column in urdu Eid al-Fitr 0

عید . آمینہ یونس، بلتستانی
رمضان کی مقدس ساعتیں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ لوگ مہنگائی کے بے رحم تھپڑ کھاتے، کبھی گرتے کبھی سنبھلتے، زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں۔ دنیا میں ہر طرف بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگلنے کے لیے منہ کھولے پانی کی سطح پر تیر رہی ہیں۔ صدیوں سے چلتا کاروبارِ زندگی کہیں تیزی سے، کہیں رک کر اور کہیں گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کو دیکھو تو آنکھیں اداس اور چہروں پر تھکن نمایاں نظر آتی ہے۔ مہنگائی، بے انصافی اور دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر کسی بھی حساس اور درد مند دل کو اداس رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ بڑے مسئلوں کے ساتھ چھوٹے موٹے مسائل بھی انسان کو مسلسل پریشانی میں رکھتے ہیں، جیسے چائے پانی کا ختم ہو جانا، گھر کے معمولی لین دین اور روزمرہ کی الجھنیں۔ پھر ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے جب انسان کچھ دیر کے لیے سب کچھ بھول کر صرف اسی لمحے میں جینے کی کوشش کرتا ہے۔ خود کو چند لمحوں کی راحت دیتا ہے، اپنی سوچوں اور مجبوریوں کو گویا کسی تجوری میں بند کر دیتا ہے، شکایتوں کی فائلیں الماری میں رکھ دیتا ہے، دوریوں کو سمیٹ لیتا ہے اور تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اسی مبارک ساعت کو عید کہتے ہیں۔ یہ رمضان میں بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے صلے میں اللہ کی طرف سے دیا ہوا وہ حسین تحفہ ہے جس کے آنے کی خوشی میں لوگ ٹوٹے ہوئے رابطے اور بچھڑے ہوئے رشتے پھر سے بحال کر لیتے ہیں۔ اسی لیے عید صرف نئے کپڑوں، میٹھوں اور خوشیوں کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، رنجشوں کو مٹانے اور امید کے چراغ پھر سے روشن کرنے کا نام ہے
عید . آمینہ یونس، بلتستانی

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Eid al-Fitr

بغیر تصدیق کے سنی سنائی باتوں پر عمل مت کریں، سردار احمد تبسم گڈانی

ضلع شگر میں بین المسالک ہم آہنگی اور یکجہتی کا خوبصورت مثال

اسلام آباد(پ ر) مسلم لیگ (ن) گانچھے کے رہنما آصف حسین ایڈووکیٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات

50% LikesVS
50% Dislikes

عید . آمینہ یونس، بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں