چار نسلوں سے دینی خدمات میں سرگر م موسوی خاندان. حاجی شبیر احمد شِگری
آغاسید علی الموسوی مرحوم کی برسی پر خصوصی تحریر
آغاسید علی موسوی کی بھرپور علمی زندگی
حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی مرحوم کے والدیں کتنے خوش نصیب ہوں گے کہ ان کی اولادوں میں سے آج چوتھی نسل نے بھی علم کی شمع روشن کر رکھی ہے۔ چار نسلوں سے دین کی خدمات انجام دینے والا یہ خانوادہ کوئی عام علمی خانوادہ نہیں ہے بلکہ نسل در نسل مختلف علمی میدانوں میں جھنڈے گاڑتا آیا ہے۔آج سیدعلی الموسوی کی برسی ہے۔ان کےوالدحجۃالاسلام و المسلمین آغا سید حسن موسوی بھی اپنے دور کے انتہائی بزرگ اور قابل احترام باعمل عالم دین تھے۔ جنھوں نے حوزہ علمیہ نجف اشرف میں آپ نے اس دور کے بزرگ مجتہدین آیت اللہ ابولحسن اصفہانی، آیت اللہ سید حسین بروجردی، آیت اللہ محسن الحکیم اور دیگر اساتید سے کسب فیض کیا۔زمانہ طالب علمی میں آپ ایک ذہین لائق اور مثالی شاگرد کے طور پر اپنے ہم جھولیوں اور استاد سے داد تحسین حاصل کرتے رہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایسے ذہین لائق اور ممتاز دوستوں سے آپ کا واسطہ رہا جنہوں نے تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ انہی دوستوں میں سے ایک شہید نواب صفوی ہیں، جنہوں نے شہنشاہ ایران کے خلاف نہ فقط علمی اور عملی جدوجہد شروع کی ۔ان عظیم شخصیت کے بیٹے آغا سید علی موسوی نے بھی اپنی زندگی دین کی راہ میں جدوجہد کے طور پر گزار دی اور بہت سے کارنامے انجام دئیے۔ مجھے فخر ہے کہ آغا علی موسوی سے میرا ذاتی واسطہ تھا۔ میری خدمات کی وجہ سے آغا صاحب مرحوم مجھے بہت پیار کرتے تھے ۔ قریبی تعلق کی وجہ سے ان سے کافی آگہی تھی۔ اپنے طور پر میں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بلاشبہ مرحوم آغا سید علی موسوی کی کامیاب زندگی کے لئے ان کی انتھک محنت موجود ہے لیکن در پردہ ان کے والدین کی بڑی خدمات ہیں۔ جنھوں نے بہت سی قربانیاں دے کر ایک بہترین ماحول فراہم کیا جس نے مرحوم آغا سید علی موسوی کو بلند مقام تک پہنچایا۔ مرحوم کی والدہ ماجدہ فرماتی تھیں کہ انھوں نے مرحوم آغا سید علی موسوی کو ہمیشہ باوضو دودھ پلایا۔ اس سے آپ والدین کی تربیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آغا سید علی موسوی کے والد آغا سید حسن موسوی کا کردار اپنی جگہ لیکن آغا علی موسوی کو ایک عالم باعمل بنانے میں ان کی والدہ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ جس کا ذکرخود آغا علی موسوی مرحوم نے مجھےانٹرویو دیتے ہوئے کیا۔
ان کی کہانی ہمیں 1926ء کےزمانے میں لےجاتی ہےجب ایک سیدہ نے اپنے چھ مہینے کے بچے کو گود میں لے کر ایمان اور توکل سے بھرپورعزم و ارادے کے ساتھ اپنے آپ کو ایک لمبے اور بامقصد سفر کے لئے آمادہ کرکے رخت سفر باندھ لیا۔ اس مختصرسے قافلے نے لمبے سفر کی تمام سختیوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرتے ہوئے کبھی پیدل اور کبھی کرایہ کے گھوڑوں پر راستہ طے کرتے ہوئے بلتستان سے کرگل اور کرگل سے کشمیر اور وہاں سے ہوتے ہوئے دل میں ایک لگن، ایک خواہش اورعظیم ہدف کو سامنے رکھ کر نجف اشرف یعنی باب مدینۃ العلم کے دروازے پر دستک دی۔ وہ سیدہ چاہتی تھیں کہ ان کا نومولود بچہ بہترین علم و آگہی اور علوم آل محمدؑ سے آشنا ہو اور اسلام کے لئے ایک سر بکف مبلغ کے طور پرتیارہو۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے اس ہستی کا دروازہ کھٹکھٹایا جن کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “انا مدینۃ العلم و علی بابھا” میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ یوں اس عظیم ماں کو اپنے عظیم مقصد میں کامیابی نصیب ہوئی اور انھوں نے ایک عظیم مقام پر اپنے بیٹے کی تربیت کی جو بعد میں آغا علی موسوی کے نام سے مشہور ہوئے۔
آغا علی موسوی مرحوم اپنے انٹرویو میں پوری تفصیل بتاتے ہیں کہ کس طرح نجف اشرف اور پھر ایران کے علمی اور دینی لمحات گذرے۔بعد ازان اپنے آبائی وطن جانے کے لئے کس طرح مسجد کشمیریاں موچی دروازہ لاہور پہنچے۔ اوراس وقت کے موچی دروازہ کے دور اندیش مومنین جو ان ہیروں کی قدروقیمت جان چکے تھے کسی قیمت پر ان ہیروں کو اپنے ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ یہ ایک الگ دلچسپ داستان ہے کہ کس طرح انھوں نے اس خانوادےکو موچی دروازہ میں ہی روک لیا۔ تحریر کی طوالت کی وجہ سے اس کا ذکرممکن نہیں ہے۔ بہر حال مسجد کشمیریاں اور اس علاقے کے مومنین کی دینی خدمات ان کا مقدر بنی اور آج آغا سید حسن موسوی کی تیسری نسل آغا جواد موسوی اپنے والدآغا سید حیدرموسوی مرحوم کے بعد یہ ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائےہوئے ہیں۔ اگرچہ آغا علی الموسوی کے دیگر بیٹے بھی اپنی جگہ علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور موسوی خاندان کے ساتھ ساتھ موچی دروازے کے مومنین بھی نسل در نسل اس خاندان سے وفا نباہ رہے ہیں۔
جب امام خمینی ؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کا آغاز ہوا تو ہر قسم کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے پاکستان میں مرد جری آغا سید علی موسوی نے امام خمینیؒ کی شخصیت اور آپ کے انقلابی ییغام یعنی خاتم المرسلین کے خالص اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں بنیادی کردارادا کیا اور آخری وقت تک آپ امام خمینیؒ کے سچے عاشق کے طور پر پاکستانی عوام بالخصوص جوانوں کے درمیان امام کے افکار کو عام کرنے کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔ مرحوم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ آئی ایس او پاکستان جو کہ ایک الٰہی کاروان ہے، کے بانیوں میں سے تھے اور آخری دم تک آئی ایس او پاکستان کی سرپرستی فرماتے رہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں گو ناگوں اسلامی موضوعات پر درس و دروس کا آغاز آپ ہی نے کیا تھا اور آج ہر مسجد و مدرسہ اور امام بارگاہ میں دروس کا اہتمام ہوتا ہے جہاں نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتیں و حضرات کی فکری اور نظریاتی تربیت ہوتی ہے۔ آغا مرحوم پاکستان میں جہاں بھی سفر کرتے وہاں مجالس و محافل کے علاوہ خصوصی طور پر جوانوں کے لیے درس دیا کرتے تھے یوں معاشرے میں محافل اور دروس کے انتظام کی ترویج کیا کرتے تھے۔ آپ جہاں بھی سفر کرتے وہاں کے جوان شمع کے پروانے کی طرح آپ کے گرد جمع ہوتے اور آپ انہیں اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے نہایت شیرین زبان میں اسلام اور اس کے آداب اور خصوصا انقلابی افکار سے روشناس کراتے اور ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ گھنٹوں آپ تقریر کرتے رہیں اور وہ علم و معرفت سے فیضیاب ہوتے رہیں۔
آپ نے روایتی مجالس و محافل کو بامقصد اور زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کے لیے نہایت اہم کردارادا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیک وقت کئی خوبیوں سے نوازا تھا۔ شیرین، سلیس، معلومات سے بھرپوراور زمینی حقائق کے مطابق گفتگو کرنے کی آپ کو مہارت حاصل تھی۔ دینی و ملّی حالات حاضرہ پر آپ کی گرفت اتنی مضبوط رہتی تھی کہ جب آپ مسائل کا تجزیہ و تحلیل کرکے اور ان پر صحیح اسلامی اصولوں کی تطبیق فرماتے تو وہ لوگوں کی دلوں میں اتر جاتے، کیونکہ دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ مرحوم فن خطابت کے عظیم شہسوار تھے آپ جہاں بھی زیب منبر ہوئے وہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کو سننے کے لیے جمع ہوتا، نہ فقط شیعہ بلکہ ہر مکتب فکر کے لوگ آپ کو شوق سے سنتے بلکہ آپ کو سننے کے لیے دور دور سے لوگ جمع ہوتے اور آپ اپنی مخصوص فصاحت و بلاغت کے ساتھ تعلیم اہلبیت علیہم السلام کو بیان کرتے تو لوگ نہ فقط آپ کے گرویدہ ہوجاتے بلکہ اسلام حقیقی کی شناخت کے ذریعے اپنے دلوں کو منور کرتے اور مکتب آل محمدؑ کے گرویدہ ہوتے تھے جس کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔
علامہ مفتی جعفر مرحوم کے دور سے ہی آپ تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل کےرکن رہے۔ شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینیؒ کے شانہ بشانہ ملت جعفریہ کی ترقی کے لیے سرگرم رہے۔ 6 جولائی 1987ء کوشہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ نے مینار پاکستان پر قرآن وسنت کانفرنس کا انعقاد کیا وہاں آپ کی تقریر نے پورے مجمع کو اٹھایا اور نعرے لگانے پر مجبور کیا۔ آج بھی لوگ آپ کی اس دن کی تقریر کو یاد کرتے ہیں۔ جہاں آپ نے ملت تشیع کو صالح قیادت کے پرچم تلے اکھٹے کرنے میں بنیادی کردارادا کیا بلکہ میں یوں کہوں گا کہ پاکستان میں شہید قائد عارف حسین الحسینی ( رہ ) کو متعارف کرانے اور ان کی قیادت کو پاکستانی عوام میں مقبول کرانے میں آغا علی موسوی مرحوم نے کلیدی کرداراداکیا۔ آپ شہید قائد کے دست راست تھے۔ شہید قائد جہاں بھی تشریف لے جاتے آپ ان کے ساتھ ہوتے اور اپنی انقلابی تقریروں کے ذریعے شیعہ قوم کو بیدار اور منظم کرنے اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرانے میں مرحوم نے بنیادی کردار ادا کیا۔
مرحوم نے علماء کو ہمیشہ متحد رکھنے اور انہیں اپنے زمانے سے ہم آہنگ اور صالح قیادت کے ساتھ مربوط رکھنے میں اہم کردار ادا کیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ آپ کے دور میں پورے پاکستان میں جہاں بھی کوئی بڑا اجتماع ہوتا وہاں آپ کے بغیر اس اجتماع کا اختتام ممکن نہیں ہوتا۔ خلاصہ کلام یہ کہ آپ ہر محفل کی جان ہوتے جہاں آپ موجود ہوں وہاں محفل کی ایک خاص رنگت ہوتی، حسن مزاح ہو یا تقریر کی شعلہ بیانی ہو آپ کا ہر انداز منفرد ہوتا۔ آپ آل محمدؑ کے مصائب بیان کرتے تو پوری مجلس پر رقت قلب طاری ہوجاتی تھی اور نالہ و شیوہ کی آواز بلند ہوتی تھی۔ ایک ہی آن میں مجمع کو ہنسانا اور رلانا یہ وہ ہنر تھا جس میں آپ بے مثال تھے۔
اگرچہ آپ کی شہرت ایک بلند پایہ خطیب کی حیثیت سے ہوئی مگر اس حقیقت سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ آپ ایک بہترین شاعر بھی تھے آپ کی حاضر جوابی کی داستان اگر لکھی جائے تو ایک کتاب بن جائے۔ معاملہ فہمی میں مرحوم بے نظیر تھے آپ کے معاملہ فہمی سے مربوط واقعات کو جمع کیا جائے تو وہ ایک بہترین سبق آموز کتاب بنے گی۔ مرحوم کی دینی، معاشرتی اور فلاحی خدمات آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ دین اسلام خصوصاً مکتب اہل بیتؑ سے آپ کا عشق ہمارے لیے بہترین نمونہ عمل ہے۔ آپ نے اپنی تمام اولاد کو دینی تعلیم سے نوازا اور آج ان کی تیسری نسل اسلام کی سربلندی اور ترویج مکتب اہل بیتؑ کے لیے شب و روز محنت میں کوشاں ہے۔ غرض مرحوم نے اپنی زندگی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے جس کی توفیق بہت کم افراد کو ہوتی ہے۔ بطور مثال حسینیہ مشن حسین آباد، ادارہ درس و عمل لاہور، آئی ایس او پاکستان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 1974 میں ہیئت علماء امامیہ کے نام سے بلتستان بھر کے جید علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جس کے آپ پہلے صدر بنے۔ بلتستان میں پہلی مرتبہ ایک ادبی مجلہ ‘‘ حبل المتین ’’ کا اجراء کیا۔ اس مجلے کی وساطت سے تبلیغ کے ساتھ ساتھ علماء، شعراء اور مذہبی و سماجی شخصیات کے تعارف اور معارف دین کی تبلیغ و ترویج کرتے رہے۔
اپنی مدد آپ کے تحت آپ نےحسین آباد سکردوکے گھر گھر تک سڑکوں کا جال بچھا دیا۔ پاکستان بھر میں مساجد، امام بارگاہیں اور مدارس کی تعمیر میں آپ عمر بھر کوشاں رہے۔ جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاؤن کی تعمیر میں آپ نے علامہ صفدر حسین نجفی کے ساتھ شانہ بشانہ کام کیا۔ مدرسہ حیدریہ کھرگرونگ سکردو، مدرسہ قرآن و عترت سیالکوٹ، درسگاہ علوم اسلامی فیصل آباد نیز درسگاہ علوم اسلامی موچی دروازہ لاہور بھی آپ ہی کی کا وشوں کا نتیجہ ہے۔ مختلف فلاحی ادارے بھی آپ کے زیر سرپرستی چلتے رہے ہیں جن میں تنظیم آل عمران لاہور کے ماتحت چلنے والے ادارے نمایاں ہیں۔ بلتستان میں عاشورا اور اسد عاشورا کےجلوس کو ترویج دینے میں آپ نے بھرپور کردار ادا کیا۔ بلتستان میں جشن مولود کعبہؑ، یوم الحسینؑ اور عید غدیر جیسی تقریبات کو جدید طرز پر جلسے کی صورت میں انعقاد کرنے کی بنیاد بھی آپ نے ہی ڈالی ہے۔ ان تمام امور میں سب سے اہم بات معاشرے کے بے شمار لائق اور ذہین افراد کی فکری اور نظریاتی تربیت ہے جن میں سے ہر ایک آج پورے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ مرحوم چار زبانوں عربی، فارسی، اردو اور بلتی زبان پر عبور رکھتے تھے اور ہر زبان میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ تقریر و تحریر کے جوہر دکھاتےتھے۔
ایران عراق جنگ کے دوران ایران کے مشہور شہر اصفہان کے نماز جمعہ کے اجتماع سے آپ کے تاریخی خطاب کو وہاں کے شہری اب بھی یاد کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ مرحوم آغا سید علی موسوی کی رحلت سے ہم ایک مثالی عالم دین، بلند پایہ خطیب، مشہور و معروف مبلغ اور ایک عظیم روحانی باپ سے محروم ہوگئے۔ مرحوم اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ کیوں نہ کرتے ان کی والدہ محترمہ نے آغا سید علی موسوی کوایک عظیم انسان بنانے کے لئےاپنا آبائی وطن عزیزوں رشتہ داروں سب کو ترک کر کے نجف کا رخ کیا تھا۔اس لئےعظیم دانشور کی وصیت کے مطابق آج وہ اپنی عظیم المرتبت ماں کے قدموں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آرام فرما رہے ہیں۔ وہی ماں جس کی مثالی تربیت نے سید علی کو آغا علی الموسوی بنایا تھا۔ الجنۃ تحت اقدام الامہات۔ کے مصداق ان کا جسد خاکی بھی ماں کے قدموں میں پے۔اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں آغا سید علی موسوی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق ہو جبکہ آپ کے خاندان کو کو اس مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عنایت فرمائے۔
مرحوم علامہ موسوی متعدد شیعہ تنظیموں کے بانی اور سر پرست تھے۔ خصوصاً امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے بانی علما اور سرپرستوں میں سرفہرست تھے۔ آئی ایس او کا نام بھی انہوں نے قرآنی استخارہ سے رکھا۔ وہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک آئی ایس او کی مجلس نظارت کے مستقل رکن رہے ۔
مجھے فخر ہے کہ مرحوم آغا سید علی موسوی ہمارے اسلامک میڈیا سنٹر “نور پروڈکشن” جیسے منفرد ادارے کی بھی سرپرستی فرماتے رہے۔ فقط نور پروڈکشن کو یہ فحر حاصل ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں ان سے تفصیلی انٹرویو کئے جس میں انھوں نے اپنے بچپن سے لے کر آخر وقت تک کے واقعات اپنی زبانی بیان لئے ہیں۔ اس انٹرویو کے لئے میرے ساتھ آغا آصف مرحوم بھی موجود تھے۔ اس طرح نورپروڈکشنز نےان کی زندگی پر انکی حیاتمیں ہی تین ڈی وی ڈیز ریلیز کیں جس میں انھوں نے اپنے دلچسپ حالات زندگی خود بیان کئے ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ جس طرح انھوں نے مذہب و ملت کے لئے اپنی عظیم خدمات پیش کیں رب کریم اسکے عوض انھیں اگلی دنیا میں بھی عظیم مقام و مرتبہ عنایت فرمائے۔ آمین۔ ان کی وفات کے بعد مسجد کشمیریاں کی امامت و خطابت کے فرائض ان کے بیٹے آغاحیدرعلی موسوی بہ احسن خوبی انجام دیتے رہے۔ اور ان کے بعد ان کے بیٹے سید جواد موسوی یہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں موسوی خاندان نے اہالیان موچی دروازہ لاہور کو مایوس نہیں کیا ہے۔مرحوم آغا سید علی موسوی نے ساری زندگی نہ صرف خود دین کی خدمت کی بلکہ اپنے بیٹوں اور اولاد میں بھی علما چھوڑے ہیں۔ جن میں آغا سیدمظاہرموسوی، مرحوم آغا سید حیدرموسوی، آغا سید رضی موسوی، آغا سید رضا موسوی،آغا سیدعباس موسوی اور آغا حیدر موسوی کے بیٹے آغا جواد موسوی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مذہب و ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کسی بھی رہنمائی کے لئےرابطہ کرسکتے ہیں
حاجی شبیراحمدشگری
shigricolumns@gmail.com
+923334491715 whatsapp:
افسانہ: تارِ عنکبوت، منظور نظرؔ (سکردو)
چمن سے لاہور تک: المیے کی بازگشت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
خیبر: فائرنگ سے پولیس اہلکار 7 سالہ بیٹے سمیت جاں بحق، بنوں سے 2 پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد
شگر سرفہ رنگا کے ایک ٹیلے سے نوجوان کی لاش برآمد, ریسکیو 1122 شگر نے لاش کو شگر ہسپتال منتقل کر دیا




