column in urdu Decline of Book Reading 0

کتب بینی کا زوال منظور نظرؔ
کہا جاتا ہے کتابیں ، قاری کو کبھی بھی دنیا کی کسی دشت میں تنہا نہیں چھوڑتیں اور ہمیشہ اُن کا سہارا بنی رہتی ہیں ۔ کتابوں سے ہی علم، فکر، شعور و آگہی کے ایسے ایسے دریچے کھلتے ہیں جس کو دیکھ کے صاحبِ بصیرت اور چشمِ فلک بھی انگشت بدندان ہوتے ہیں۔ بحرِ ظلمات اور یاس کی گپ تیرگی میں کتابیں ہی چراغِ امید بن کر روشن ہوتی ہیں ۔ پرانے وقتوں میں لوگوں کو جب کوئی نیا ہنر سیکھنا ہوتا ۔۔۔تو وہ اپنا دامن علم و شعور و آگہی کے موتیوں سے بھر لاتے اور ہر زاویے سے مستفید ہوتے، کتابوں کی خوشبو اُنہیں اُن کی منزل ِ مقصود تک لے کر جانے کا زادِ راہ ثابت ہوتی۔ زیست کی ہر کار زار سے وہ انہوں فکری بالیدگی، معاشرتی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ زندگی جینے کی سلیقہ سکھاتیں لیکن آج کل ہمارے ہاں کتب بینی کی روایت ناپید اور نایاب ہوتے نظر آرہی ہے سوشل میڈیا کی جانب بڑھتے رجحانات کے باعث جوپہلے کتابوں کو اپنا دوست سمجھتے تھے اب وہی لوگو ایسی اپنے لیے کارِ رقابت اور بارِ گراں سمجھنے لگے ہیں ایسی صورتِ حال میں جہاں کتب بینی اپنی آخری سانسیں لے رہی ہو وہاں آپ ہی بتائیں اس کا قصور وار کون ہے کیا آج کل کی کتابیں اس کا قصوار ہیں یا کوئی اور۔۔۔
میری ناقص رائے کے مطابق آج کی اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید دور میں جہاں مصنوعی ذہانت نے ہر طرف اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں ہر شخص اس کی طلسمات سے وجددمیں آیا ہوا ہے ایسے میں تو لوگوں کو خصوصاً ہمارے نو جوانوں کو کتابوں مطالعہ کرنے کی روایت کا ازسر نو اپنانے کی ضرورت ہے کیوں کی جن لوگوں کے اور مالکوں کے ترقی سے قصیدے اور گن گاتے نہیں تھکتے ، جس کی دیکھا دیکھی میں ہم بھی اپنے آپ کو ان کے جیسا بنانے پر تلے ہوئے ہیں اگر آپ ان کی کامیابی کا راز جاننے کی کوشش کرتے ہوئے چشمِ بصیرت سے دیکھے تو نظر آئیں گے وہ تو بہت پہلے سے، برسوں سے کتابوں کے مطالعے اور ان میں تحریر کردہ مشاورات پر قدم عمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے اور ابھی بھی پیچھے دیکھے بغیر دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن ہمارے جوان جس بے راہ روی شکار ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ میں سمجھتا ہوں ، ان کو زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ زندگی کی کڑواہت کے بارے بتانے والے اور سمجھانے والوں کی کمی ہے ۔ ہماری نئی نسل کے دلوں میں کتابوں کی محبت کی شمع جلانے میں کامیاب ہو گئے تو یوں سمجھے وطنِ عزیز کی ترقی کا ایک بہت بڑا سنگ میل ہم نے طے کر دیا۔ کتب بینی سے ہمارے نوجوان نسل کردار سازی، زندگی جینے کا سلیقے کے ساتھ ساتھ ان کو ایک ذمہ داری شہری بنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
کتابوں سے دوری کی ایک بڑی وجہ ہمارے ہاتھوں میں چمکتی سکرین بھی ہے۔ عالمی ڈیجیٹل رجحانات پر نظر رکھنے والے ادارے ‘ڈیٹا رپورٹل ‘ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، آج کے نوجوان روزانہ اوسطاً 9 سے 10 گھنٹے سکرین پر گزار رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے عادی افراد کا سکرین ٹائم 10 سے 14 گھنٹے تک بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ، عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ماہرین اس عمل کو سکرین ٹائم کو ذہنی دباؤ، بے خوابی اور فکری زوال کی بنیادی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ آج کل یہ المیہ ہے کہ جب کوئی کتاب پڑھنے بیٹھے تو دس منٹ میں نیند آنے لگتی ہے، لیکن اس کے برعکس سوشل میڈیا کے تارِ عنکبوت میں پھنس کر گھنٹوں سکرولنگ کرتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اب ذرا سوچئے! اگر یہی 10 سے 14 گھنٹے آپ اپنی کردار سازی، کتب بینی یا کوئی ہنر سیکھنے میں صرف کر دیں، تو جو دلی سکون اور فکری بالیدگی میسر آئے گی، اسے کوئی پیمانہ ناپ نہیں سکتا۔
لہذا کوشش کریں کتابوں کامطالعہ کی عادت کو اپنانے کی، کتابیں جھوٹ نہیں بولتی، کتابیں آپ کو زندگی کے اہداف کو حاصل کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگر چاہتے ہو وقت سے پہلے اپنی آنکھیں سلامت رہے تو سکرین ٹائم کم کیجیے اگر خواہش مند ہو سب کے سامنے آپ کی عزت وتوقیر ہو تو کتابیں کی طرف رخ موڑے کتابوں سے جو معلومات حاصل کرتے ہیں انہیں اپنے عزیز و اقارب میں بانٹیں کیوں کہ علم پھیلا نا بھی صدقہ جاریہ ہے ۔ کتابوں کی محبت کبھی آپ کو دھوکا نہیں دی گی ۔ ہمیشہ کتاب پڑھتے رہے علم کی پُر نورکرنوں سے جہانِ بے ثبات کو زوفشاں کرتے رہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Decline of Book Reading

گلگت بلتستان میں رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے موقع پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا

>اسکردو بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی کرفیو کے باعث تعلیمی و معاشی سرگرمیوں کی بندش پر تشویش کا اظہار

راولپنڈی بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن (بی ایس ایف) راولپنڈی/اسلام آباد کے زیرِ اہتمام تقریبِ حلف برداری اور افطار پارٹی کا انعقاد

50% LikesVS
50% Dislikes

کتب بینی کا زوال منظور نظرؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں