column in urdu GB Waste on Mobile Packages Monthly 0

گلگت بلتستان کے عوام ہر ماہ کتنے پیسے پیکچز میں ضائع کرتے ہیں ؟؟ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
ایک محتاط اندازے کے مطابق، گلگت بلتستان کے عوام خاص کر نوجوان نسل ہر ماہ تقریباً نوے کڑور سے ایک ارب تک محض پیکجزز میں اپنا پیسہ ضائع کرتے ہیں ۔
ارے وہ کیسے ؟؟
گلگت بلتستان میں تقریباً ستر سے نوے فیصد آبادی مختلف گاؤں میں رہتے ہیں ( جہاں وائی فائی کا کنسپٹ ہی نہیں ہے ) ، جہاں بیک وقت انٹرنٹ اور بجلی کا براہ راست مسئلہ ہمیشہ سے رہتا ہے ۔ اور تقریباً بارہ مہینہ ساڑھے تیئس 23 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ رہتی ہے، اور موبائل انٹرنیٹ 4G تو دور ، 2G کی حساب سے بھی نہیں چلتی ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہمیں اکیسویں صدی میں بھی سو سال پیچھے کیوں رکھا گیا ہے ؟ کون ہے وہ لوگ جو گلگت بلتستان کے عوام پر ہر وقت ظلم کرتے ہیں۔
اگر ہم پیسے دے رہیں ہیں تو ہمیں سروس کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا ؟؟ حکومت پاکستان نے تمام کالجز اور یونیورسٹیز کے کلاسز تو آن لائن کرنے کا اعلان تو کیا ہے ، لیکن ہمارے حکومت وقت اس قدر بے وقوف کیوں ہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کی حالات سے بے خبر ہے ؟؟
میں ہر ماہ تقریباً ہزار سے پندرہ سو کا انٹرنیٹ پیکچرز کرتا ہوں لیکن یقین جانیں ، میرا اس میں سے صرف بیس فیصد ہی استعمال ہوتا ہے ، اور باقی تقریباً اسی فیصد ضائع ہو جاتی ہے ۔ موبائل کو فلائڈ موڈ میں ڈال ڈال کر تھک جاتے ہیں ، اب شاید وہ بھی کہ رہی ہوگی کہ ” بس کر بھائی ، اپنا نظام بدلے ، مجھے کیوں تنگ کر رہے ہو ” ۔ یہ محض میں نہیں، بلکہ ہر نوجوان نسل کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ دوسری جانب ایک محتاط اندازے کے مطابق ، بلتستان سے بہنے والی دریا ( دریا سندھ ) تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی طاقت رکھتی ہے، جبکہ پورے بلتستان کی ضرورت ، زرائع کے مطابق صرف پانچ سو سے چھے سو میگاواٹ ہے ۔
دوسری طرف بے روزگاری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بلتستان میں لوگ ماسٹرز اور ایم فل کی ڈگریاں لیے پھر رہے ہیں۔ ان میں سے متعدد افراد پراویٹ سکولوں میں زہر بھی نا خریدنے والے تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔
اب اس تناظر میں کچھ دوست آن لائن کام کر کے کما رہے تھے تو ان افراد کے لیے بھی نا ہی بجلی ہے اور ناہی انٹرنیٹ۔
میرا ایک دوست آن لائن ٹریڈنگ کرتا تھا ، اور حال ہی میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کی وجہ سے ان کا لاکھوں کا نقصان ہو گیا ہے۔ اب اس کا زمہ دار کس کو ٹھہراؤں۔ ؟؟؟ ہمارے خود بہت سارے آن لائن کلاسز میں بہت بڑی کلیش آگئی ، اور سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ کھیل کب تک جاری رہے گی ۔
ہمارے حکمران الیکشن کے دوران بڑے برے دعوے تو کرتے ہیں لیکن ہمیں آج تک بنیادی ضرورتوں سے محروم رکھا گیا ۔ پورے گلگت بلتستان میں ایک عدد انڈسٹری نہیں ہے کہ جہاں ایک ہزار بندوں کو روزگار مل سکے ۔ ایک ٹورزم انڈسٹری فعال ہونے لگے تھے تو وہ کبھی سیلاب کی زد میں تباہ ہو جاتی ہے تو کبھی حالات کی زد میں تباہ ہو جاتی ہے ۔ مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ پہلا ایک شخص کما کر پانچ لوگ کھاتے تھے اب پانچ لوگ بھی کمائے تو بھی گھر مشکل سے چلتا ہے ۔ سردیوں میں سردی کی وجہ سے کام بند ، گرمیوں میں سیلاب ، مذہبی کلیش اور دیگر احتجاجی ریلیوں کی وجہ سے کام بند ۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

آخر کب تک ؟؟
پاکستان کے دیگر علاقوں میں لوگ 5G انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہم گلگت بلتستان والے پیکیجزز تو ہزاروں روپے کا نقصان کر کے بناتے ہیں لیکن 2G کے سروسز سے بھی محروم ہے ۔
جاپان نے اس قدر ترقی کی ہے کہ عوام کے لیے 10G انٹرنیٹ فراہم کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں 4G انٹرنٹ کے لیے بندے کو چھت پر جانا پڑتا ہے ۔ کچھ دن پہلے میں نے زونگ کمپنی میں اپنی انٹرنٹ سروس کے حوالے سے شکایت درج کروائی ، ای میل بھی کیا اور دو دن کے بعد مجھے بتایا جاتا ہے کہ ” آپ اپنی موبائل تبدل کریں ، جس کی وجہ سے نیٹ ورک میں ایشو ہے ”
ارے واہ !!
بس بات ہی ختم ۔
ہم حکومت وقت سے گزارش کرتے ہیں کہ کم از کم ہماری بنیادی ضرورتوں کو تو پورا کریں ۔ ہم محنت کی پیسے دے کر سروسز خریدتے ہیں تو کم از کم ہمیں سروسز تو دیں۔ ہزاروں طلبہ و طالبات کی کیریئر اور پڑھائی متاثر ہو رہے ہیں ۔ اور آخر میں گلگت بلتستان کے حکمرانوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں ، بجلی اور انٹرنیٹ اور دیگر چیزوں کو پوری نہیں کر سکتے تو آپ کو ایک کپ پانی میں ڈوب کر مر جانا چاہیے ۔۔۔۔
ووٹ مانگتے ہوئے جتنا آپ بے شرم ہوتے ہیں ، تھوڑا عوام کی بنیادی حقوق کے لیے بھی بے شرم ہو جائے تو کم از کم نوجوان نسل آپ سے بدظن نہ ہو

column in urdu GB Waste on Mobile Packages Monthly

آبنائے ہرمز بندش: روس کو تیل سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن ہونے لگی

نیا عالمی نظام New World Order موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات. جی ایم ایڈوکیٹ

100% LikesVS
0% Dislikes

گلگت بلتستان کے عوام ہر ماہ کتنے پیسے پیکچز میں ضائع کرتے ہیں ؟؟ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں