوں کے ہاں ریاستی زمین کسی مذہبی یا خالصہ تصور سے نہیں بلکہ “پبلک پراپرٹی” یا مشترکہ مفاد کے تناظر میں دیکھی گئی۔ قدیم سلطنت فارس میں زمین شاہی ملکیت تصور کی جاتی تھی۔ اخمینی سلطنت (Achaemenid Empire) میں بڑی زمینیں بادشاہ کے وفاداروں، فوجی سرداروں یا منتظمین کو استعمال کے لیے دی جاتی تھیں، مگر اصل ملکیت بادشاہ کے پاس رہتی تھی۔ یہ تصور بعد میں جاگیرداری کی ابتدائی شکل بنا۔ یہاں خالصہ سرکار جیسی اصطلاح موجود نہ تھی، مگر عملی طور پر “شاہی زمین” وہی کردار ادا کرتی تھی جو بعد میں خالصہ سرکار نے کیا۔ اسلامی خلافت کے دور میں زمین کو “بیت المال” یا “اراضی سلطانیہ” کہا گیا۔ خلیفہ یا سلطان زمین کا مالک نہیں بلکہ امین سمجھا جاتا تھا۔ خراجی زمین، عشری زمین اور موقوفہ زمین کی تقسیم موجود تھی۔ اگرچہ بڑی زمینیں ریاست کے تصرف میں تھیں، مگر نظری طور پر انہیں عوامی امانت تصور کیا جاتا تھا، نہ کہ حکمران کی ذاتی ملکیت۔ یہ تصور خالصہ سرکار کے مقابلے میں زیادہ اخلاقی اور قانونی توازن رکھتا تھا۔ مغل دور میں یہ تصور منظم شکل میں سامنے آیا۔ مغلوں کے ہاں “خالصہ” وہ زمین تھی جس کی آمدن براہِ راست شاہی خزانے میں جاتی تھی، جبکہ جاگیر وہ زمین تھی جس کی آمدن کسی منصب دار یا امیر کو عارضی طور پر دی جاتی تھی۔ مغل خالصہ سرکار مکمل طور پر انتظامی اصطلاح تھی، مذہبی نہیں۔ اکبر کے دور میں جب راجپوت، مقامی سردار اور امراء جاگیروں کے ذریعے ریاست سے منسلک کیے گئے تو خالصہ زمینیں سلطنت کی مالی ریڑھ کی ہڈی بن گئیں۔ یہاں زمین عوام کے لیے نہیں بلکہ ریاستی مشینری چلانے کا ذریعہ تھی، مگر کسان کے کاشتکاری حقوق کسی حد تک تسلیم کیے جاتے تھے۔ سکھ سلطنت میں مغل خالصہ کا تصور نئی شکل میں سامنے آیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مغل انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھا مگر خالصہ سرکار کو سکھ ریاست کی ملکیت کے طور پر پیش کیا۔ اس مرحلے پر خالصہ کا مذہبی تصور اور خالصہ سرکار کا ریاستی تصور آپس میں خلط ملط ہو گیا، جس کے نتیجے میں ریاستی ملکیت کو مذہبی تقدس بھی مل گیا۔ یہ تصور آگے چل کر ڈوگرہ راج میں انتہائی سخت اور عوام دشمن صورت اختیار کر گیا، جہاں خالصہ سرکار کو عوامی زمینوں پر قبضے کا قانونی ہتھیار بنا دیا گیا۔ خالصہ ایک اخلاقی و اجتماعی تصور ہے جو فرد کو اجتماع کے تابع کرتا ہے، جبکہ خالصہ سرکار ایک ریاستی و مالی اصطلاح ہے جو اجتماع کو ریاست کے تابع بنا دیتی ہے۔ قدیم فلسفیوں کے ہاں زمین اخلاقی نظم کا حصہ تھی، فارس میں شاہی طاقت کی علامت، اسلامی نظام میں امانت، مغل دور میں انتظامی وسیلہ، اور سکھ و ڈوگرہ ادوار میں اقتدار کے جواز کا ذریعہ۔ گلگت بلتستان میں مسئلہ اس لیے سنگین ہوا کہ خالصہ سرکار کو اس کی تاریخی اور فکری حدود سے نکال کر مطلق سرکاری ملکیت بنا دیا گیا، جس سے عوامی حق، روایت اور صدیوں کی کاشتکاری ایک ہی جھٹکے میں غیر مرئی کر دی گئی۔ خالصہ سرکار کا تصور برصغیر کی سیاسی، مذہبی اور انتظامی تاریخ سے جڑا ہوا ہے، جسے سمجھے بغیر گلگت بلتستان اور سابق ریاست جموں و کشمیر میں اراضیات کے موجودہ تنازعات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ خالصہ دراصل سکھ مت کی ایک مذہبی و اجتماعی شناخت ہے جس کی بنیاد گرو گوبند سنگھ نے 30 مارچ 1699ء کو آنند پور صاحب میں رکھی۔ اسی دن خالصہ پنتھ کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد سکھ برادری کو ایک منظم، عسکری اور خودمختار اجتماعی وجود دینا تھا۔ بعد ازاں یہی خالصہ مذہبی شناخت سیاسی طاقت میں ڈھل گئی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1799ء میں مختلف سکھ مسلوں کو متحد کرکے خالصہ سرکار یا سکھ سلطنت کی بنیاد رکھی، جو 1849ء تک قائم رہی۔ خالصہ سرکار ایک ریاستی نظم تھا جس میں زمین ریاست کی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور حکمران کو اختیار حاصل تھا کہ وہ زمین محصولات، فوجی اخراجات اور انتظامی ضروریات کے لیے استعمال کرے۔ اس تصور میں فرد کی ملکیت ثانوی جبکہ ریاستی بالادستی بنیادی اصول تھی۔ یہی تصور آگے چل کر اراضی کے بندوبستی ریکارڈ میں “خالصہ” کے نام سے درج ہونے لگا۔ سکھ سلطنت کے عروج کے زمانے میں خالصہ سرکار کا دائرہ خیبر پاس سے تبت کے سرحدی علاقوں، کشمیر، لداخ اور بلتستان تک پھیل چکا تھا۔ سکھ دور میں کرنل زورآور سنگھ کی قیادت میں لداخ اور بلتستان فتح ہوئے جبکہ کرنل نتھو شاہ نے گلگت پر قبضہ کر کے وہاں سکھ اثر و رسوخ قائم کیا۔ یوں خالصہ سرکار کا انتظامی و مالیاتی تصور گلگت بلتستان تک پہنچ گیا۔ 1846ء کے معاہدہ امرتسر کے بعد سکھ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور انگریزوں نے کشمیر، لداخ، بلتستان اور گلگت کا انتظام جموں کے ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔ ڈوگرہ راج نے سکھ دور کے کئی انتظامی تصورات برقرار رکھے، جن میں خالصہ سرکار بھی شامل تھی، مگر اس کی تشریح کو مزید سخت اور عوام دشمن بنایا گیا۔ ڈوگرہ دور میں خالصہ سرکار سے مراد وہ تمام زمینیں تھیں جو کسی فرد کے نام باقاعدہ ملکیت میں درج نہ ہوں، خواہ وہ صدیوں سے مقامی آبادی کے زیرِ استعمال ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کاشتکار، زمیندار اور مقامی قبائل عملاً اپنی آبائی زمینوں پر محض قابض یا مزارع قرار پائے، جبکہ ریاست خود کو اصل مالک ظاہر کرتی رہی۔ گلگت بلتستان میں چونکہ باقاعدہ اور جامع بندوبستِ اراضی دیر سے آیا، اس لیے ڈوگرہ دور میں اراضی کے حقوق زیادہ تر عرف، روایت اور طاقت کے توازن پر قائم رہے۔ جب بیسویں صدی کے آغاز میں بندوبست کیا گیا تو بڑی مقدار میں زمینیں خالصہ سرکار کے کھاتے میں ڈال دی گئیں، جس نے عوامی ملکیت کو سرکاری ملکیت میں بدلنے کی بنیاد رکھی۔ 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خاتمے اور یکم نومبر کو مقامی بغاوت کے ذریعے آزادی کے باوجود یہ بندوبستی ریکارڈ جوں کا توں برقرار رہا اور بعد ازاں پاکستان کے زیرانتظام نظام میں بھی اسی کو بنیاد بنا لیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، تعلیمی ادارے اور فوجی تنصیبات بننے لگیں تو خالصہ سرکار کے نام پر درج زمینیں بغیر معاوضہ عوام سے لے لی گئیں۔ گلگت بلتستان میں دہائیوں سے آباد لوگ اپنی زمینوں سے بے دخل ہونے لگے۔ سرکاری موقف یہی رہا کہ چونکہ زمین خالصہ سرکار ہے، اس لیے معاوضہ دینا لازم نہیں۔ اس کے برعکس ریاستی اداروں کے نام سینکڑوں کنال زمینیں منتقل کی گئیں، حالانکہ عام شہری کے لیے انتقالِ ملکیت کا عمل 1992ء کے بعد عملاً معطل رہا۔ اس تمام تاریخی پس منظر میں یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ خالصہ سرکار کا موجودہ استعمال ایک انتظامی اصطلاح کم اور سیاسی و قانونی ہتھیار زیادہ بن چکا ہے۔ تاریخی طور پر خالصہ سرکار سکھ سلطنت کی ریاستی ملکیت کی علامت تھی، ڈوگرہ راج میں یہ عوامی حقوق غصب کرنے کا ذریعہ بنی اور بعد ازاں گلگت بلتستان میں آئینی ابہام کے باعث مزید مضبوط ہوئی۔ چونکہ گلگت بلتستان آج بھی مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایک متنازع خطہ ہے، اس لیے بین الاقوامی قانون اور تاریخی حقائق کی روشنی میں زمینیں اصولاً عوامی ملکیت شمار ہوتی ہیں، نہ کہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی مطلق ملکیت۔ خالصہ سرکار کی غلط تشریح نے نہ صرف عوام کو معاشی نقصان پہنچایا بلکہ احساس محرومی، احتجاج اور ریاست پر عدم اعتماد کو بھی جنم دیا۔ مقامی آبادی یہ سمجھتی ہے کہ ان کی حب الوطنی کا فائدہ اٹھا کر ان کے وسائل اور زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک خالصہ سرکار کے تصور کو اس کے اصل تاریخی پس منظر میں رکھ کر ازسرِنو قانونی تشریح نہیں دی جاتی اور عوام کے صدیوں پر محیط حقِ استعمال اور حقِ ملکیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک گلگت بلتستان میں زمین کا مسئلہ ایک مستقل تنازعہ بنا رہے گا۔ گلگت بلتستان کے موجودہ قانونی فریم ورک میں “خالصہ سرکار” کی اصطلاح براہِ لفظ کسی مخصوص دفعہ یا شق میں استعمال نہیں ہوئی، تاہم اس تصور کی قانونی بنیاد اور عملی اطلاق مختلف قوانین اور قواعد کے ذریعے بالواسطہ موجود رہا ہے۔ Northern Areas Nautore Rules 1978 کے تحت غیر آباد، چراگاہی، پہاڑی اور غیر رجسٹرڈ زمینوں کو ریاستی ملکیت تصور کیا گیا، اور عوامی عرف میں اسے خالصہ سرکار کہا جاتا رہا۔ ان قواعد کی بنیاد پر زمینیں سرکاری ریکارڈ میں خالصہ یا ریاستی اراضی کے طور پر درج کی گئیں، حالانکہ وہ صدیوں سے مقامی آبادی کے زیرِ استعمال تھیں۔ بعد ازاں Gilgit-Baltistan Land Reforms Act 2025 میں نوتوڑ قواعد منسوخ کر دیے گئے، جو عملاً خالصہ سرکار کے پرانے بندوبستی و نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے مترادف ہیں۔ نئے قانون میں زمین کو Government Land، Common Land اور Community Ownership کے زمروں میں تقسیم کر کے ریاستی ملکیت کے مطلق تصور کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور پہلی مرتبہ اس نظام کو قانونی طور پر چیلنج اور تبدیل کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں صدیوں سے آباد عوامی اراضی کے معاملے میں خالصہ سرکار کے نام پر سرکاری قبضے، الاٹمنٹس اور انتقالات کے ردعمل ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ بن گئے ہیں۔ ڈوگرہ اور نوآبادیاتی دور سے لے کر 1978 کے نوتوڑ رولز تک، وہ زمینیں جو مقامی لوگوں نے نسلوں سے بطور کھیت، چراگاہ، مشترکہ زمین یا پہاڑ استعمال کی تھیں، انہیں ریکارڈ میں “خالصہ سرکار / Khalisa Sarkar” یعنی ریاستی ملکیت کے طور پر درج کیا گیا، جس کے نتیجے میں حکومت نے انہیں مختلف اوقات میں سرکاری اداروں، ترقیاتی منصوبوں یا افسران کے لیے الاٹ کیا اور عوام کو معاوضہ نہیں دیا۔ مقامی کاشتکار یا برادری ان کے صاف حقِ استعمال یا ملکیت کے دعوے کو تسلیم شدہ ریکارڈ میں درج کرنے سے محروم رہے. بہت سی صورتوں میں عوام نے اس قبضے اور ریکارڈ کی تبدیلی کے خلاف احتجاج بھی کیا، جیسے گلگت اور سکردو سمیت متعدد مقامات پر خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں کے غیر قانونی قبضے یا غیر مقامی افراد کو الاٹ کرنے کے خلاف مظاہرے ہوئے، جن میں کئی بار پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور مقدمات درج ہوئے۔ آج تک کئی علاقائی تنازعے عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جہاں مقامی دعویدار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ زمینیں صدیوں سے ان کی آبائی ملکیت ہیں، مگر قانونی پیچیدگیوں، ناقص ریکارڈ اور نوتوڑ رولز کے دیرینہ اطلاق کی وجہ سے بہت سے مقدمات تاحال فیصلہ طلب ہیں۔ کئی مقامی باشندوں کے انتقالات کو خالصہ سرکار کے نام پر منسوخ یا ریکارڈ سے خارج بھی کیا گیا، جس نے مقامی برادریوں میں شدید بے چینی، احساس محرومی اور زمینوں کے حقوق کے لیے سیاسی و قانونی جدوجہد کو جنم دیا ہے۔ اس پس منظر میں نئے گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 کو تاریخی طور پر اس نظام کی اصلاح اور عوامی اراضی پر قبضوں، غیر معاوضہ الاٹمنٹس اور خالصہ سرکار کے نام پر ریکارڈ کے غلط استعمال کے خلاف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، تاکہ مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں کے معاوضہ دار اور تسلیم شدہ مالکانہ حقوق دیے جا سکیں۔ جاری ہے…. (چوتھی قسط سٹیٹ سبجیکٹ رول. SSR. باشندہ ریاست کا قانون)
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu, Gilgit-Baltistan Land Rights
آتش زدگی، حکومتی پالیسیاں اور ہماری اجتماعی ناکامی، سلیم خان
کھرمنگ: سرحدی علاقہ دنسر تھنگ میں شدید برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج، پینے کے پانی کا سنگین بحران
امریکہ، ایران، اس رائیل کشیدگی, ممکنہ جنگ یا محدود تصادم ، جی ، ایم ایڈوکیٹ




