روایت و جدت کے سنگم پر نسائی وقار کی صدا: نفیسہ حیا . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر، گوجرہ پاکستان
نفیس ناز سلیم خان، جو ادبی دنیا میں نفیسہ حیا کے نام سے معروف ہیں، عہدِ حاضر کی اُن معتبر شاعرات میں شمار کی جاتی ہیں جنہوں نے روایت اور جدّت کے سنگم پر اپنی انفرادی شناخت قائم کی۔ 6 ستمبر کو ناندیڑ میں آنکھ کھولی اور اس وقت احمد نگر کو مسکن بنائے ہوئے ہیں۔ اردو ادب میں ایم۔اے کی تعلیم نے ان کے فکری زاویوں کو استحکام بخشا، جبکہ آغازِ سخن میں مرحوم خلیل مظفر کی شاگردی نے ان کے شعری اسلوب میں شائستگی، فنی سلیقہ اور آہنگ کی پختگی پیدا کی۔
ان کی ادبی پرورش میں والدِ محترم اور شوہر سلیم یاور کی حوصلہ افزائی شامل رہی، جب کہ نذیر فتح پوری، انجم شافی اور تجمل زاہد جیسی ادبی شخصیات کی رفاقت نے ان کے فکر و فن کو وسعت دی۔ یہی ادبی مکالمہ ان کے شعری شعور کی تہہ داری کا سبب بنا۔
نفیسہ حیا بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں، تاہم حمد، نعت، نظم، افسانہ نگاری اور خاکہ نگاری میں بھی ان کا قلم رواں ہے۔ ان کے شعری سرمائے میں روحانیت، نسائی شعور، داخلی کرب اور علامتی پیکر تراشی ہم آہنگ ہو کر ایک مکمل فکری کینوس تشکیل دیتے ہیں۔
ان کے کلام میں عشقِ الٰہی محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک انقلابی باطنی قوت کے طور پر جلوہ گر ہوتا ہے:
جو عشقِ الٰہی میں کریں رقص دوانے
وہ آگ کے شعلوں پہ بھی بے خوف چلے ہیں
یہ اشعار صوفیانہ سرشاری اور ایمانی استقامت کا مظہر ہیں۔ یہاں عشق آزمائش سے گزر کر یقین کی روشنی بنتا ہے۔ ان کی شاعری میں روحانی وابستگی انسان کو حوصلہ، صبر اور وقار عطا کرتی ہے۔
ان کا تخلص “حیا” محض ادبی شناخت نہیں بلکہ فکری استعارہ ہے۔ ان کے ہاں حیا نسائی وجود کی علامت بن کر ابھرتی ہے:
برسوں سجائے رکھا تھا آنکھوں میں جو حیا
ٹوٹا وہ ایسا خواب کے بس چور ہوگیا
یہاں حیا ایک داخلی سرمایہ ہے، ایک خواب، ایک وقار، ایک شناخت۔ ان کی شاعری میں عورت کمزور نہیں بلکہ حساس، باوقار اور خود آگاہ ہستی ہے۔ احتجاج بھی ہے مگر تہذیب کے دائرے میں، خود داری بھی ہے مگر انکسار کے ساتھ۔
ان کی شاعری میں ذات کی تلاش ایک مسلسل عمل ہے۔ بکھراؤ اور خود احتسابی کے مراحل کو وہ نہایت سادگی سے بیان کرتی ہیں:
بکھری ہوں ریزہ ریزہ میں کچھ اس طرح حیا
خود کو سمیٹنے کی بھی ہمت نہیں مجھے
یہاں وجودی کرب اپنی انتہا پر ہے مگر اظہار میں شور نہیں۔ شکست کو وہ جمالیاتی قدر میں ڈھال دیتی ہیں، اور دکھ کو وقار عطا کرتی ہیں۔
نفیسہ حیا کے شعری منظرنامے میں آئینہ، آنسو، خواب، تصویر، رنگ اور زخم جیسی علامتیں بارہا سامنے آتی ہیں:
آئینے ٹوٹتے رہے، چہرے بکھر گئے
ٹکڑوں میں عکس اپنا مگر بے نشاں ملا
یہ علامتیں نفسیاتی کیفیات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ آئینہ خود شناسی کا استعارہ ہے، زخم داخلی تجربے کی علامت، اور خواب ایک مثالی دنیا کی جستجو۔ ان کی تصویریت قاری کے ذہن میں واضح مناظر تراش دیتی ہے۔
ان کی زبان سادہ، رواں اور تصنع سے پاک ہے۔ کلاسیکی بحور اور قوافی کی پاسداری ان کے روایت سے ربط کا ثبوت ہے، جب کہ عصری حسیت ان کے کلام کو موجودہ عہد سے جوڑتی ہے۔ داخلیت ان کے شعری مزاج کی بنیاد ہے، خارج کے ہنگاموں سے زیادہ باطن کی صدائیں ان کے ہاں اہم ہیں۔
ان کے یہاں جذبات کی شدت تہذیبی شائستگی میں ڈھلی ہوئی ملتی ہے،
درد ہے مگر شور نہیں،
احتجاج ہے مگر وقار کے ساتھ،
محبت ہے مگر خود داری کے حصار میں۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ “مخملی خواب” منظرِ عام پر آ چکا ہے، جس میں خوابوں کی نرمی، محبت کی لطافت اور باطن کی کسک یکجا ملتی ہے۔ دوسرا مجموعہ ‘گلِ حیا” زیرِ طبع ہے، جس سے فکری ارتقا کی نئی جہتوں کی امید وابستہ ہے۔ والدِ مرحوم کے انتقال کے بعد ان کا شعری مجموعہ دشتِ حیات شائع کرنا ان کی ادبی وابستگی اور خاندانی محبت کا اظہار ہے۔
وہ محض شاعرہ نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی سرگرم ہیں۔ بطور سیکریٹری تنظیم اردو ادب احمد نگر اور منتظمِ اعلیٰ خدمتِ نساء (سماجی، اصلاحی و امدادی تنظیم) وہ ادب اور سماج کے باہمی ربط کو مستحکم بنا رہی ہیں۔ قومی و بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت، آکاشوانی کے ادبی پروگراموں میں شمولیت، اور ملک و بیرونِ ملک کے رسائل میں اشاعت ان کی ادبی فعالیت کا ثبوت ہیں۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں “کویت بزمِ ادب کی لوحِ اعزاز”، “لوکمت سکھی گورو ایوارڈ”، “سماج بھوشن ایوارڈ”، “بیسٹ پوئٹری عالمی گروپ کا احمد فراز ایوارڈ”، “ادا جعفری ایوارڈ” اور “مسلم مراٹھی ساہتیہ سمیلن ایوارڈ” شامل ہیں۔
نفیسہ حیا کی شاعری ایک باوقار نسائی لہجے کی نمائندہ ہے جس میں عشق، صبر، خود داری، روحانیت اور داخلی کرب ہم آہنگ ہو کر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا تخلیقی سفر محض ذاتی واردات کا بیان نہیں بلکہ ایک عہد کی نسائی حسیت اور روحانی جستجو کی ترجمانی بھی ہے۔
ان کی غزل میں درد کی دھیمی آنچ ہے مگر ہنگامہ نہیں،
احساس کی گہرائی ہے مگر انتشار نہیں،
اور محبت ہے، مگر اپنی شناخت کے شعور کے ساتھ، یوں نفیسہ حیا عہدِ حاضر کی ان شاعرات میں شامل ہیں جن کا تخلیقی سفر نہ صرف ذاتی واردات کا بیان ہے بلکہ ایک عہد کی نسائی حسیت اور روحانی جستجو کی ترجمانی بھی ہے اور یہی ان کا امتیازِ خاص ہے۔
column in urdu Dignity at the Intersection
شگر ملک بھر کی طرح ضلع شگر میں بھی 23 مارچ یومِ پاکستان قومی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا




