متوقع 28ویں آئینی ترمیم اور متنازعہ علاقوں کی حیثیت. جی ایم ایڈوکیٹ
راقم قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے، جب میڈیا میں یہ خبریں سنی کہ متوقع 28ویں آئینی ترمیم ہونے جا رہی ہے تو بےچین ہونا فطری ہے، کیونکہ ایسے حساس اور پیچیدہ موضوعات پر ہر فیصلہ مستقبل کی نسلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اور اپنی بساط اور فہم کے مطابق، میں نے یہ فرض سمجھا کہ نہ صرف ارباب اختیار کے سامنے درینہ مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کروں بلکہ عام عوام کو بھی قانونی پیچیدگیوں کو عام فہم انداز میں سمجھانے کی کوشش کروں، تاکہ قوم کسی ممکنہ نقصان کا شکار نہ ہو اور قوم اس اہم مواقع سے باوقار طریقے سے فائدہ اٹھا سکے، پاکستان میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے گرد جاری بحث محض ایک عددی اضافہ یا وقتی سیاسی مفاہمت کا مرحلہ نہیں بلکہ وفاقی ڈھانچے، مالیاتی توازن، صوبائی خودمختاری اور بالخصوص متنازعہ خطوں کی آئینی حیثیت سے متعلق ایک بنیادی آئینی سوال کی صورت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ ستائیسویں ترمیم کے بعد جب انتظامی و مالیاتی اصلاحات، نیشنل فنانس کمیشن، بلدیاتی نظام اور ممکنہ نئے صوبائی یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بات سامنے آئی تو گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی آئینی پوزیشن دوبارہ مرکزِ بحث بن گئی اور یہ سوال شدت سے ابھرا کہ کیا وفاق اپنے ان خطوں کو ایک واضح، باوقار اور پائیدار آئینی شناخت دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں؛ بعض حلقوں میں اسلام آباد، مغربی پنجاب، جنوبی پنجاب، بہاولپور، پوٹھوہار، کراچی، مہران (اندرونِ سندھ)، گوادر، خیبر اور ہزارہ جیسے ممکنہ نئے صوبائی یا انتظامی یونٹس کے قیام کی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے صوبوں کو براہ راست وفاق کے زیر نگرانی رکھا جائے گا. اگرچہ ان کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان موجود نہیں، تاہم اس تمام مباحثے نے وفاقی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے اور اسی تناظر میں اگر 28ویں آئینی ترمیم کو محض سیاسی ضرورت کے بجائے ایک جامع وفاقی اصلاح کے طور پر دیکھا جائے تو آئینِ پاکستان 1973 کے مختلف ابواب میں مربوط اور ہم آہنگ ترامیم ناگزیر ہوں گی۔ سب سے پہلے آرٹیکل 1، جو جمہوریہ اور اس کے علاقوں کی تعریف کرتا ہے، میں ایک خصوصی شق شامل کی جا سکتی ہے جس کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو مکمل صوبائی درجہ دیے بغیر “عبوری آئینی اکائیوں” کے طور پر تسلیم کیا جائے اور واضح طور پر درج کیا جائے کہ ان کی حیثیت مسئلۂ کشمیر کے حتمی تصفیے سے مشروط ہوگی تاکہ بین الاقوامی مؤقف اور داخلی آئینی تقاضوں میں تصادم پیدا نہ ہو، جبکہ اسی تسلسل میں آرٹیکل 2A اور آرٹیکل 4 تا 28 میں مذکور بنیادی حقوق کے اطلاق کو صراحت کے ساتھ ان خطوں تک توسیع دینا ضروری ہوگا تاکہ شہری حقوق کسی انتظامی حکم نامے کے بجائے براہِ راست آئینی تحفظ کے تحت حاصل ہوں۔ سیاسی نمائندگی کے باب میں آرٹیکل 51 اور 59 میں ترمیم کے ذریعے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستوں کی باقاعدہ شمولیت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے کیونکہ نمائندگی کے بغیر وفاقی شمولیت ادھوری رہتی ہے، جبکہ آرٹیکل 106 کی طرز پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلیوں کی آئینی حیثیت کو واضح کرنا بھی ضروری ہوگا؛ عدالتی تحفظ کے لیے آرٹیکل 175 اور 184(3) کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان اور متعلقہ عدالتی دائرۂ اختیار کو غیر مبہم انداز میں ان خطوں تک توسیع دینا ناگزیر ہے تاکہ وہاں کے شہری بھی وہی آئینی چارہ جوئی کے حقوق استعمال کر سکیں جو دیگر صوبوں کے شہریوں کو حاصل ہیں، کیونکہ عدالتی خلا کسی بھی وفاق میں بے چینی اور احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔ مالیاتی خودمختاری کے حوالے سے آرٹیکل 160 میں ترمیم کے ذریعے این ایف سی میں گلگت بلتستان اور ممکنہ طور پر آزاد کشمیر کی عبوری مگر باضابطہ شمولیت کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے، جس میں یہ تصریح ہو کہ یہ انتظام مسئلۂ کشمیر کے حتمی حل سے مشروط ہوگا، جبکہ آرٹیکل 161 اور 172 میں قدرتی وسائل کی ملکیت اور آمدن کی تقسیم کے حوالے سے یہ اصول درج کیا جا سکتا ہے کہ معدنیات، پانی، ہائیڈل پاور اور دیگر وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں پہلا حق متعلقہ خطے کی حکومت اور عوام کا ہوگا؛ اسی طرح آرٹیکل 141 تا 144 اور چوتھے شیڈول میں مناسب ترمیم یا ایک خصوصی شیڈول کے اضافے کے ذریعے وفاقی اور مقامی اختیارات کی تقسیم واضح کی جا سکتی ہے تاکہ قانون سازی کا دائرۂ اختیار غیر مبہم ہو اور انتظامی ابہام ختم ہو۔ زمین اور آبادی کے تحفظ کے تناظر میں آرٹیکل 23، 24 اور 15 کے ساتھ ایک عبوری حفاظتی شق شامل کی جا سکتی ہے جو متنازعہ حیثیت کے پیش نظر غیر معمولی آبادکاری یا demography میں تبدیلی کو مخصوص شرائط سے مشروط کرے تاکہ مقامی ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی شناخت محفوظ رہے، کیونکہ یہ پابندی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک عبوری آئینی تحفظ کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے؛ مزید برآں گلگت بلتستان کی اراضیات اور جغرافیائی حدود کے تحفظ کے لیے آئینی سطح پر واضح حدبندی اور تنازعات کے حل کا میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں خیبر پختونخوا کے ساتھ حدودی تنازعات موجود ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی انتظامی حکم نامے یا پالیسی کے ذریعے ان حدود میں رد و بدل ممکن نہ ہو۔ انتظامی توازن کے لیے آرٹیکل 90، 99 اور 148 کے تحت وفاق اور مقامی حکومتوں کے اختیارات کی نئی تعریف کی جا سکتی ہے تاکہ اختیارات کا ارتکاز وفاقی کابینہ یا مرکز کے بجائے مقامی منتخب حکومتوں کے پاس ہو، جبکہ وزیرِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کا تقرر متعلقہ خطوں سے کیا جانا حقیقی شراکت داری کی علامت ہوگا؛ اسی طرح آرٹیکل 140-A کے تحت بلدیاتی نظام کی آئینی ضمانت ان خطوں تک واضح طور پر توسیع دی جانی چاہیے تاکہ مقامی حکومتوں کو تحلیل یا معطل کرنے کا اختیار کسی غیر منتخب اتھارٹی کے پاس نہ ہو اور خود اختیاری نچلی سطح تک مؤثر انداز میں منتقل ہو۔ مزید برآں آئین میں ایک وضاحتی شق شامل کی جا سکتی ہے جس میں یہ صراحت ہو کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے متعلق تمام آئینی انتظامات اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور مسئلۂ کشمیر کے حتمی تصفیے سے مشروط ہوں گے اور ان کا مقصد صرف عبوری آئینی تحفظ اور شہری حقوق کی فراہمی ہے، نہ کہ تنازعے کی حتمی حیثیت کا تعین، تاکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی مؤقف کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ بار بار کے انتظامی تجربات، آرڈرز اور جزوی اصلاحات نے ان خطوں میں بے یقینی کی کیفیت کو جنم دیا ہے، جہاں ہر نئے پیکج کے ساتھ اس کی مدت اور پائیداری پر سوال اٹھتے ہیں؛ اس پس منظر میں ایک جامع، مربوط اور آئینی فریم ورک ہی اس بے چینی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اگر 28ویں آئینی ترمیم کو اس وسیع اور بالغ نظر وژن کے ساتھ ترتیب دیا گیا کہ متنازعہ حیثیت برقرار رہے مگر شہری حقوق مکمل ہوں، سیاسی نمائندگی بامعنی ہو، مالیاتی خودمختاری مؤثر ہو، عدالتی تحفظ غیر مبہم ہو، وسائل پرحق مقامی آبادی کا ہو اور وفاقی شمولیت نمائشی نہیں بلکہ حقیقی ہو، تو یہ ترمیم محض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ وفاقِ پاکستان کی آئینی بلوغت اور فکری پختگی کی علامت بن سکتی ہے؛ بصورتِ دیگر یہ ایک اور عارضی بندوبست ثابت ہوگی جو ابہام اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرے گی، جبکہ ایک مستحکم اور دور اندیش وفاق کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے حساس خطوں کو آئینی غیر یقینی میں معلق رکھنے کے بجائے واضح، شفاف اور پائیدار ضمانت فراہم کرے تاکہ وحدتِ ریاست اور مساوی شہری حقوق بیک وقت محفوظ رہ سکیں۔
جی ایم ایڈوکیٹ
column in urdu Expected 28th Constitutional Amendment
عمران خان کے سوا کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرأت نہیں، سہیل آفریدی




