column in urdu Defenders of the Frontiers 0

سرحدوں کے محافظ. منظور نظرؔ (اسکردو)
دنیا میں آج تک جس قوم نے بھی اس بے ثبات عالم میں ترقی و استحکام کی راہ پر اپنا لوہا منوایا اور کامیابی کی نئی منزلیں طے کی ہیں، اس نے بلندیوں کے کوہِ گراں سر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر ان قوموں کی ترقی کا راز جاننے کی کوشش کریں، تو ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ ان کی سرفرازی کا بنیادی سبب نوجوان طبقے کی صلاحیت، تعلیم، ہنر اور وہ روشن فکر ہے جو شاہراہِ ترقی پر پیش پیش رہتی ہے۔
وطن وہ مقدس سرزمین ہے جو انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا مسکن بن جاتی ہے، جہاں اس کی تربیت ہوتی ہے اور جو دنیا میں اس کی پہچان بنتی ہے۔ اپنی مٹی سے محبت اور دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن اس جذبے کو پروان چڑھانا اور وطن پر قربان ہونے کے لیے ہر لمحہ تیار رہنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ زبان سے حب الوطنی کا نعرہ لگانا جتنا آسان ہے، میدانِ عمل میں وقت آنے پر خود کو پیش کرنا اتنا ہی مشکل؛ مگر یہ سعادت انہی جوانوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس جذبے کی لاج رکھتے ہیں اور پکارے جانے پر سر پر کفن باندھ کر میدان میں اتر آتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے زندگی کے ہر طبقے کے افراد اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، مگر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خاموشی سے اپنے فرائض نہایت احسن انداز میں سرانجام دے رہا ہے۔ بلاشبہ ان کو دیگر شعبہ ہائے زندگی کی نسبت کہیں زیادہ کٹھن حالات کا سامنا ہوتا ہے، مگر وہ شکوہ کرنے کے بجائے شکر کے جذبات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ بہادر جوان ہیں جو ہماری حفاظت کی خاطر اپنے عزیزوں سے دور، سرحدوں پر سخت موسمی حالات اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ یہ جوان پاک وطن کی خوش حالی اور تحفظ کے لیے ہر چیلنج کے سامنے “بنیانٌ مرصوص” بن کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ان خاموش پاسبانوں کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے، کم ہے۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے جس کی قدر جتنی بھی کی جائے کم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ بیش بہا عطیہ ہے جو ہمیں کھلی فضا میں سانس لینے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ آزادی ہمارے آبا و اجداد کی بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے، لہٰذا اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اس کے تحفظ اور استحکام کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے سے دریغ نہ کریں۔ ہماری پہچان اسی مٹی سے ہے، اس لیے ان اداروں کا ساتھ دینا ہماری ذمہ داری ہے جو وطن کی بقا کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔
اگر دشمنانِ وطن آج ہماری سرحدوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرتے، تو یہ ان نوجوانوں کے حوصلے، عزم اور بے لوث جذبے کا نتیجہ ہے جو پاک فوج کے سپاہی بن کر اپنی جان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ قوم ان محافظوں کی ہمیشہ احسان مند رہے گی۔
آج کے دور میں جہاں وطنِ عزیز کو بیرونی خطرات کا سامنا ہے، وہیں کچھ شرپسند عناصر اسے اندرونی طور پر کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ بحیثیتِ پاکستانی ہمیں ان کے ناپاک عزائم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں رنگ، نسل، زبان اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر امن، استحکام اور ترقی کے نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے، تاکہ ہم سب مل کر ایک خوش حال اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کر سکیں، جس کا خواب ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Defenders of the Frontiers

شگر ڈپٹی کمشنر شگر عارف حسین کی زیرِ صدارت محکمہ برقیات شگر کے افسران اور ضلع کی تینوں تحصیلوں کے تحصیلداران کا ایک اہم اجلاس

دنیور میں استحکام پاکستان پارٹی کو بڑی تقویت مل گئی، جہاں درجنوں افراد نے باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔

والدین کی غفلت یا ٹیکنالوجی کا جال. محمد سکندر کونیسی

50% LikesVS
50% Dislikes

سرحدوں کے محافظ. منظور نظرؔ (اسکردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں