column in urdu Generation and the Digital Revolution 0

نوجوان نسل اور ڈیجیٹل انقلاب. آمینہ یونس ،بلتستانی
بیسویں صدی کے آخری حصے میں شروع ہونے والا ڈیجیٹل انقلاب آج اکیسویں صدی میں اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے۔ اس سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، حتیٰ کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچہ بھی اس کے اثرات میں شامل ہے۔ یہاں بات ہو رہی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے کیا انقلاب برپا کیا ہے اور اس کے نوجوان نسل پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیا فوائد دیے اور کن نقصانات سے دوچار کیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو ہر فن مولا بنا دیا ہے۔ لوگ اس سے بے شمار فائدے اٹھا رہے ہیں۔ خواتین گھر بیٹھے مزیدار کھانے بنانا سیکھ رہی ہیں، سلائی کڑھائی کے نت نئے ڈیزائن سیکھ کر فائدہ اٹھا رہی ہیں اور مختلف کاموں کے ذریعے اپنی آمدن بھی بڑھا رہی ہیں۔ آن لائن اردو، انگریزی کے ساتھ قرآن کی تعلیم دے کر بھی اپنے ذرائع آمدن میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہی کام مرد حضرات بھی کر رہے ہیں، جبکہ طلبہ گھر بیٹھے آن لائن اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے لیکچرز سنتے ہیں اور اپنا ہوم ورک مکمل کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ مختلف کمپنیوں کے ساتھ آن لائن کام کر کے معقول آمدن حاصل کر رہے ہیں۔ گویا جتنا زیادہ ذہن استعمال کیا جائے، اتنا ہی زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا ہے۔ پہلے زمانے میں پردیس میں رہنے والوں کی خیریت مہینوں بعد معلوم ہوتی تھی، مگر اب روزانہ فون کے ذریعے رابطہ ممکن ہے۔ اگر کوئی چیز منگوانی ہو تو دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف اس کے نقصانات بھی کم نہیں ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل اس ڈیجیٹل دنیا میں کھو کر اپنی اصل راہ سے بھٹکتی جا رہی ہے۔ وہ اپنا قیمتی وقت لائکس اور ویوز بڑھانے میں ضائع کر کے خود کو بے مقصد مصروفیات میں الجھا رہی ہے۔ بعض اوقات یہی جنون قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ آن لائن دھوکے کے ذریعے لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مائیں ننھے بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر انہیں اس کا عادی بنا دیتی ہیں، جس سے تربیت متاثر ہوتی ہے اور وہ ماں کی توجہ کے بجائے موبائل سے جڑ جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں ایک ایسا جوڑا بھی دیکھنے میں آیا جس نے سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کر دی۔ ایک بوڑھے شخص کی شادی ایک کم عمر لڑکی سے ہوئی، جس نے ابتدا میں عمروں کے فرق کی وجہ سے لوگوں کو چونکا دیا۔ مگر بعد ازاں لائکس اور ویوز کے نشے میں اس جوڑے نے ایسے ایسے کرتب دکھائے کہ شرم و حیا کی حدیں پامال ہو گئیں۔ انہوں نے مرد اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ انہیں سراہتے رہے اور مزید حوصلہ دیتے رہے۔ یہ رویہ نہایت افسوسناک اور معاشرتی گراوٹ کی علامت ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہزاروں لوگ اندھی تقلید میں اسی راہ پر چل نکلتے ہیں، اور انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب اس دور کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، مگر اس کا استعمال اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وقتی جوش و جنون میں اپنی ذات، اپنا وقار اور اپنی تہذیبی و شناخت کو داؤ پر نہ لگائیں بلکہ اسے مثبت، بامقصد اور تعمیری انداز میں استعمال کریں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Generation and the Digital Revolution

قدیم ایرانی زبانیں۔تہذیب کی گمشدہ صدائیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

نوجوان نسل اور ڈیجیٹل انقلاب. آمینہ یونس ،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں