column in urdu, Fire and Humanity History in the Shadow of Flames 0

آگ اور انسانیت، شعلوں کے سائے میں تاریخ، یاسمین اختر گوجرہ، پاکستان
تاریخ کے ابتدائی انسان نے جب آگ دریافت کی، تو اسے نعمت سمجھا۔ یہی آگ تہذیب کی بنیاد بنی، مگر انسان کی تاریخ میں آگ اکثر آزمائش کا سبب بھی بنی۔ روم جلتا رہا، بغداد کے چراغ بجھتے رہے، دہلی کے کوچے راکھ میں بدل گئے، لندن آگ میں تباہ ہو گیا۔ ہر دور میں آگ نے انسان کو آئینہ دکھایا، اور انسان نے اکثر نظریں چرا لیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

آج بھی منظر وہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ شعلے جدید عمارتوں میں اٹھتے ہیں اور انسانی جانیں اخباری سرخیوں میں سمٹ جاتی ہیں۔ فیکٹری میں جلنے والا مزدور، شاپنگ مال میں لگی آگ یا ٹرین میں حادثہ، یہ صرف جسمانی نقصان نہیں، بلکہ اعتماد، وقت اور انسانیت کی راکھ ہے۔ شعلوں کے بعد جو خاموشی باقی رہتی ہے، وہ سب سے خوفناک ہوتی ہے، جس میں صرف سسکیاں اور سرکاری فائلوں کی کھڑکھڑاہٹ رہ جاتی ہے۔

جنگل جلیں تو پرندوں کے گھونسلے راکھ ہو جاتے ہیں، درخت جلیں تو ہوا یتیم ہو جاتی ہے۔ قدرت بھی انسان سے یہی سوال کرتی ہے…
“تم نے مجھے ویسے ہی جلایا جیسے ایک دوسرے کو جلاتے ہو۔”

اصل مسئلہ آگ نہیں، انسان کا رویہ ہے۔ جب انسانی جان کو لاگت اور منافع کے ترازو میں تولا جائے، جب قوانین صرف فائلوں میں زندہ رہیں، اور احتیاط غیر ضروری سمجھی جائے، تو شعلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

آتش زدگی۔۔۔۔ حادثہ ہے یا غفلت؟
آتش زدگی اکثر محض ایک حادثہ قرار دے دی جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی لاپرواہی اور نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ شعلے اچانک نہیں بھڑکتے، انہیں ناقص وائرنگ، بند ایمرجنسی راستے اور غیر فعال فائر الارم کا ایندھن ملتا ہے۔ کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں پیش آنے والے صنعتی، تجارتی اور رہائشی آتش زدگی کے واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں 17 جنوری 2026 کی رات بھڑکی آگ میں تصدیق کے مطابق 73 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دکانیں، کاروبار اور خاندان چند لمحوں میں تباہ ہو گئے۔ بند راستے اور ناقص حفاظتی انتظامات نے نقصان کو بڑھا دیا۔ لیکن سب سے بڑا نقصان وہ ہے جو واپس نہیں آتا، زندگیاں، کہانیاں، امیدیں۔

تاریخ ہمیں بار بار سبق دیتی ہے۔ روم کی عظیم آتش زدگی ہو یا ماضی کے جلتے شہر، ہر دور میں آگ نے نظم، احتیاط اور ذمہ داری کی اہمیت بتائی۔ مگر صدیوں بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں غفلت کو تقدیر اور سانحے کو حادثہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ آتش زدگی کو محض خبر نہ سمجھا جائے بلکہ ایک قومی اور انسانی مسئلہ تسلیم کیا جائے۔ قوانین پر سختی سے عمل، عمارتوں کی باقاعدہ جانچ، عوامی آگاہی اور انسانی جان کو اولین ترجیح دینا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں مستقبل کے سانحات سے بچا سکتا ہے۔

آگ کا سب سے خطرناک پہلو شعلے نہیں، بلکہ وہ خاموشی ہے جو ہر سانحے کے بعد انسان پر طاری ہو جاتی ہے۔ اگر ہم نے اس خاموشی کو توڑا نہیں، تو تاریخ یہی لکھے گی۔۔۔ یہ شہر آگ کی نذر نہیں بلکہ انسانیت کی بے حسی کی نذر ہو گئے۔

column in urdu, Fire and Humanity History in the Shadow of Flames

شگر ڈپٹی کمشنر شگر عارف حسین کی صدارت میں لینڈ ریفارم ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق اجلاس,الچوڑی اور سلدی میں قابل تقسیم بنجر اراضی کو عوامی میں تقسیم کرنے کے طریقے پر غور و خوص

حسن آباد سے اکادمی ادبیاتِ اسلام آباد پاکستان تک، آمینہ یونس، گلگت بلتستان، گانچھے

50% LikesVS
50% Dislikes

آگ اور انسانیت، شعلوں کے سائے میں تاریخ، یاسمین اختر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں