خواب سے خواہش تک: ایک فکری و عملی سفر. سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
انسانی زندگی محض سانس لینے اور وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ احساس، ادراک اور جستجو کا ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر کی ابتدا اکثر ایک خواب سے ہوتی ہے، ایک ایسا خواب جو کبھی نیند کی وادی میں دکھائی دیتا ہے اور کبھی بیداری کی حالت میں دل کے کسی گوشے میں چمک اٹھتا ہے۔ لیکن ہر خواب اپنی اصل معنویت تب پاتا ہے جب وہ ایک مضبوط خواہش میں ڈھل جائے۔ یہی “خواب سے خواہش تک” کا سفر دراصل انسان کی ترقی، کامیابی اور خود شناسی کی بنیاد ہے۔
خواب انسانی فطرت کا لازمی جزو ہیں۔ یہ وہ ابتدائی چنگاری ہیں جو ذہن میں ایک امکان کو جنم دیتی ہیں۔ ایک طالب علم کا بڑا انسان بننے کا خواب، ایک غریب کا خوشحال زندگی کا خواب، یا ایک فنکار کا اپنے فن کو پہچان دلانے کا خواب، یہ سب زندگی کے ابتدائی محرکات ہوتے ہیں۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر خواب محض دیکھ لینے سے حقیقت نہیں بنتا۔ خواب اگر عمل سے خالی ہوں تو وہ محض خیال آرائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
یہیں سے خواہش کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ خواہش دراصل خواب کی پختہ صورت ہے۔ جب کوئی خواب انسان کے دل و دماغ پر اس قدر اثر انداز ہو جائے کہ وہ اس کے لیے بے چین ہو جائے، اس کے حصول کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے لگے، تو وہ خواب ایک سنجیدہ خواہش میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی خواہش انسان کو حرکت دیتی ہے، اسے مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے اور اسے مسلسل آگے بڑھنے پر آمادہ رکھتی ہے۔
تاہم، ہر خواہش مثبت نتائج کی ضامن نہیں ہوتی۔ خواہش کی نوعیت اور اس کا مقصد بھی نہایت اہم ہوتا ہے۔ مثبت اور تعمیری خواہشات انسان کو بلندیوں تک لے جاتی ہیں، جبکہ منفی اور خود غرض خواہشات انسان کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے خوابوں اور خواہشات کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے۔ وہ خواب جو صرف ذاتی مفاد تک محدود ہوں، وقتی تسکین تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا اطمینان نہیں دیتے۔ اس کے برعکس وہ خواہشات جو اجتماعی بہتری، اخلاقی اقدار اور انسانی فلاح سے جڑی ہوں، وہی حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
خواب سے خواہش تک کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ اس میں رکاوٹیں، ناکامیاں اور آزمائشیں لازمی آتی ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان راستے میں تھک جاتا ہے، مایوسی اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اپنے خواب کو ادھورا چھوڑ دینے کا سوچنے لگتا ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اصل امتحان ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے خواب کو خواہش میں بدل کر اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، وہی تاریخ میں اپنا نام رقم کرتے ہیں۔ عزم، محنت اور صبر اس سفر کے وہ ستون ہیں جن کے بغیر کوئی بھی خواہش حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی۔
مزید برآں، اس سفر میں خود شناسی کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ ہر انسان کے خواب اور خواہشات مختلف ہوتے ہیں، اور ضروری نہیں کہ ہر خواہش ہر شخص کے لیے موزوں ہو۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے خوابوں کا تعین کرے۔ جب خواب حقیقت پسندانہ بنیادوں پر قائم ہوں اور خواہش ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو، تو کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
مختصراً یہ کہنا بجا ہوگا کہ “خواب سے خواہش تک” کا سفر دراصل ایک داخلی انقلاب کا نام ہے۔ یہ انسان کو سست خیالی سے نکال کر عملی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ خواب ہمیں راستہ دکھاتے ہیں، اور خواہش ہمیں اس راستے پر چلنے کی ہمت دیتی ہے۔ اگر ان دونوں کے ساتھ محنت، استقامت اور مثبت سوچ شامل ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ انسان اپنی منزل حاصل نہ کر سکے۔
پس، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خوابوں کو سنجیدگی سے لیں، انہیں خواہش میں ڈھالیں، اور پھر پوری لگن کے ساتھ ان کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو جائیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا انہی لوگوں کی ہے جو خواب دیکھتے ہی نہیں، بلکہ انہیں حقیقت بنانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔
column in urdu Dream to Desire
61 ہجری کا کربلا اور آج کا کربلا . ایک حسینی کردار اور ایک یزید کردار . محمد ابرہیم نوری
تعلیم کی اہمیت اور دیہاتی لڑکیاں، تہمینہ الیاس چھوربٹی




