حادثے نہیں، پالیسی کی ناکامی اور عوامی غفلت . یاسمین اختر طوبیٰ، ریسرچ اسکالر گوجرہ پاکستان
کراچی ایک بار پھر دھماکے کی آواز سے لرز اٹھا۔ اطلاعات کے مطابق نارتھ ناظم آباد میں زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز فیڈرل بی ایریا اور لسبیلہ تک سنی گئی۔ ابتدائی خبروں اور سوشل میڈیا اطلاعات کے مطابق حیدری کے علاقے میں شہباز برگر کے سامنے واقع ایک عمارت میں سلنڈر پھٹنے کی اطلاع ہے۔ ابھی حتمی تحقیقات باقی ہیں، مگر ہر ایسا واقعہ ہمیں ایک ہی سوال کی طرف لے جاتا ہے: “یہ حادثات ہیں یا ہمارے نظام کی کمزوریاں؟”
گزشتہ ہفتہ کراچی کے علاقے سولجر بازار میں بھی ایک بلڈنگ میں گیس لیکج دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی سترہ اموات ہوئیں۔
چند روز قبل راولپنڈی کی ایک سرد صبح ایک گھر کی خاموشی نے اہلِ محلہ کو چونکا دیا تھا۔ دروازہ توڑا گیا تو اندر زندگی خاموش پڑی تھی۔ نہ آگ کے شعلے تھے، نہ دھماکے کی آواز، مگر گیس نے خاموشی سے سانسیں چرا لی تھیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں تھا بلکہ اس نظام پر سوالیہ نشان تھا جو برسوں سے وارننگز کے باوجود خود کو درست نہیں کر سکا۔
راولپنڈی میں گیس کی ترسیل Sui Northern Gas Pipelines Limited کے زیر انتظام ہے، جبکہ کراچی میں یہ ذمہ داری Sui Southern Gas Company کے سپرد ہے۔ ہر سال سردیوں میں احتیاطی اشتہارات نشر کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی علاقوں میں دہائیوں پرانی پائپ لائنیں، کمزور جوڑ اور پریشر کے مسائل شہریوں کو مستقل خطرے میں رکھتے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی کنکشن اور گیس پریشر بڑھانے کے لیے موٹریں لگانا ایک کھلا راز ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اپنی عملداری قائم نہیں کر سکتی تو ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کا کوئی مؤثر نظام موجود ہے؟ کیا گھریلو تنصیبات کی جانچ یقینی بنائی جاتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ واقعات محض حادثات نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامیاں ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ عوامی لاپرواہی بھی کسی سے کم نہیں۔ بند کمروں میں ہیٹر جلانا، ہلکی سی بو کو معمول سمجھ کر نظرانداز کرنا، غیر معیاری ریگولیٹر یا پائپ استعمال کرنا اور مستند مکینک کے بجائے سستی مزدوری کو ترجیح دینا،یہ سب وقتی سہولت دیتے ہیں مگر مستقل خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ہم احتیاط کو خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ زندگی کی ضمانت ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سانحات کو تقدیر کا لکھا مان کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ادارے ذمہ داری شہریوں پر ڈال دیتے ہیں اور شہری ہر کوتاہی حکومت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس باہمی الزام تراشی میں سب سے زیادہ نقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ رسمی بیانات سے آگے بڑھا جائے۔ پرانی گیس لائنوں کی مرحلہ وار تبدیلی، لازمی سیفٹی آڈٹ، غیر قانونی کنکشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور مستقل عوامی آگاہی مہم ناگزیر ہیں۔ اسکولوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے یہ شعور عام کیا جائے کہ گیس کی معمولی بو بھی خطرے کی گھنٹی ہے، اور ایک کھڑکی کھول دینا یا ہیٹر بند کر دینا جان بچا سکتا ہے۔
نارتھ ناظم آباد کا دھماکہ ہو یا کسی گھر کی خاموش اموات،یہ واقعات محض خبریں نہیں، تنبیہ ہیں۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے اور شہری اپنی عادات درست کریں تو یہ بے آواز قاتل بے اثر ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، ہر سرد رات کے بعد ایک اور صبح کسی اور دروازے پر دستک دے سکتی ہے اور ہم پھر اسے محض حادثہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں گے۔
column in urdu Failure and Public Negligence




