فسق اور تقویٰ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح کا جامع نظام پیش کرتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع اور اخلاقِ حسنہ کی ترویج پر قائم ہے۔ قرآن مجید جہاں ایمان، تقویٰ اور صالح اعمال کی ترغیب دیتا ہے وہیں نافرمانی، سرکشی اور اخلاقی انحطاط سے بھی سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ انہی منفی رویّوں میں ایک بنیادی اور اہم اصطلاح فسق ہے، جو درحقیقت اطاعتِ الٰہی کے دائرے سے نکل جانے کا نام ہے۔
عربی زبان میں لفظ “فسق” مادہ ف۔س۔ق سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں حد سے نکل جانا یا مقررہ دائرے کو توڑ دینا۔ اہلِ لغت کے نزدیک عرب اس کھجور کو بھی فاسق کہتے تھے جو اپنے چھلکے سے باہر نکل آئے۔ اسی مناسبت سے شریعت میں فاسق اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت سے نکل کر گناہ اور نافرمانی کی راہ اختیار کر لے۔ اصطلاحِ شریعت میں فسق سے مراد ایسا طرزِ عمل ہے جس میں انسان شعوری طور پر گناہوں کو اختیار کرے اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کو معمول بنا لے۔ اس لیے فسق محض ایک وقتی لغزش نہیں بلکہ ایک اخلاقی و روحانی بیماری ہے جو انسان کے ایمان اور کردار کو کمزور کر دیتی ہے۔
قرآن کریم میں فاسقین کا ذکر متعدد مقامات پر نہایت بلیغ انداز میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَاسِقِينَ” (البقرہ: 205)۔
یعنی بے شک اللہ فاسق لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فسق ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ کی محبت سے محروم کر دیتا ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا” (الحجرات: 6)۔
اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق شخص خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فسق صرف فرد کی ذاتی خرابی نہیں بلکہ سماجی اعتبار سے بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ فاسق شخص کی خبر بھی تحقیق کے بغیر قبول نہیں کی جاتی۔
اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا:
“وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللّٰهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ” (الحشر: 19)۔
یہ آیت فسق کی اصل جڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے، یعنی اللہ کو بھلا دینا۔ جب انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ اپنے نفس کی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے اور یہی حالت فسق کو جنم دیتی ہے۔
احادیثِ نبویہ میں بھی فسق کے بارے میں نہایت واضح اور سخت تنبیہات موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان کو گالی دینا *فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر کے قریب ہے” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔*
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فسق صرف بڑے جرائم تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی بگاڑ بھی اس میں شامل ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کر لے تو دل صاف ہو جاتا ہے، اور اگر گناہ جاری رکھے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے” (ترمذی)۔
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مسلسل گناہ انسان کے دل کو سخت اور روح کو تاریک کر دیتے ہیں، حتیٰ کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
علمائے اسلام نے قرآن و سنت کی روشنی میں فسق کی مختلف اقسام بیان کی ہیں تاکہ اس کی حقیقت کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
پہلی قسم فسقِ صغیر ہے۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ایمان کو مکمل طور پر زائل نہیں کرتے لیکن انسان کی روحانیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ مثلاً جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بدگمانی، وعدہ خلافی اور دل آزاری جیسے اعمال۔ اگرچہ یہ گناہ بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں مگر مسلسل کیے جائیں تو انسان کے اخلاقی کردار کو تباہ کر دیتے ہیں۔
دوسری قسم فسقِ کبیر ہے۔ یہ بڑے گناہ ہیں جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ قتلِ ناحق، زنا، سود خوری، چوری، جھوٹی گواہی اور ظلم جیسے اعمال اس میں شامل ہیں۔ ایسے گناہ معاشرتی نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں اور انسان کے ایمان کو شدید خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
تیسری قسم فسقِ اعتقادی ہے جو فسق کی سب سے خطرناک شکل سمجھی جاتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی شرعی حکم کو جانتے بوجھتے رد کر دے یا اس کی حقانیت کا انکار کرے۔ اس صورت میں مسئلہ صرف عمل کی کمزوری کا نہیں بلکہ عقیدے کی خرابی کا ہوتا ہے، جو ایمان کی بنیادوں کو متزلزل کر سکتی ہے۔
فسق کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ جب گناہ عام ہو جائیں اور برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیا جائے تو معاشرہ اخلاقی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ انصاف کمزور پڑ جاتا ہے، بدعنوانی بڑھ جاتی ہے اور اعتماد کی فضا ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اصول دیتا ہے تاکہ معاشرہ اجتماعی طور پر برائیوں کا سدباب کر سکے۔
اسلام نے انسان کو فسق سے بچانے کے لیے کئی عملی راستے بھی بتائے ہیں۔ تقویٰ اختیار کرنا، توبہ و استغفار کرنا، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، علمِ دین حاصل کرنا اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا ایسے بنیادی اصول ہیں جو انسان کو گناہوں سے دور رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ابنِ آدم خطا کار ہے مگر بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ اصلاح اور رجوع الی اللہ کی دعوت دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فسق محض چند گناہوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اللہ سے دور کر دیتا ہے۔ جب دل سے خوفِ خدا رخصت ہو جائے تو گناہ آسان اور نیکی مشکل محسوس ہونے لگتی ہے اور یہی انسان کے روحانی زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی مال و دولت یا ظاہری طاقت میں نہیں بلکہ اطاعتِ الٰہی اور پاکیزہ کردار میں ہے۔
لہٰذا ایک باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے معیار پر ڈھالنے کی کوشش کرے۔ جب فرد اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو معاشرہ بھی سنورنے لگتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو فسق کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت، تقویٰ اور اللہ کی رضا کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔
column in urdu Fusuq and Taqwa
تعمیرِ وطن میں خواتین کا کردار ۔ آمینہ یونس بلتستانی
عالمِ بالا سے مرزا نوشہ اسد اللہ خاں غالب دہلوی کا مکتوبِ شوخی و تنبیہ بنام یاسمین اختر طوبیٰ




